پچیسویں تاریخ : پچیس ۲۵؍ رجب ۱۸۳ھ میں حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام پچپن سال کی عمر میں بغداد میں شہید کئے گئے لہٰذا اس دن آل محمدؐ اور ان کے شیعوں کا غم تازہ ہو جاتا ہے۔
ستائیسویں شب : بعثتِ پیغمبرؐ کی رات ہے اور نہایت متبرک رات ہے۔ اس میں چند اعمال ہیں :
۱شیخؒ نے مصباح میں حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رجب میں ایک ایسی رات بھی ہے جو ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج چمکتا ہے اور وہ ۲۷؍ رجب کی رات ہے جس کی صبح پیغمبرؐ اسلام مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ میرے شیعوں میں سے عمل کرنے والے اس شب میں ساٹھ سال کے عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے کسی نے عرض کیا کہ اس رات کا عمل کیا ہے تو فرمایا کہ جب نماز عشاء بجا لا چکے اور بستر راحت پر چلا جائے تو آدھی رات سے قبل بیدار ہو کر بارہ رکعت نماز بجا لائے ۔ ہر رکعت میں حمد اور چھوٹے مفصل سوروں میں سے کوئی ایک سورہ پڑھے۔ مفصل سورۂ محمد سے آخر قرآن تک ہے ۔جب ہر دو رکعت پر سلام کے ساتھ نمازوں سے فارغ ہو جائے تو بیٹھ کر حمد کو سات مرتبہ اور سورة الفلق سورة الناس کو سات مرتبہ اور قل ھو اللہ احد اور قل یا ایہا الکفرون میں سے ہر ایک کو سات مرتبہ پڑھے اور انا انزلناہ اور آیت الکرسی کو بھی سات مرتبہ پڑھے اور ان سب کے بعد یہ دعا پڑھے ۔
حمد اس خدا کی ہے جس نے کوئی فرزند نہیں بنایا
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ
اور جس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں ہے
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ
اور اس کا کوئی ایسا مددگار نہیں ہے جو اس کی عزّت میں اضافہ کرے
وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا
اور اس کو بزرگی کے ساتھ یاد کرو۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ بِمَعَاقِدِ عِزِّكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عزّت کی حقیقت کے ساتھ
عَلٰى اَرْكَانِ عَرْشِكَ
جو تیرے عرش کے پایہ پر ہے
وَ مُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ
اور تیری کتاب کے انتہاءِ رحمت کے حوالہ سے
وَ بِاسْمِكَ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ
تیرے نام کے واسطہ سے جو بہت بڑا اور عظیم ہے
وَ ذِكْرِكَ الْاَعْلَى الْاَعْلَى الْاَعْلٰى
اور تیرے ذکر کے واسطہ سے جو بلند و بلند و بلند تر ہے
وَ بِكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ
اور تیرے مکمل کلمات کے ذریعہ کہ
اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
تو درود نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر
وَ اَنْ تَفْعَلَ بِيْ مَا اَنْتَ اَهْلُهُ۔
اور میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کر جس کا تو اہل ہے۔
پھر جو دعا چاہے طلب کرے اور شب میں غسل بھی مستحب ہے اور پندرہویں رجب کی رات میں جو نماز گذر چکی ہے وہ اس شب میں بھی پڑھی جاتی ہے۔