EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
ماہِ مبارک رمضان میں رسولِ اکرمؐ کا خطبہ
شیخ صدوقؒ نے معتبر سند کے ساتھ امام رضاؑ سے روایت کی ہے اور آپ نے اپنے بزرگوں کے حوالے سے امیرالمومنینؑ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرمؐ نے ایک دن یہ خطبہ ارشاد فرمایا کہ :____‘‘ایہاالناس! ماہ رمضان برکت و رحمت و مغفرت کے ساتھ آرہا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو خدا کی نظر میں بہترین مہینہ ہے۔ اس کے دن بہترین دن، اس کی راتیں بہترین راتیں، اور اس کی ساعتیں بہترین ساعتیں ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں تم کو خدا کی مہمانی میں بلایا گیا ہے اور تمہیں اہل کرامت میں شمار کیا گیا ہے۔ تمہاری سانسیں تسبیح کا ثواب رکھتی ہیں، تمھاری نیند عبادت ہے اور تمہارے اعمال مقبول ہیں۔ تمہاری دعائیں اس مہینے میں مستجاب ہیں لہٰذا پروردگار سے اچھی نیت اور پاکیزہ دل کے ذریعہ دعا کرو تاکہ تمہیں اس مہینے میں روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔ شقی اور بدبخت وہ شخص ہے جو اس مہینہ میں بخشش سے محروم رہ جائے۔ یہاں کی بھوک اور پیاس سے قیامت کی بھوک اور پیاس کا احساس کرو۔ فقیروں اور مسکینوں کو صدقہ دو۔ بزرگوں کا احترام کرو۔ بچوں پر رحم کرو۔ اقرباء پر نوازش کرو۔ اپنی زبانوں کو برائیوں سے الگ رکھو۔ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو ان چیزوں سے جو تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ کانوں سے وہ چیزیں نہ سنو جن کا سننا حرام ہے۔ یتیموں پر مہربانی کرو تا کہ لوگ تمہارے بعد تمہارے یتیموں پر مہربانی کریں۔ گناہوں کو چھوڑ کہ خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ اپنے ہاتھوں کو دعاؤں کےلئے اوقات نماز میں بلند رکھو جو بہترین وقت دعا ہے اور پروردگار اس وقت میں بندوں پر نگاہِ مرحمت کرتا ہے اور دعاؤں کو قبول کرتا ہے اگر وہ مناجات کرتے ہیں تو سن لیتا ہے۔ اے وہ لوگو جن کی زندگیاں ان کے اعمال کے ہاتھوں رہن ہیں خدا کی بخشش طلب کرو اور اگر تمہاری پشت گناہوں کے بوجھ سے سنگین ہو گئ ہے تو طول سجدہ سے اسے ہلکا بناؤ اور یہ یاد رکھو کہ پروردگار نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھائی ہے کہ نماز گذار اور سجدہ گذار بندوں پر اس مہینہ میں عذاب نہیں کرے گا اور انھیں آتشِ جہنم سے نہیں جلائے گا۔
ایہاالناس! جو شخص اس مہینہ میں کسی مومن کو افطار کرائے گا پروردگار اسے غلام آزاد کرنے اور گذشتہ گناہوں کی بخشش کا ثواب عنایت کرے گا۔ بعض اصحاب نے عرض کی کہ یا رسول اللہؐ ہر شخص کے پاس تو اتنی طاقت نہیں ہے ۔ فرمایا کہ اپنے کو افطار کے ذریعہ آتشِ جہنم سے بچاؤ چاہےآدھا دانۂ خرما اور ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو۔ پروردگار اس پر بھی یہی ثواب دے گا اگر انسان اس سے زیادہ پر قادر نہ ہو۔
ایہاالناس! اس مہینہ میں اپنے اخلاق کو درست رکھو تا کہ اس دن صراط سے باآسانی گذر جاؤ جس دن سارے قدم پھسل رہے ہوں گے۔ جو شخص بھی اس مہینہ میں اپنے غلاموں اور کنیزوں سے کم کام لے گا خدا روز قیامت اس کے حساب کو آسان کر دے گا اور جو شخص بھی اس مہینہ میں اپنے شر سے لوگوں کو بچائے رکھے گا پروردگار اسے اپنے غضب میں مبتلا نہ کرے گا اور جو شخص بھی اس ماہ میں کسی یتیم کا احترام کرے گا خدا قیامت کے دن اسے باعزت بنا دےگا۔ جو شخص بھی اس مہینہ میں اپنے اقرباء کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے گا خدا روز قیامت اس کے ساتھ رحمت کا سلوک کرے گا اور جو شخص بھی اپنے قرابتداروں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کرے گا خداروز قیامت اپنی رحمت کے رشتہ کو توڑ دے گا۔ جو شخص بھی اس مہینہ میں سنتی نماز ادا کرےگا اسے جہنم سے برأت کا پروانہ ملے گا اور جو شخص بھی اس مہینہ میں واجب نماز ادا کرے گا پروردگار اسے دوسرے مہینوں کی ستر نمازوں کا ثواب عنایت فرمائے گا۔ جو شخص بھی اس مہینہ میں مجھ پر صلوات پڑھے گا خدا س کے عمل کے پلّہ کو بھاری کر دے گا جس دن لوگوں کے پلے ہلکے ہوں گے۔ جو شخص بھی اس مہینہ میں ایک آیۂ قرآن پڑھے گا پروردگار اسے دوسرے زمانے میں ایک ختم قرآن کا ثواب دےگا۔
ایہاالناس! یاد رکھو کہ اس مہینہ میں بہشت کے دروازے کھل جاتے ہیں لہٰذا پروردگار سے دعا کرو کے تمہارے لئے بند نہ ہوں اور جہنم کے دروازے بند ہوں جاتے ہیں لہٰذا دعا کرو کہ وہ تم پر نہ کھل جائیں۔ شیاطین کو اس مہینے میں قید کر دیا جاتا ہے، دعا کرو کہ وہ تم پر مسلط نہ ہو جائیں۔’’
شیخ صدوقؒ کی روایت ہے کہ جب ماہ رمضان داخل ہوتا تھا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام اسیروں کو آزاد کر دیتے تھے اور ہر سائل کو عطا فرما دیا کرتے تھے _____مؤلف کا بیان ہے کہ ماہ رمضان پروردگار کا مہینہ ہے اور شریف اور عظیم ترین مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں آسمان اور بہشت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں اور اسی مہینہ میں وہ رات بھی ہے جس کی عبادت ہزار مہینہ سے بہتر ہے۔ لہٰذا دھیان رکھو کہ تمہارے شب و روز کس طرح گذر رہے ہیں اور اپنے اعضاء و جوارح کو معصیت پروردگار سے محفوظ رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ رات میں سوتے رہ جاؤ اور دن میں یاد خدا سے غافل رہ جاؤ ___ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ ماہ رمضان کے ہر دن کے آخر میں وقت افطار پروردگار دس لاکھ افراد کو آتش جہنم سے آزاد کرتا ہےاور شب جمعہ اور روز جمعہ میں اتنےہی افراد کو ہر ساعت آتش جہنم سے آزاد کرتا ہے چاہے وہ کسی عذاب کے مستحق کیوں نہ رہے ہوں۔ اور اس کے بعد جب ماہ رمضان کی آخری شب یا آخری دن آتا ہے تو جتنے پورے رمضان میں آزاد کئے گئے ہیں اتنے ہی افراد کو اور آزاد کر دیات ہے۔ لہٰذا عزیزو ایسا نہ ہو کہ ماہ رمضان گذر جائے اور تمہاے گناہ باقی رہ جائیں اور جب روزہ رکھنے والے روز قیامت میں اپنا اجر حاصل کریں تو تمہارا شمار محرومین میں ہوجائے۔مالک کی بارگاہ میں تلاوت قرآن کے ذریعہ تقرب حاصل کرو اور مختلف اوقات فضیلت میں نماز اور کثرت استغفار کی تاکید کی گئی ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص ماہ رمضان میں بخشا نہ جائے گا اس کی بخشش آئندہ سال تک نہیں ہو سکتی ہے مگر یہ کہ میدان عرفات میں جا کر استغفار کرے لہٰذا اپنے کو حرام سے محفوظ رکھو اور حرام چیزوں سے افطار نہ کرو اور وہ طریقہ اختیار کرو جس کی سفارش امام صادق علیہ السلام نے کی ہے کہ تم روزہ رکھو تو تمہارے کان، ہاتھ، بال، کھال اور تمام اعضاء سب محرمات بلکہ مکروہات سے بھی پرہیز کریں اور خبردار تمہارا روزہ تمارے عام دنوں کی طرح جن میں روزہ دار نہیں ہونہ ہو اور یاد رکھو کہ روزہ فقط کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ میں انسان کو اپنی زبان کو جھوٹ اور اپنی نگاہوں کو نا محرم سے محفوظ رکھنا چاہئے اور کسی شخص سے جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔ اپنے کو حسد سے، غیبت سے بچاؤ، نہ کسی سے حسد کرو، جھگڑا کرو اور نہ جھوٹی قسم کھاؤ بلکہ سچی قسم بھی نہ کھاؤ۔ کسی کو گالی نہ دو ، ظلم نہ کرو، بے عقلی کا کام نہ کرو۔ ہر ایک سے رنجیدہ نہ ہو اور یاد خدا سے غافل نہ ہو اور جو بات مناسب نہیں ہے اس کےبارے میں خاموش رہو اور صبر اور سچائی سے کام لو۔ اپنے کو اہل شر سے دور رکھو۔ بری باتوں، غلط بیانی، افتراء اور جھگڑے سے اور بدگمانی سے اور غیبت و تنقید سے محفوظ رکھو اور سوچ لوکے آخرت قریب ہے اور ظہور امام کے منتظر رہو۔ آخرت کے ثواب کے امیدوار رہو اور آخرت کے لئے زادِ راہ تیار کرو۔ یہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ دل اور جسم کو مطمئن رکھو۔ خضوع و خشوع، انکساری اور خاکساری سے کام لو جیسے کوئی بندہ اپنے پروردگارسے ڈرتا ہے۔ عذاب خدا سے ڈرو ، رحمت خدا کے امیدوار رہو۔ اے روزہ داروں اپنے دل کو تمام عیوب سے پاک رکھو۔ اپنے باطن کو ہر حیلہ و مکر سے الگ رکھو اور اپنے بدن کو ہر طرح کی کثافت سے پاک رکھو اور ہر غیر خدا سے بیزار رہو اور اپنی محبت کو خدا کے لئے خالص بنا دو۔ جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے اعلانیہ اور مخفی ہر طرح اس سے پرہیز کرو۔ خدائے قہارسے ڈرو کہ وہ ظاہر و باطن ہر حال میں ڈرنے کے قابل ہے۔ اپنے روح و جسم کو اس کے حوالہ کر دو۔ اپنے دل کو اس کی محبت کے لئے خالی کر لو اور اپنے بدن کو اس کی اطاعت کے لئے وقف کر دو۔ اگر تم نے یہ سارے کام کر لئے تو گویا وہ کام کیا جو ایک روزہ دار کو کرنا چاہئے اور اپنے مالک کی اطاعت کی لیکن اگر اس میں کچھ بھی کمی کی ہے تو اسی مقدار میں روزہ کی فضیلت اور اس کو ثواب کم ہو جائے گا۔ میرے پدربزرگوار نے فرمایا ہے کہ رسول اکرمؐ نے روزہ کی حالت میں اپنی ایک زوجہ کو کنیز کو برابھلا کہتے ہوئے دیکھ لیا تو اس خاتون کے لئے کھانا طلب کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ میں روزہ سے ہوں۔ فرمایا کہ کنیز کو برا بھلا کہنے کے بعد پھر کوئی روزہ روزہ نہیں رہ جاتا ہے۔ روزہ تنہاکھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں ہے۔ پروردگار عالم نے روزہ کو تمام برے امور اور ہر غلط کردار و گفتار سے بچانے کا ذریعہ قراردیا ہے اور کتنے ہی لوگ ہیں جن کو روزہ سے بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں ہوتا ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جن کے روزہ میں بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے اور کتنے ہی عبادت گذار ہیں جن کی عبادت کا ماحصل رنج و تعب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے۔ ہوش مندوں کا سونا احمقوں کی بیداری سے بہتر ہوتا ہے اور عقل مندوں کا افطار اکثر روزہ داروں سے بہتر ہوتا ہے۔ جابر بن یزید نے امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرمؐ نے جابر بن عبداللہ انصاری سے فرمایا کہ جابر یہ ماہ رمضان ہے۔ جو شخص اس دن میں روزہ رکھے اور رات کے کسی حصہ میں عبادت کرے اور اپنے کو ہر طرح کے حرام سے محفوظ رکھے اور اپنی زبان کو بیہودہ باتوں سے بچا لے وہ گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے ماہ رمضان سے باہر آئے گا۔ جابر نے عرض کی یا رسولؐ اللہ یہ تو بہترین حدیث ہے۔ آپ نے فرمایا مگر جابر اس پر عمل کرنا بہت سخت ہے۔ بہرحال اس مبارک مہینہ کے اعمال کا تذکرہ دو مطالب اور ایک خاتمہ کے ذیل میں کیا جائے گا۔