سلام ہو آپ پر اے ابو عبداللہؑ!
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں
جو شخص جہاں بھی ہے اسی طریقے سے حضرت کی زیارت کر سکتا ہے اور امید ہے کہ اسے حج و عمرہ کا ثواب دیا جائے گا۔ ہم باب زیارات میں اس رات کی مخصوص زیارت کا بھی ذکر کریں گے۔
۴یہ دعا پڑھے جس کو شیخ طوسیؒ اور سید بن طاؤس ؒ نے نقل کیا ہے اور جو بمنزلۂ زیارت امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہے۔
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ لَيْلَتِنَا [هٰذِهِ] وَ مَوْلُوْدِهَا
خدایا آج کی رات اور اس کے مولود کے حق کا واسطہ
وَ حُجَّتِكَ وَ مَوْعُوْدِهَا
تیری حجّت اور اس رات کے موعود کا واسطہ
الَّتِيْ قَرَنْتَ اِلٰى فَضْلِهَا فَضْلًا
جس کی فضیلتوں میں تو نے مسلسل اضافہ کیا ہے
فَتَمَّتْ كَلِمَتُكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا
یہاں تک کہ تیرا کلمۂ صداقت اور عدالت کے ساتھ مکمل ہوگیا
لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِكَ
اور اب تیرے کلمہ کو کوئی بدل نہیں سکتا ہے
وَ لَا مُعَقِّبَ لِاٰيَاتِكَ
اور کوئی تیری آیات کی تعقیب نہیں کرسکتا ہے۔
نُوْرُكَ الْمُتَاَلِّقُ
تیرا نور روشن،
وَ ضِيَاۤؤُكَ الْمُشْرِقُ
تیری ضیاء درخشندہ،
وَ الْعَلَمُ النُّوْرُ فِيْ طَخْيَاۤءِ الدَّيْجُوْرِ
تیرا پرچم اندھیری راتوں میں روشنی بخش،
الْغَاۤئِبُ الْمَسْتُوْرُ
وہ تیرا بندہ جو نگاہوں سے غائب اور پس پردہ ہے
جَلَّ مَوْلِدُهُ وَ كَرُمَ مَحْتِدُهُ
جس کی ولادت جلیل اور جس کی اصل عظیم ہے۔
وَ الْمَلَاۤئِكَةُ شُهَّدُهُ
ملائکہ اس کے گواہ،
وَ اللّٰهُ نَاصِرُهُ وَ مُؤَيِّدُهُ
اللہ اس کا مددگار اور تائید کرنے والا ہے۔
اِذَا اٰنَ مِيْعَادُهُ وَ الْمَلَاۤئِكَةُ اَمْدَادُهُ
جب اس کا وقت معیّن آجائے اور ملائکہ اس کے مددگار ہوں۔
سَيْفُ اللّٰهِ الَّذِيْ لَا يَنْبُوْ
وہ اللہ کی وہ تلوار ہے جو اچٹتی نہیں ہے۔
وَ نُوْرُهُ الَّذِيْ لَا يَخْبُوْ
وہ نور ہے جو بجھنے والا نہیں ہے۔
وَ ذُوْ الْحِلْمِ الَّذِيْ لَا يَصْبُوْ
وہ صاحبِ ہوش ہے جو بہکنے والا نہیں ہے۔
مَدَارُ الدَّهْرِ
زمانے کا دار و مدار،
وَ نَوَامِيْسُ الْعَصْرِ
ہر دور کے ناموس کا ذمّہ دار
وَ وُلَاةُ الْاَمْرِ
ولی امر
وَ الْمُنَزَّلُ عَلَيْهِمْ مَا يَتَنَزَّلُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ،
جس پر فرشتے شبِ قدر میں نازل ہوتے ہیں،
وَ اَصْحَابُ الْحَشْرِ وَ النَّشْرِ
صاحبانِ حشر و نشر،
تَرَاجِمَةُ وَحْيِهِ
وحی کے ترجمان،
وَ وُلَاةُ اَمْرِهِ وَ نَهْيِهِ
امر و نہی کے ذمّہ دار ہیں۔
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰى خَاتِمِهِمْ وَ قَاۤئِمِهِمُ
خدایا اپنے ان بندوں کے خاتم اور قائم پر رحمت نازل فرما
الْمَسْتُوْرِ عَنْ عَوَالِمِهِمْ
جس کو عالمین کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھا ہے۔
اَللّٰهُمَّ وَ اَدْرِكْ بِنَاۤ اَيَّامَهُ
مالک ہمیں ان کے دورانِ ظہور
وَ ظُهُوْرَهُ وَ قِيَامَهُ
اور ان کے قیام تک باقی رکھنا
وَ اجْعَلْنَا مِنْ اَنْصَارِهِ
اور ان کے انصار میں قرار دینا۔
وَ اقْرِنْ ثَارَنَا بِثَارِهِ
ہمارے انتقام کو ان کے انتقام سے ملا دینا
وَ اكْتُبْنَا فِيْۤ اَعْوَانِهِ وَ خُلَصَاۤئِهِ
اور ہمیں ان کے مددگاروں اور مخلصین میں لکھ لینا
وَ اَحْيِنَا فِيْ دَوْلَتِهِ نَاعِمِيْنَ
اور ان کی حکومت میں سکون کے ساتھ زندہ رکھنا
وَ بِصُحْبَتِهِ غَانِمِيْنَ
تا کہ ان کی صحبت کا شرف حاصل کرسکیں
وَ بِحَقِّهِ قَاۤئِمِيْنَ
اور ان کے حق کو ادا کرسکیں
وَ مِنَ السُّوْۤءِ سَالِمِيْنَ
اور ہر برائی سے محفوظ رہ سکیں
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
یا ارحم الراحمین۔
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
حمد اس اللہ کے لیے ہے جو ربّ العالمین ہے۔
وَ صَلَوَاتُهُ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ
صلوات ہمارے آقا محمدؐ
خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ وَ الْمُرْسَلِيْنَ
خاتم النبیین و مرسلین
وَ عَلٰى اَهْلِ بَيْتِهِ الصَّادِقِيْنَ
اور ان کے اہل بیت صادقینؑ پر
وَ عِتْرَتِهِ النَّاطِقِيْنَ
اور ان کی عترتِ ناطقین پر
وَ الْعَنْ جَمِيْعَ الظَّالِمِيْنَ
اور لعنت ہو تمام ظالمین پر۔
وَ احْكُمْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُمْ
خدایا ہمارے اور ان ظالموں کے درمیان تو ہی فیصلہ کرنا کہ
يَاۤ اَحْكَمَ الْحَاكِمِيْنَ
تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
۵شیخ طوسیؒ نے اسمائیل بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے شب نیمۂ شعبان کے لئے مجھے یہ دعا تعلیم کی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ
خدایا تو حی، قیّوم،
الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ
علیُّ، عظیم،
الْخَالِقُ الرَّازِقُ
خالق، رازق،
الْمُحْيِيْ الْمُمِيْتُ
زندگی بخش، موت دینے والا،
الْبَدِيْۤءُ الْبَدِيْعُ
ایجاد کرنے والا،
لَكَ الْجَلَالُ
صاحبِ جلال،
وَ لَكَ الْفَضْلُ
صاحبِ فضل،
وَ لَكَ الْحَمْدُ
صاحبِ حمد،
وَ لَكَ الْمَنُّ
صاحبِ احسان،
وَ لَكَ الْجُوْدُ
صاحبِ جود،
وَ لَكَ الْكَرَمُ
صاحبِ کرم،
وَ لَكَ الْاَمْرُ
صاحبِ امر،
وَ لَكَ الْمَجْدُ
صاحبِ بزرگی ہے
وَ لَكَ الشُّكْرُ
اور تیرے لیے ہی شکر ہے۔
وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ
تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔
يَا وَاحِدُ يَا اَحَدُ يَا صَمَدُ
اے خدائے واحد، احد و بے نیاز
يَا مَنْ لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ
جس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا
وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ
نہ کوئی کفو نہ ہمسر۔
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
وَ اغْفِرْ لِيْ وَ ارْحَمْنِيْ
مجھے معاف کردے مجھ پر مہربانی کر۔
وَ اكْفِنِيْ مَاۤ اَهَمَّنِيْ
میرے مہمات میں کافی ہوجا۔
وَ اقْضِ دَيْنِيْ
میرے قرض کو ادا کردے۔
وَ وَسِّعْ عَلَيَّ فِيْ رِزْقِيْ
میرے رزق میں وسعت عنایت فرما۔
فَاِنَّكَ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ كُلَّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ تَفْرُقُ
اس لیے کہ تو آج کی رات تمام محکم امور کا فیصلہ کرتا ہے
وَ مَنْ تَشَاۤءُ مِنْ خَلْقِكَ تَرْزُقُ
اور جس کو چاہتا ہے اس کو عطا کردیتا ہے۔
فَارْزُقْنِيْ وَ اَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِيْنَ
مجھے بھی عطا کردے اس لیے کہ تو بہترین رزق دینے والا ہے۔
فَاِنَّكَ قُلْتَ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْقَاۤئِلِيْنَ وَالنَّاطِقِيْنَ
تو نے خود فرمایا ہے اور تو بہترین فرمانے والا ہے کہ
وَ اسْئَلُوْا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهِ
میرے فضل کا سوال کرو۔
فَمِنْ فَضْلِكَ اَسْاَلُ
اب میں تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔
وَ اِيَّاكَ قَصَدْتُ
میں نے تیرا ارادہ کیا ہے
وَ ابْنَ نَبِيِّكَ اعْتَمَدْتُ
اور تیرے فرزندِ رسول پر اعتماد کیا ہے۔
وَ لَكَ رَجَوْتُ
اب تجھ سے امیدوار ہوں کہ
فَارْحَمْنِيْ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
مجھ پر رحمت نازل فرما اے ارحم الراحمین۔
۶اس رات میں اس دعا کو پڑھے جو رسول اکرمؐ سے نقل کی گئی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ
خدایا ہمیں اپنے خوف سے وہ حصّہ عطا فرما
مَا يَحُوْلُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ مَعْصِيَتِكَ
جو ہمارے اور معصیت کے درمیان حائل ہوجائے
وَ مِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ رِضْوَانَكَ
اور اپنی اطاعت کا وہ حصّہ عطا فرما جو تیری رضا تک پہنچادے
وَ مِنَ الْيَقِيْنِ مَا يَهُوْنُ عَلَيْنَا بِهِ مُصِيْبَاتُ الدُّنْيَا
اور اپنے یقین میں سے وہ حصّہ عطا فرما جو مصائبِ دنیا کو آسان بنادے۔
اَللّٰهُمَّ اَمْتِعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَ اَبْصَارِنَا وَ قُوَّتِنَا
خدایا ہمیں ہماری سماعت، بصارت اور قوّت سے بہرہ ور رکھنا
مَاۤ اَحْيَيْتَنَا وَ اجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا
جب تک زندہ رکھنا اور پھر اس کو ہماری وراثت قرار دے دینا۔
وَ اجْعَلْ ثَارَنَا عَلٰى مَنْ ظَلَمَنَا
ہمارا انتقام ان لوگوں سے لینا جنھوں نے ہم پر ظلم کیا ہے
وَ انْصُرْنَا عَلٰى مَنْ عَادَانَا
اور ہمارے دشمنوں کے مقابل میں ہماری مدد کرنا۔
وَ لَا تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِيْ دِيْنِنَا
ہمارے دین میں کوئی مصیبت نہ آنے پائے
وَ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا اَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا
اور دنیا ہماری آخری آرزو نہ بننے پائے اور ہمارے علم کی انتہا نہ قرار پاجائے۔
وَ لَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا
ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلّط نہ کردینا جو مہربانی نہ جانتا ہو
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
اپنے رحم و کرم سے اے بہترین رحم کرنے والے۔
یہ دعا انتہائی جامع و کامل ہے۔ اس کو دوسرے اوقات میں بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ عوالی اللیٔالی سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اکرمؐ اس دعا کو ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
۷ہر روز کی صلوات جو وقت زوال پڑھی جاتی ہے اسے بھی پڑھے ۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر،
شَجَرَةِ النُّبُوَّةِ
جو نبوّت کے شجر،
وَ مَوْضِعِ الرِّسَالَةِ
رسالت کی منزل،
وَ مُخْتَلَفِ الْمَلَاۤئِكَةِ
ملائکہ کی آمد و رفت کی جگہ
وَ مَعْدِنِ الْعِلْمِ
علم کے معدن
وَ اَهْلِ بَيْتِ الْوَحْيِ
اور وحی کے اہل بیتؑ ہیں۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر
۟اِلْفُلْكِ الْجَارِيَةِ فِي اللُّجَجِ الْغَامِرَةِ
جو انتہائی گہرائیوں میں چلنے والے سفینہ ہیں کہ
يَأْمَنُ مَنْ رَكِبَهَا
جو ان سے وابستہ ہوگیا وہ امان پاگیا
وَ يَغْرَقُ مَنْ تَرَكَهَا
جس نے چھوڑ دیا وہ ڈوب گیا۔
اَلْمُتَقَدِّمُ لَهُمْ مَارِقٌ
جو ان سے آگے بڑھ گیا وہ حد سے نکل گیا
وَ الْمُتَاَخِّرُ عَنْهُمْ زَاهِقٌ
اور جو پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا
وَ اللَّازِمُ لَهُمْ لَاحِقٌ
جو ان سے وابستہ ہوگیا وہی ساتھ ہوگیا۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
۟اِلْكَهْفِ الْحَصِيْنِ
جو انتہائی مضبوط پناہ گاہ
وَ غِيَاثِ الْمُضْطَرِّ الْمُسْتَكِيْنِ
مضطر و پریشان حال کے فریاد رس،
وَ مَلْجَاِ الْهَارِبِيْنَ
بھاگے ہوئے لوگوں کی پناہ گاہ
وَ عِصْمَةِ الْمُعْتَصِمِيْنَ
اور طالبانِ حفاظت کی حفاظت ہیں۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر
صَلَاةً كَثِيْرَةً تَكُوْنُ لَهُمْ رِضًى
بے شمار جو ان کے لیے باعثِ رضا ہو
وَ لِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ اَدَاۤءً وَ قَضَاۤءً
اور ان کے حق کی ادائیگی کا سامان ہو۔
بِحَوْلٍ مِنْكَ وَ قُوَّةٍ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اپنی حکومت و طاقت کے سہارے اے ربّ العالمین۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر
۟اِلطَّيِّبِيْنَ الْاَبْرَارِ الْاَخْيَارِ
جو پاکیزہ، نیک کردار اور منتخب بندے ہیں۔
الَّذِيْنَ اَوْجَبْتَ حُقُوْقَهُمْ
جن کے حقوق کو تو نے واجب قرار دیا ہے۔
وَ فَرَضْتَ طَاعَتَهُمْ وَ وِلَايَتَهُمْ
ان کی اطاعت اور محبّت کو فرض کیا ہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر
وَ اعْمُرْ قَلْبِيْ بِطَاعَتِكَ
اور میرے دل کو ان کی اطاعت سے معمور کردے
وَ لَا تُخْزِنِيْ بِمَعْصِيَتِكَ
اور مجھے ان کی نافرمانی سے رسوا نہ کر۔
وَ ارْزُقْنِيْ مُوَاسَاةَ مَنْ قَتَّرْتَ عَلَيْهِ مِنْ رِزْقِكَ،
مجھے توفیق دے کہ جن کو تو نے کم رزق دیا ہے۔ میں ان سے ہمدردی کروں
بِمَا وَسَّعْتَ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ
اس وسعت کے ذریعہ جو تو نے مجھے عنایت فرمائی ہے۔
وَ نَشَرْتَ عَلَيَّ مِنْ عَدْلِكَ
اور جو تو نے مجھ پر اپنے عدل کو پھیلایا ہے
وَ اَحْيَيْتَنِيْ تَحْتَ ظِلِّكَ
اور مجھے اپنے زیرِ سایہ زندگی دی ہے۔
وَ هٰذَا شَهْرُ نَبِيِّكَ سَيِّدِ رُسُلِكَ
خدایا یہ تیرے نبی سید المرسلینؐ کا مہینہ شعبان ہے
شَعْبَانُ الَّذِيْ حَفَفْتَهُ مِنْكَ بِالرَّحْمَةِ وَ الرِّضْوَانِ
اس شعبان کو تو نے رحمت اور رضا میں گھیر دیا ہے
الَّذِيْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ وَ سَلَّمَ
اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
يَدْاَبُ فِيْ صِيَامِهِ وَ قِيَامِهِ
صلوٰۃ و صیام پابندی کے ساتھ
فِيْ لَيَالِيْهِ وَ اَيَّامِهِ
دن اور رات میں ادا کرتے تھے۔
بُخُوْعًا لَكَ فِيْۤ اِكْرَامِهِ وَ اِعْظَامِهِ
اس مہینہ کی عظمت و کرامت کے اظہار کے لیے اور تیری بارگاہ میں خضوع و خشوع کے لیے
اِلٰى مَحَلِّ حِمَامِهِ
جب تک زندہ رہے۔
اَللّٰهُمَّ فَاَعِنَّا عَلَى الْاِسْتِنَانِ بِسُنَّتِهِ فِيْهِ
خدایا ہماری مدد فرما کہ ہم ان کی سنّت پر عمل کریں
وَ نَيْلِ الشَّفَاعَةِ لَدَيْهِ
اور ان کی شفاعت حاصل کرلیں۔
اَللّٰهُمَّ وَ اجْعَلْهُ لِيْ شَفِيْعًا مُشَفَّعًا
خدا انھیں ہمارا شفیع مقبول الشفاعۃ
وَ طَرِيْقًا اِلَيْكَ مَهْيَعًا
اور اپنی بارگاہ میں آنے کا وسیلہ بنادے
وَ اجْعَلْنِيْ لَهُ مُتَّبِعًا
اور ہمیں ان کا پیرو قرار دے دے
حَتّٰى اَلْقَاكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنِّيْ رَاضِيًا
تا کہ روزِ قیامت تجھ سے ملاقات کریں تو تو ہم سے راضی رہے
وَ عَنْ ذُنُوْبِيْ غَاضِيًا
اور ہمارے گناہوں سے چشم پوشی کرے۔
قَدْ اَوْجَبْتَ لِيْ مِنْكَ الرَّحْمَةَ وَ الرِّضْوَانَ
ہمارے لیے اپنی رحمت و رضا کو لازم قرار دے دے
وَ اَنْزَلْتَنِيْ دَارَ الْقَرَارِ وَ مَحَلَّ الْاَخْيَارِ۔
اور ہمیں منزلِ قرار اور محلِ اختیار تک پہنچا دے۔
۸ دعائے کمیل پڑھے کہ اس کا ورود بھی اسی شب میں ہوا ہے۔
۹سو مرتبہ کہے تا کہ پروردگار اس کے گناہوں کو معاف کر دے اور اس کی حاجتوں کو پورا کر دے۔
سُبْحَانَ اللهِ
خدا پاکیزہ ہے
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
اور حمد اسی کے لیے ہے
وَ اللهُ اَكْبَرُ
اور خدا بزرگ تر ہے
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
۱۰شیخ نے مصباح میں ابو یحیٰ سے فضیلت نیمۂ شعبان کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ میں نے امام صادقؑ سے عرض کیا کہ اس شب میں بہترین دعا کیا ہے؟ فرمایا کہ نماز عشاء کے بعد دو رکعت نماز پڑھے۔ پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور قل یا ایہاالکفرون اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ قل ھو اللہ، سلام کے بعد ۳۳؍ مرتبہ سبحان اللہ ، ۳۳؍ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴؍ مرتبہ اللہ اکبر کہے اس کے بعد یہ کہے۔
يَا مَنْ اِلَيْهِ مَلْجَاُ الْعِبَادِ فِي الْمُهِمَّاتِ
اے وہ ذات جس کی طرف مشکلات میں بندوں کی پناہ ہے
وَ اِلَيْهِ يَفْزَعُ الْخَلْقُ فِي الْمُلِمَّاتِ
اور جس کی طرف مخلوقات مصائب میں فریاد کرتی ہیں۔
يَا عَالِمَ الْجَهْرِ وَ الْخَفِيَّاتِ
اے ظاہر و باطن کے جاننے والے۔
يَا مَنْ لَا تَخْفٰى عَلَيْهِ خَوَاطِرُ الْاَوْهَامِ وَ تَصَرُّفُ الْخَطَرَاتِ
اے وہ جس پر دلوں کے خیالات اور خیالوں کے تصرّفات مخفی نہیں ہیں۔
يَا رَبَّ الْخَلَاۤئِقِ وَ الْبَرِيَّاتِ
اے تمام مخلوقات کے پروردگار۔
يَا مَنْ بِيَدِهِ مَلَكُوْتُ الْاَرَضِيْنَ وَ السَّمَاوَاتِ
اے وہ جس کے ہاتھوں میں زمین وآسمان کی کل حکومت ہے۔
اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
تو وہ خدا ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
اَمُتُّ اِلَيْكَ بِلَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
میں تجھ سے لا الٰہ الا اللہ کے ذریعہ پناہ چاہتا ہوں۔
فَيَا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
اے وہ خدا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
اجْعَلْنِيْ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ مِمَّنْ نَظَرْتَ اِلَيْهِ فَرَحِمْتَهُ
مجھے آج کی رات ان لوگوں میں قرار دے دے جن پر تو نے نگاہِ رحمت کی ہے
وَ سَمِعْتَ دُعَاۤءَهُ فَاَجَبْتَهُ
اور جن کی دعاؤں کو سن کر قبول کیا ہے۔
وَ عَلِمْتَ اسْتِقَالَتَهُ فَاَقَلْتَهُ
جن کی لغزشوں کو معاف کیا ہے۔
وَ تَجَاوَزْتَ عَنْ سَالِفِ خَطِيْۤئَتِهِ وَ عَظِيْمِ جَرِيْرَتِهِ
جن کی خطاؤں اور جرائم سے درگذر کیا ہے۔
فَقَدِ اسْتَجَرْتُ بِكَ مِنْ ذُنُوْبِيْ
میں بھی اپنے گناہوں میں تیری پناہ چاہتا ہوں
وَ لَجَأْتُ اِلَيْكَ فِيْ سَتْرِ عُيُوْبِيْۤ
اور اپنے عیوب کی پردہ پوشی میں تیری طرف ملتجی ہوں۔
اَللّٰهُمَّ فَجُدْ عَلَيَّ بِكَرَمِكَ وَ فَضْلِكَ
خدایا اپنے فضل و کرم سے میرے اوپر احسان فرما
وَ احْطُطْ خَطَايَايَ بِحِلْمِكَ وَ عَفْوِكَ
اور اپنے حلم و عفو سے میری خطا کو معاف کردے۔
وَ تَغَمَّدْنِيْ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ بِسَابِغِ كَرَامَتِكَ
آج کی رات مجھے اپنی مکمل کرامت میں ڈھانپ لے
وَ اجْعَلْنِيْ فِيْهَا مِنْ اَوْلِيَاۤئِكَ الَّذِيْنَ اجْتَبَيْتَهُمْ لِطَاعَتِكَ
اور ان بندوں میں قرار دے دے جن کو تو نے اطاعت کے لیے چُن لیا ہے
وَ اخْتَرْتَهُمْ لِعِبَادَتِكَ
اور عبادت کے لیے منتخب کیا ہے
وَ جَعَلْتَهُمْ خَالِصَتَكَ وَ صَفْوَتَكَ۔
اور اپنے خالص بندوں میں قرار دیا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِمَّنْ سَعَدَ جَدُّهُ
خدایا مجھے ان میں قرار دے دے جو نیک بخت ہوں
وَ تَوَفَّرَ مِنَ الْخَيْرَاتِ حَظُّهُ
اور جن کا حصّہ نیکیوں میں وافر ہو
وَ اجْعَلْنِيْ مِمَّنْ سَلِمَ فَنَعِمَ
اور جن کو سلامتی کے ساتھ نعمت ملی
وَ فَازَ فَغَنِمَ
اور کامیابی کے ساتھ منافع حاصل ہوئے۔
وَ اكْفِنِيْ شَرَّ مَاۤ اَسْلَفْتُ
مجھے گذشتہ اعمال کے شر سے محفوظ رکھنا
وَ اعْصِمْنِيْ مِنَ الْاِزْدِيَادِ فِيْ مَعْصِيَتِكَ
اور معصیتوں میں اضافہ سے روکے رکھنا۔
وَ حَبِّبْ اِلَيَّ طَاعَتَكَ وَ مَا يُقَرِّبُنِيْ مِنْكَ وَ يُزْلِفُنِيْ عِنْدَكَ
میرے لیے اپنی اطاعت کو اور تقرّب کے اعمال کو محبوب بنا دے۔
سَيِّدِيْۤ اِلَيْكَ يَلْجَاُ الْهَارِبُ
خدایا ہر بھاگنے والا تیری پناہ چاہتا ہے
وَ مِنْكَ يَلْتَمِسُ الطَّالِبُ
اور ہر طلبگار تجھ سے التماس کرتا ہے
وَ عَلٰى كَرَمِكَ يُعَوِّلُ الْمُسْتَقِيْلُ التَّاۤئِبُ
اور ہر توبہ کرنے والا تیرے کرم پر بھروسہ کرتا ہے کہ
اَدَّبْتَ عِبَادَكَ بِالتَّكَرُّمِ وَ اَنْتَ اَكْرَمُ الْاَكْرَمِيْنَ
تو نے اپنے بندوں کو کرم سکھایا ہے تو تو سب سے زیادہ کرم کرنے والا ہے۔
وَ اَمَرْتَ بِالْعَفْوِ عِبَادَكَ وَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ
تو نے اپنے بندوں کو معافی کا حکم دیا ہے۔ تو تو غفور و رحیم ہے۔
اَللّٰهُمَّ فَلَا تَحْرِمْنِيْ مَا رَجَوْتُ مِنْ كَرَمِكَ
خدایا میں تیرے جس کرم کی امید رکھتا ہوں اس سے محروم نہ کرنا
وَ لَا تُؤْيِسْنِيْ مِنْ سَابِغِ نِعَمِكَ
اور جو نعمتیں چاہتا ہوں ان سے مایوس نہ کرنا۔
وَ لَا تُخَيِّبْنِيْ مِنْ جَزِيْلِ قِسَمِكَ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ لِاَهْلِ طَاعَتِكَ
اور آج کی رات جو اہلِ طاعات کا بہترین حصّہ ہے اس سے نا امید نہ کرنا۔
وَ اجْعَلْنِيْ فِيْ جُنَّةٍ مِنْ شِرَارِ بَرِيَّتِكَ
بدترین بندوں کے شر سے اپنی پناہ میں رکھنا۔
رَبِّ اِنْ لَمْ اَكُنْ مِنْ اَهْلِ ذٰلِكَ
خدایا اگر میں اس کا اہل نہیں ہوں تو
فَاَنْتَ اَهْلُ الْكَرَمِ وَ الْعَفْوِ وَ الْمَغْفِرَةِ،
تو اہلِ کرم و عفو و مغفرت ہے۔
وَ جُدْ عَلَيَّ بِمَاۤ اَنْتَ اَهْلُهُ لَا بِمَاۤ اَسْتَحِقُّهُ
اب مجھ پر وہ کرم فرما جس کا تو اہل ہے۔ وہ نہیں جس کا میں مستحق ہوں۔
فَقَدْ حَسُنَ ظَنِّيْ بِكَ
میں تجھ سے حُسنِ ظن رکھتا ہوں
وَ تَحَقَّقَ رَجَاۤئِيْ لَكَ
اور میری امید تیری ہی ذات سے ہے۔
وَ عَلِقَتْ نَفْسِيْ بِكَرَمِكَ
میرا نفس تیرے کرم سے وابستہ ہے کہ
فَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ
تو ارحم الراحمین
وَ اَكْرَمُ الْاَكْرَمِيْنَ
اور اکرم الاکرمین ہے۔
اَللّٰهُمَّ وَ اخْصُصْنِيْ مِنْ كَرَمِكَ بِجَزِيْلِ قِسَمِكَ
خدایا اپنے کرم کے بہترین حصّے سے مجھ کو مخصوص کردے
وَ اَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ
اور میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آیا ہوں
وَ اغْفِرْ لِيَ الذَّنْبَ الَّذِيْ يَحْبِسُ عَلَيَّ الْخُلُقَ
لہٰذا میرے گناہوں کو معاف کردے جو اخلاق کو بگاڑدیں
وَ يُضَيِّقُ عَلَيَّ الرِّزْقَ
اور رزق کو تنگ بنادیں
حَتّٰىۤ اَقُوْمَ بِصَالِحِ رِضَاكَ
تا کہ میں تیری رضا کے لیے نیک کام کرسکوں
وَ اَنْعَمَ بِجَزِيْلِ عَطَاۤئِكَ
اور تیری عطاؤں سے بہرہ ور ہوسکوں،
وَ اَسْعَدَ بِسَابِغِ نَعْمَاۤئِكَ
تیری مکمل نعمتوں سے نیک بخت ہو سکوں۔
فَقَدْ لُذْتُ بِحَرَمِكَ
میں تیرے حرم کی پناہ گاہ میں
وَ تَعَرَّضْتُ لِكَرَمِكَ
تیرے کرم کا طلبگار ہوں۔
وَ اسْتَعَذْتُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ
تیرے عذاب کے مقابلے میں تیری معافی کا طالب ہوں
وَ بِحِلْمِكَ مِنْ غَضَبِكَ
اور تیرے غضب کے مقابلہ میں تیرا حلم چاہتا ہوں۔
فَجُدْ بِمَا سَاَلْتُكَ
خدایا جو مانگ رہا ہوں وہ دے دے
وَ اَنِلْ مَا الْتَمَسْتُ مِنْكَ
اور جس کی التماس کررہا ہوں وہ عطا کردے
اَسْاَلُكَ بِكَ لَا بِشَيْءٍ هُوَ اَعْظَمُ مِنْكَ۔
میں تجھ سے تیرے ہی وسیلے سے سوال کرتا ہوں نہ کسی ایسے کے وسیلے سے جو تجھ سے بالاتر ہو۔
اس کے بعد سجدے میں جائے اور بیس مرتبہ
يَا رَبِّ
اے رب
سات مرتبہ
يَا اَللهُ
اے اللہ
سات مرتبہ
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ
کوئی طاقت نہیں ہے مگر وہ بلند قوّت و بزرگ خدا سے ہے
دس مرتبہ
مَاشَااَللهُ
جو کچھ خدا چاہے
اور دس مرتبہ
لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ
نہیں کوئی قوّت مگر خدا کی
کہے اور پھر محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات پڑھ کر اپنی حاجتیں طلب کرے۔ خدا کی قسم اگر اس کی حاجتیں بارش کے قطرات کے برابر ہوں گی تب بھی پروردگار اپنے فضل وکرم سے انھیں پورا کر سکتا ہے۔
۱۱شیخ طوسیؒ اور کفعمیؒ نے فرمایا ہے کہ اس شب میں یہ دعا بھی پڑھے۔
اِلٰهِيْ تَعَرَّضَ لَكَ فِي هٰذَا اللَّيْلِ الْمُتَعَرِّضُوْنَ
خدایا آج کی رات تمام طلبگاروں نے تجھ سے طلب کیا ہے۔
وَ قَصَدَكَ الْقَاصِدُوْنَ
تمام مریدوں نے تیرا ارادہ کیا ہے
وَ اَمَّلَ فَضْلَكَ وَ مَعْرُوْفَكَ الطَّالِبُوْنَ
اور تمام سائلوں نے تیرے فضل و کرم سے امید رکھی ہے۔
وَ لَكَ فِيْ هٰذَا اللَّيْلِ نَفَحَاتٌ وَ جَوَاۤئِزُ
آج کی رات تیری طرف سے الطاف ہیں، جائزے ہیں۔
وَ عَطَايَا وَ مَوَاهِبُ
عطایا ہیں، انعامات ہیں
تَمُنُّ بِهَا عَلٰى مَنْ تَشَاۤءُ مِنْ عِبَادِكَ
تو جن کو چاہتا ہے دے دیتا ہے
وَ تَمْنَعُهَا مَنْ لَمْ تَسْبِقْ لَهُ الْعِنَايَةُ مِنْكَ
اور جن پر تیری عنایت نہیں ہے انھیں منع کردیتا ہے۔
وَ هَاۤ اَنَا ذَا عُبَيْدُكَ الْفَقِيْرُ اِلَيْكَ
میں تو تیرا بندۂ حقیر و فقیر
الْمُؤَمِّلُ فَضْلَكَ وَ مَعْرُوْفَكَ
اور تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوں۔
فَاِنْ كُنْتَ يَا مَوْلَايَ
خدایا آج کی رات اگر تو نے
تَفَضَّلْتَ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ
کسی بندے پر فضل کیا ہے
عَلٰىۤ اَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ
اور اگر کسی بندہ پر
وَ عُدْتَ عَلَيْهِ بِعَاۤئِدَةٍ مِنْ عَطْفِكَ
کوئی مہربانی کی ہے
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
تو محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرمانا
۟اِلطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنَ
جو تیرے طیب و طاہر،
الْخَيِّرِيْنَ الْفَاضِلِيْنَ
منتخب اور فاضل بندے ہیں
وَ جُدْ عَلَيَّ بِطَوْلِكَ وَ مَعْرُوْفِكَ
اور مجھ پر اپنے فضل و کرم سے مہربانی فرما دینا
يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اے عالمین کے پالنے والے۔
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
اللہ کی رحمت ہو حضرت محمدؐ خاتم النبیین پر
وَ اٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ
اور ان کی آل طاہرینؑ پر
وَ سَلَّمَ تَسْلِيْمًا
اور سلام ہو بے شمار ان سب پر۔
اِنَّ اللّٰهَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ
اللہ قابلِ حمد بھی ہے اور مجید بھی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَدْعُوْكَ كَمَاۤ اَمَرْتَ
خدایا میں تجھ سے ویسے ہی دعا کرتا ہوں جیسے تو نے حکم دیا تو
فَاسْتَجِبْ لِيْ كَمَا وَعَدْتَ
تو ایسے ہی قبول کرلینا جیسے تو نے وعدہ کیا ہے
اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔
کہ تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے۔
یہ وہ دعا ہے جو سحر کے وقت نمازِ شفع کے بعد بھی پڑھی جاتی ہے۔
۱۲نماز شب کی اور نمازِ شفع کی ہر دو رکعت کے بعد اور نما ز وتر کے بعد وہ دعائیں پڑھے جو شیخؒ و سیدؒ نے نقل کی ہیں۔
۱۳وہ سجدے اور دعائیں بجا لائے جو رسول اکرمؐ سے منقول ہیں، جن میں سے ایک روایت وہ ہے جو شیخ نے حماد بن عیسیٰ سے ابان بن تغلب کے واسطہ سے نقل کی ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ جب نیمۂ شعبان کی رات آئی تو رسول اکرمؐ حجرۂ عائشہ میں گئے۔ آدھی رات کے بعد آپ اٹھے اور عبادت میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد عائشہ کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پیغمبر حجرہ میں موجود نہیں ہیں۔ خیال پیدا ہوا کہ شاید کسی اور زوجہ کے پاس چلے گئے ہیں لہٰذا چادر سنبھال کر تلاش میں نکل پڑیں اور مختلف ازواج کے حجرہ میں جائزہ لیا۔ ایک مرتبہ دیکھا کہ حضرتؐ سجدہ میں ہیں اور جیسے چادر زمین سے چپکی ہوئی ہو۔ قریب جا کر دیکھا تو دیکھا کہ آپ سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں۔
سَجَدَ لَكَ سَوَادِيْ وَ خَيَالِيْ
پروردگار تیری بارگاہ میں میرا وجود، میرا خیال سجدہ ریز ہیں۔
وَ اٰمَنَ بِكَ فُؤَادِيْ
میرا دل تیرا معتقد ہے۔
هٰذِهِ يَدَايَ وَ مَا جَنَيْتُهُ عَلٰى نَفْسِيْ
یہ میرے دونوں ہاتھ اور ان کے اعمال ہیں جو میں نے انجام دیئے ہیں۔
يَا عَظِيْمُ تُرْجٰى لِكُلِّ عَظِيْمٍ
تو خدائے عظیم ہے۔ ہر عظیم کے لیے تجھ سے ہی امید کی جاتی ہے۔
اِغْفِرْ لِيَ الْعَظِيْمَ
میرے عظیم گناہوں کو معاف کردے
فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذَّنْبَ الْعَظِيْمَ اِلَّا الرَّبُّ الْعَظِيْمُ۔
اس لیے کہ عظیم گناہوں کو سوائے خدائے عظیم کے کوئی معاف نہیں کرسکتا ہے۔
اس کے بعد حضرت نے سر اٹھایا ار دوبارہ سجدہ میں گئے تو عائشہ نے سنا کہ کہہ رہے ہیں۔
اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْهِكَ
خدایا میں تیرے نورِ ذات سے پناہ چاہتا ہوں
الَّذِيْۤ اَضَاۤءَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَ الْاَرَضُوْنَ
جس سے زمین و آسمان روشن ہیں
وَ انْكَشَفَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ
اور ظلمتیں چَھٹ گئی ہیں
وَ صَلَحَ عَلَيْهِ اَمْرُ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَ
اور اوّلین و آخرین کے امور کی اصلاح ہوئی ہے کہ
مِنْ فُجْاَةِ نَقِمَتِكَ
اچانک تیرا عذاب نازل نہ ہوجائے
وَ مِنْ تَحْوِيْلِ عَافِيَتِكَ
اور یہ عافیت پلٹ نہ جائے۔
وَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ
یہ نعمتیں زائل نہ ہوجائیں۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِيْ قَلْبًا تَقِيًّا نَقِيًّا
خدایا مجھے وہ دل دے جو خوف زدہ، پاکیزہ
وَ مِنَ الشِّرْكِ بَرِيْئًا
اور شرک سے بری ہو
لَا كَافِرًا وَ لَا شَقِيًّا
نہ کافر ہو اور نہ شقی ہو۔
پھر حضرت نے دونوں رخسارے خاک پر رکھے اور یہ دعا کی۔
عَفَّرْتُ وَجْهِيْ فِيْ التُّرَابِ
میں اپنے چہرے کو خاک پر رکھے ہوئے ہوں
وَ حُقَّ لِيْۤ اَنْ اَسْجُدَ لَكَ۔
اور یہ میرا فرض ہے کہ میں تجھے سجدہ کروں۔
اس کے بعد جب رسول اکرمؐ نے اٹھنا چاہا تو عائشہ دوڑ کر اپنے بستر پر چلی گئیں۔ آپ تشریف لائے اور دیکھا کہ خراٹے مار رہی ہیں۔ فرمایا یہ کیا طریقہ ہے۔ کیا تمھیں نہیں معلوم ہے یہ کون سی رات ہے۔ یہ شب نیمۂ شعبان ہے۔ اس میں روزی تقسیم ہوتی ہے، زندگیاں لکھی جاتی ہیں اور حج میں جانے والوں کا فیصلہ ہوتا ہے۔ خدا کی قسم آج کی رات پروردگار عالم اس کثرت سے بندوں کو معاف کرتا ہے جو قبیلہ بنی کلب کے بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ ہیں۔ اور خدا ملائکہ کو آسمان سے زمین کی طرف نازل کرتا ہے۔
۱۴نماز جعفر طیار ادا کرے جیسا کہ شیخؒ نے امام رضاؑ سے نقل کیا ہے۔
۱۵آج کی شب کی نمازوں کو بجا لائے جو بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک نماز وہ ہے جس کی روایت ابو یحیٰ صنعانی نے امام جعفر صادقؑ سے کی ہے اور ان دونوں بزرگواروں نے تیس۳۰ ؍ بزرگ افراد سے روایت کی ہے کہ جب نیمۂ شعبان آئے تو چار رکعت نماز ادا کرو اور ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سو مرتبہ قل ھو اللہ پڑھو۔ جب نماز ختم ہو جائے تو کہو۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اِلَيْكَ فَقِيْرٌ
خدایا میں تیرا ہی فقیر ہوں
وَ مِنْ عَذَابِكَ خَاۤئِفٌ مُسْتَجِيْرٌ
اور تیرے عذاب سے خوف زدہ ہوں۔
اَللّٰهُمَّ لَا تُبَدِّلْ اِسْمِيْ
مالک میرے نام کو بدل نہ دینا
وَ لَا تُغَيِّرْ جِسْمِيْ
اور میرے جسم کو دگرگوں نہ کردینا۔
وَ لَا تَجْهَدْ بَلَاۤئِيْ
میری بلاؤں کو سخت نہ کردینا
وَ لَا تُشْمِتْ بِيْۤ اَعْدَاۤئِيْۤ
اور میرے دشمنوں کو طعنے کا موقع نہ دینا۔
اَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ
خدایا میں تیرے عذاب سے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں
وَ اَعُوْذُ بِرَحْمَتِكَ مِنْ عَذَابِكَ
اور تیرے عقاب سے تیری رحمت کا سہارا چاہتا ہوں۔
وَ اَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ
تیری ناراضگی سے تیری رضا
وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ
اور تجھ سے ہی پناہ چاہتا ہوں۔
جَلَّ ثَنَاۤؤُكَ
تیری ثنا جلیل ہے
اَنْتَ كَمَا اَثْنَيْتَ عَلٰى نَفْسِكَ
جس طرح تو نے اپنی تعریف کی ہے
وَ فَوْقَ مَا يَقُوْلُ الْقَاۤئِلُوْنَ۔
اور اس سے بالاتر ہے جو تمام تعریف کرنے والے کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس رات میں سو رکعت نماز کی بھی بے حدفضیلت وارد ہوئی ہے جس مین ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد دس مرتبہ قل ھو اللہ پڑھا جائے اور ماہ رجب کے اعمال میں اس چھ رکعت نماز کا طریقہ بھی بیان کیا جا چکا ہے جس میں سورۂ حمد، یٰسٓ، سورۂ ملک اور توحید پڑھا جاتا ہے۔