علماء اہلِ سنّت ابن بطوطہ کا بیان
۲زیارت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام جو اس رات کے بہترین اعمال میں ہے اور اس رات میں حضرت کی تین زیارتیں ہیں جو زیارت کے باب میں انشاء اللہ آئیں گی۔ واضح رہے کہ ابو عبداللہ محمد بن بطوطہ جو علماء اہل سنت میں ہیں اور چھ سو سال قبل گذرے ہیں انھوں نے اپنے سفر نامہ میں جو سفر نامۂ ابن بطوطہ کے نام سے مشہور ہے اپنے مکہ معظمہ سے نجف اشرف وارد ہونے کا تذکرہ کیا ہے اور روضہ و قبر امام امیر المومنین حضرت علیؑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شہر کے تمام لوگ رافضی ہیں اور اس روضہ سے بہت سی کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کی رات جس کو وہ لوگ لیلتہ المحیا کہتے ہیں اس میں عراقین، خراسان ، فارس، روم سے مشلول ، مفلوج اور زمین گیر افراد کولاتے ہیں اور ان میں سے تقریباً تیس چالیس افراد جمع ہو جاتے ہیں۔ عشاء کے بعد ان مبتلا افراد کو ضریح مقدس کے پاس لا کر جمع کردیتے ہیں اور لوگ ان کے اچھے ہونے اور کھڑے ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ پھر بعض لوگ ان میں سے نماز میں اور بعض ذکر اور بعض تلاوت قرآن اور بعض روضہ کو دیکھنے میں مشغول رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آدھی رات یا دو تہائی رات گذر جاتی ہے اس وقت یہ تمام مریض لوگ جو حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے صحیح اور تندرست حالت میں اٹھ جاتے ہیں اور ان میں کسی قسم کا مرض نہیں ہوتا ہے اور کہتے ہیں۔
یہ امر بہت مشہور ہے لیکن میں نے اس رات کو نہیں دیکھا ہے البتہ موثق ومعتبر لوگوں سے سنا ہے اور پھر اس مدرسہ کو دیکھا جو آنحضرت کا مہمان خانہ ہے کہ تین زمین گیر افراد جو حرکت کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے، ایک روم کا رہنے والا تھا، دوسرا اصفہان کا اور تیسرا خراسان کا ،میں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ کیوں ٹھیک نہیں ہوئے اور یہاں رہ گئے تو انھوں نے کہا کہ ستائیسویں رات تک ہم یہاں نہیں پہنچے اور اب ہم اگلے سال تک رہیں گے تاکہ شفا پا جائیں۔ اس رات میں شہر کے اکثر لوگ جمع ہوتےہیں اور دس دن تک ایک بڑ ابازار لگا رہتا ہے۔
مؤلف : اس امر میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ جو معجزات اور کرامات ان مشاہد مقدسہ سے ظہور میں آئے ہیں وہ تو اتر کو پہنچے ہوئے ہیں اور ان معجزات کا احصاء بھی نہیں ہو سکتا ہے اور گذشتہ ماہ شوال ۱۳۴۳ھ میں حرم مطہر امام ضامن ثامن حضرت علی رضا علیہ السلام میں بھی تین عورتوں میں شفا پائی ہے جو سب کی سب فالج وغیرہ کی بنا پر زمین گیر ہو گئیں تھیں اور طبیب اور ڈاکٹر حضرات ان کے علاج سے عاجز تھے۔ یہ معجزات ہر شخص پر اسی طرح واضح ہیں جیسے سورج کا آسمان پر ہونا مثلاً نجف اشرف کے دروازوں کا عربوں کے لئے کھل جانا اور یہ بات اتنی واضح تھی کہ ان عورتوں کے ڈاکٹروں نے بھی تصدیق کی اور اگر ہمارا مقصود اختصار نہ ہوتا اور اس وقت نا مناسب نہ ہوتا تو ہم اس کو ضرور نقل کرتے اور شیخ حر عاملی نے اپنے ارجوزہ میں بہت عمدہ فرمایا ہے ؎