EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
فضیلت روز اوّل شعبان
پہلی تاریخ اس دن کے روزہ کی بڑی فضیلت ہے کہ امام صادقؑ سے روایت ہے کہ جو شخص ماہ شعبان کی پہلی تاریخ کو روزہ رکھے گا بہشت اس کے لئے لازم ہے۔ سید بن طاؤسؒ نے رسول اکرمؐ سے بیشمار ثواب نقل کیا ہے ماہ شعبان کے ابتدائی تین روزوں کے لئے ۔ اور اس کی راتوں میں دو رکعت نماز کے لئے۔ جس میں ہر رکعت میں سورۂ حمد اور گیا رہ مرتبہ قل ھو اللہ ہے۔
تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام میں ماہ شعبان اور اس کے پہلے دن کی فضیلت کے بارے میں مفصل روایت ہے جس کا ترجمہ ہمارے استاد ثقۃ الاسلام نوری نے کلمہ طیبہ کے آخر میں نقل کیا ہے۔ روایت بہت طویل ہے اور یہاں اس کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے کہ امیر المومنین ؑ ماہ شعبان کی پہلی تاریخ کومسجد میں ایک جماعت کے پاس سے گذرے جو قضا و قدر کے بارے میں گفتگو کر رہی تھے اور بلند آواز سے بحث کر رہی تھی۔ حضرت نے سلام کیا۔ ان لوگوں نے جواب دیا اور تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے اور حضرت کو بیٹھنے کی دعوت دی۔
آپ نے کوئی توجہ نہیں فرمائی اور فرمایا کہ اے وہ لوگو! جو ایسی چیز میں بحث کرتے ہو جس کا کوئی فائدی نہیں ہے۔ کیا تم کو نہیں معلوم ہے کہ اللہ کے ایسے بندہ بھی ہیں جنھیں خوف خدا نے ساکت بنا دیاہے۔ حالانکہ وہ بولنے سے عاجز نہیں ہیں۔ بلکہ وہ عظمت خداکا تصور کرتے ہیں تو ان کی زبان میں گنگ ہو جاتی ہیں۔ دل بے چین ہو جاتے ہیں عقلیں مبہوت ہو جاتی ہیں۔عظمت و جلال و کبریائی خدا کی وجہ سے۔اس کے بعد جب وہ ہوش میں آتے تو خدا کی طرف رخ کر کے پاکیزہ عمل انجام دیتے ہیں۔ اپنے نفس کو خطاکار تصور کرتے ہیں حالانکہ وہ خطاکار نہیں ہوتے ہیں مگر وہ خدا کے لئے مختصر اعمال پر راضی نہیں ہوتے ہیں اور اپنے عمل کو زیادہ نہیں سمجھتے ہیں۔
مسلسل عمل کرتے رہتے ہیں۔ جب ان کو دیکھو گے تو حالت عبادت میں لرزاں نظر آئیں گے۔ تم لوگ کہاں ہو جو ان باتوں میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔ کیا تمہیں نہیں معلوم ہے کہ ہو شیار ترین انسان وہی ہے جس کی گفتگو کم اور جاہل ترین وہی ہے جو مہمل باتیں کرتا رہے۔ اے تازہ عمل کرنے والوں۔ آج ماہ شعبان کی پہلی تاریخ ہے۔ پروردگار نے اس کا نام شعبان اس لئے رکھا ہے کہ اس میں نیکیوں کے شعبے منتشر ہو جاتے ہیں اور نیکیوں کےدروازہ کھل جاتے ہیں لہٰذا تم ان نیکیوں کو حاصل کرو اور ابلیس بھی اپنے شر اور بلاؤں کے شعبوں کو منتشر کر دیتا ہے لہٰذا کوشش کرو کہ اس کی گمراہی میں مبتلا نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ ابلیس کے شعبوں سے متمسک ہو جاؤ اور نیکیوں سے محروم رہ جاؤ۔
آج ماہ شعبان کی پہلی تاریخ ہے۔ اس کے خیر کے شعبوں میں نماز، روزہ، زکات، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، والدین کے ساتھ اور اقارب کے ساتھ اور ہمسایہ کے ساتھ نیکی، اس کی اصلاح۔ فقراء و مساکین پر صدقہ وغیرہ شامل ہیں۔ دیکھو ان باتوں میں بحث نہ کرو جن کا تم سے مطالبہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ بحث کرنے سے روکا گیا ہے کہ تم راز خدا کو نہیں سمجھ سکتے ہو اور قضا و قدر میں زیادہ بحث کرو گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔
اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ پروردگار نے اپنے عبادت گذار بندوں کے لئے آج کے دن کیا ثواب رکھا ہے تو تم یقیناً اپنے کو ان بحثوں سے باز رکھتے اور بہترین عمل شروع کر دیتے جس کا خدا نے مطالبہ کیا ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا امیر المومنینؑ وہ کیا ہے جس کا خدا نے مطالبہ کیا ہے اور عبادت گذاروں کے لئے مہیا کیا ہے تو حضرت نے اس لشکر کے قصہ کو نقل کیا جس کو رسول اکرمؐ نے کفار سے جہاد کے لئے بھیجا اور اس پر دشمنوں نے رات کے وقت حملہ کر دیا۔ رات بھی انتہائی تاریک تھی مسلمان سو رہے تھے۔ سوائے زید بن حارثہ، عبداللہ بن رواحہ، قتادہ بن نعمان وقیص بن عاصم منقری کے کوئی بیدار نہ تھا اور یہ وہ افراد تھے جو مشغول نماز و تلاوت قرآن تھے۔ دشمنوں نے مسلمانوں پر تیر برسانا شروع کر دیئے جب کہ مسلمان دشمنوں کو اندھیرے میں دیکھ بھی نہیں سکتے تھے کہ اپنے کو بچا سکیں۔
قریب تھا کہ لشکر ہلاک ہو جائے کہ ناگاہ ان چند افراد کے چہرے سے ایسا نو ر ساطع ہوا کہ مسلمانوں کے لشکر میں روشنی پھیل گئی اور ان میں طاقت پیدا ہو گئی۔ تلوار کھینچ کر میدان میں آگئے اور دشمنوں کو تہِ تیغ کر دیا اور اسیر بھی کر لیا۔ جب پلٹ کر آئے اور رسول اکرمؐ سے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ نور تمہارے ان بھائیوں کا نور تھا جنھوں نے ماہ شعبان کی پہلی کو عمل کیا۔ اس کے بعد ہر ایک نے اپنے عمل کا ذکر کیا یہاں تک کہ فرمایا کہ جب روز اول شعبان ہوتا ہے تو ابلیس اپنے لشکروں کو زمین کے اطراف میں پھیلا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کوشش کرو کہ بندگان خدا کو اپنی گرفت میں لے لو اور دوسری طرف پروردگار اپنے ملائکہ کو زمین و اطراف زمین میں بھیج دیتا ہے اور انھیں حکم دیتا ہے کہ میرے بندوں کو بچاؤ اور انھیں نیکیوں کی طرف رغبت دو۔ جو لوگ مان لیتے ہیں وہی نیک بخت ہوتے ہیں اور جو سرکشی کرتے ہیں وہ لشکر ابلیس میں شامل ہو جاتے ہیں۔
خداوند عالم ماہ شعبان کی پہلی تاریخ کو حکم دیتا ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں اور درخت طوبیٰ اپنی شاخوں کو لوگوں پر پھیلا دیں اور اس کے بعد منادی پروردگار آواز دیتا ہے کہ اےبندگان خدا یہ درخت طوبیٰ کی شاخیں ہیں لہٰذا ان سے وابستہ ہو جاؤ تاکہ تمہیں جنت تک پہنچا دیں اور دیکھو دوسری طرف درخت زقوم کی شاخیں ہیں۔ ہوشیار رہنا کہیں یہ تمہیں جہنم تک نہ پہنچا دیں۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ قسم اس رات کی جس نے مجھے رسول بنایا کہ جو شخص اس دن میں نیکی کے کسی دروازے میں داخل ہوا گویا درخت طوبیٰ کی شاخ سے وابستہ ہو گیا جو اسے کھینچ کر بہشت تک لے جائے گی اور جو شخص برائی کے کسی دروازے میں داخل ہو گیا گویا درخت زقوم کی شاخ سے وابستہ ہو گیا اور وہ اسے جہنم کی طرف لے جائے گی۔
اس کے بعد رسولؐ خدا نے فرمایا کہ جس شخص نے اس دن خدا کے لئے کوئی مستحبی نماز پڑھی وہ گویا اس درخت سے معلق ہو گیا اور جس شخص نے اس روز کوئی روزہ رکھا وہ بھی اس درخت سے وابستہ ہو گیا اور جس شخص نے زن وشوہر کے درمیان صلح کرائی یا باپ بیٹے یا عزیزوں میں یا پڑوس میں مردو زن میں یا اجنبی مرد و عورت میں صلح کرائی وہ بھی اس درخت سے معلق ہو گیا اور جس شخص نے کسی کی پریشانی میں کمی کر دی وہ بھی اس درخت سے معلق ہو گیا اور جس شخص نے اپنے حساب میں غور کیا اور دیکھا کسی پرانے قرضہ کو جس کا طلبگار اس سے مایوس ہو چکا ہے اور پھر اسے ادا کر دیا تو وہ بھی اس درخت سے لپٹ گیا اور جس شخص نے کسی یتیم کی کفالت کی وہ بھی اس درخت سے لپٹ گیا اور جس شخص نے کسی نادان کو مومن کی آبرو سے باز رکھا وہ بھی اس درخت سے وابستہ ہو گیا اور جس شخص نے قرآن یا اس کے کچھ حصہ کو پڑھ لیا وہ بھی اس درخت لٹک گیا اورجس شخص نے اللہ کو یاد کیا یا اس کی نعمتوں کو شمار کر کے شکر کیا وہ بھی اس درخت سے لٹک گیا اور جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ بھی اس درخت سے لٹک گیا اور جس شخص نے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ نیکی کی وہ بھی اس درخت سے لٹک گیا اور جس شخص نے کسی غضب نا ک کیاہو اور آج اس کو راضی کر لے وہ بھی اس درخت سے لٹک گیا اور جو جنازہ کی تشیع کرے وہ بھی اس درخت سے لٹک گیا اور جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے وہ بھی اس درخت سے لٹک گیا اور جو آج کے دن کسی کارِ خیر کو انجام دے وہ بھی اس درخت سے لٹک گیا۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام ؐ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے کہ جس شخص نے شر کی قسم یا کسی گناہ کا آج کے روز ارتکاب کیا وہ درخت زقوم کی کسی نہ کسی شاخ سے لٹک گیا اور وہ اسے جہنم کی طرف لےجانے والی ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ مجھ کو پیغمبر بنایا ہے کہ شخص نے اس دن اپنی واجب نماز میں کوتاہی کی اور اس کو ضائع کر دیا وہ درخت زقوم کی شاخ سے لٹک گیا اور جس شخص کے پاس کوئی کمزور فقیر آیا اور اس نے اس کی حالت کو جانتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ اس کی حالت کے بدلنے پر بغیر کسی ذاتی نقصان کے قادر ہے اور دوسرا کوئی یہ کام کرنے والا نہیں ہے اس کو چھوڑ دے اور اس کا ہاتھ نہ تھامے تو وہ بھی درخت زقوم کی شاخ سے لٹک گیا اور جس شخص سے کوئی غلط کار انسان عذر کرے اور یہ اس کو اس کی برائی سے زیادہ سزا دیدے اور اس کے عذر کو قبول نہ کرے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص شوہر و زوجہ کے درمیان یا باپ اور اولاد کے درمیان یا عزیزوں کے درمیان یا پڑوسیوں کے درمیان یا دوستوں کے درمیان یا بہنوں کے درمیان جدائی ڈال دے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص کسی تنگ دست پر اس کی حالت کو جانتے ہوئے سختی کرے اور اس کے مصائب میں اضافہ کر دے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جس شخص پر قرضہ ہو اور وہ اس کا انکار کر کے زیادتی کرے اور کوشش کرے کہ قرضہ کو باطن کردے وہ بھی درخت زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص کسی یتیم پر ظلم کرے یا تکلیف دے یا اس کے مال کو برباد کر دے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص کسی مومن کی عزت کو برباد کرے اور لوگوں کو اس پر آمادہ کرے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جو اس طرح گاناگائے کہ اس کے گانے سے لوگ گناہوں پر آمادہ ہو وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص بیٹھ کر جنگوں میں اپنے برے سلوک کو شمار کرے اور بندوں پر اپنے ظلم و ستم کو یاد کر کے فخر کرے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جس کا پڑوسی بیمار ہو اور وہ اسے معمولی سمجھتے ہوئے عیادت نہ کرے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جس کا پڑوسی مر گیا اور اس نے نماز جنازہ کی مشایعت نہ کی اس کو ذلیل سمجھتے ہوئے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص مصیبت زدہ کو ذلیل کہتے ہوئے اس سے روگردانی کرے اور اس پر ظلم کرے وہ بھی درخت زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کا عاق ہو گیا وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا اور جو شخص ماں باپ کا عاق رہا اور انھیں قادر ہونے باوجود خوش نہ کرے وہ بھی شاخ زقوم سے لٹک گیا۔
اسی طرح کوئی شخص بھی اگر کوئی برائی کرے تو وہ شاخ زقوم سے لٹک گیا۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے کہ درخت طوبیٰ کی شاخوں سے لٹک جانے والے جنت کی طرف بلند ہوتےہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی جانب کی اور کچھ مسکرائے اور پھر نگاہ زمین پر ڈالی اور پیشانی پر آثار ناراضگی نمایاں ہو گئے اور اصحاب کو دیکھ کر فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمدؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے کہ میں نے درخت طوبیٰ کو بلند ہوتے دیکھاہے اور ان لوگوں کو جنت کی طرف بلند کرتے دیکھا ہے جو اس کی ایک شاخ یا کئی شاخوں سے اپنی اطاعت کے لحاظ سے لپٹے ہوئے تھے۔
چنانچہ جب میں نے زید بن حارثہ کو اس کی کئی شاخوں سے لپٹا ہوا دیکھا کہ وہ شاخیں اسے جنت کے اعلیٰ علیین کی طرف لے جا رہی ہیں تو ہنس پڑا اور خوش ہو گیا اور پھر میں نے زمین کی طرف نگاہ کی تو قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں نے زقوم کے درخت کو دیکھا کہ اس کی شاخیں نیچے کی طرف جا رہی ہیں اور ان لوگوں کو بھی دیکھا جو اس کی ایک شاخ یا کئی شاخوں سے اپنی نافرمانی کی وجہ سے چمٹے ہوئے تھے اور وہ انھیں جہنم کی طرف لے جارہی تھیں اور میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک شاخ سے اور کچھ لوگ دو شاخوں یا چند شاخوں سے لپٹے ہیں۔ اور میں نے بعض منافقوں کو دیکھا کہ زیادہ شاخوں سے لٹکے ہوئے ہیں اور وہ انھیں جہنم کے آخری طبقہ کی طرف لے جارہی ہیں۔ اس وجہ سے مجھ پر آثار کبیدگی ظاہر ہو گئے اور میرا چہرہ متغیر ہو گیا اور پیشانی پر شکن آ گئی۔)