EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
دُعا ءالحج
شیخ کلینیؒ نے کافی میں ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؑ ماہ رمضان میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
(شیخ کلینیؒ نے کافی میں ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؑ ماہ رمضان میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔)
اَللّٰهُمَّ اِنّي بِكَ وَمِنْكَ اَطْلُبُ حَاجَتِيْ،
خدایا میں تیرے وسیلہ سے اور تجھ ہی سے اپنی حاجتیں طلب کر رہا ہوں
وَمَنْ طَلَبَ حَاجَةً اِليَ النَّاسِ
اور کوئی شخص اپنی حاجت کو لوگوں سے طلب کرتا ہے
فَاِنِّي لَآ اَطْلُبُ حَاجَتي اِلَّا مِنْكَ
تو میں تیرے علاوہ کسی سے طلب نہیں کر رہاہوں کہ
وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ،
تو اکیلا ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے
وَاَسْاَلُكَ بِفَضْلِكَ وَرِضْوَانِكَ
اور میں تیرے فضل و خوشنودی سے یہ سوال کرتا ہوں کہ
اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاَهْلِ بَيْتِهِ،
حضرت محمدؐ اور ان کے اہلبیتؑ پر رحمت نازل فرما
وَاَنْ تَجْعَلَ لِيْ فِيْ عَامِيْ هٰذٰ اِلٰى بَيْتِكَ الْحَرَامِ سَبِيْلًا
اور ہمارے لئے اس سال اپنے محترم گھر کا راستہ بنا دے۔
حِجَّةً مَبْرُوْرَةً
جس کا حج بہترین،
مُتَقَبَّلَةً زَاكِيَةً
مقبول، پاکیزہ ،
خَالِصَةً لَكَ
اور خالص ہو
تَقَرُّ بِهَا عَيْنِيْ،
جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں
وَتَرْفَعُ بِهَا دَرَجَتِيْ،
اور میرا درجہ بلند ہو
وَتَرْزُقَنِيْ اَنْ اَغُضَّ بَصَرِيْ،
اور تو مجھے توفیق دے کہ میں اپنی نگاہوں کو نیچا رکھوں۔
وَاَنْ اَحْفَظَ فَرْجِيْ،
اپنی غفلت کی حفاظت کروں
وَاَنْ اَكُفَّ بِهَا عَنْ جَمِيْعِ مَحَارِمَكَ،
اور تمام محرمات سے اپنے کو بچائے رکھوں
حَتّٰى لَايَكُوْنَ شَيْءٌ اٰثَرَ عِنْدِيْ مِنْ طَاعَتِكَ وَخَشْيَتِكَ،
تا کہ کوئی شئے میری نگاہ میں تیری اطاعت تیرے خوف
وَالْعَمَلِ بِمَا اَحْبَبْتَ،
اور تیرے پسندیدہ اعمال کو انجام دینے سے
وَالتَّرْكِ لِمَا كَرِهْتَ وَنَهَيْتَ عَنْهُ،
اور تیرے ناپسندیدہ اعمال کو ترک کرنے سے زیادہ محبوب نہ ہو
وَاجْعَلْ ذٰلِكَ فِيْ يُسْرٍ وَيَسَارٍ
اور اس امر میں بھی میرے لئے سہولت و آسانی
وَ عَافِيَةٍ وَمَآ اَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ،
اور عافیت قرار دے، اور اس کے ساتھ جو بھی نعمت تو مجھے عطا کرے
وَاَسْاَلُكَ اَنْ تَجْعَلَ وَفَاتِيْ قَتْلًا فِيْ سَبِيْلِكَ،
اور میں یہ بھی سوال کرتا ہوں کہ تو میری وفات کو اپنی راہ میں شہادت بنا دے
تَحْتَ رَايَةِ نَبِيِّكَ مَعَ اَوْلِيَآئِكَ،
تیرے پیغمبرؐ کے پرچم کے نیچے، اپنے اولیاء کے ساتھ۔
وَاَسْاَلُكَ اَنْ تَقْتُلَ بِيْ اَعْدَاۤءَكَ وَاَعْدَاۤءَ رَسُوْلِكَ،
اور میرا سوال یہ بھی ہے کہ میرے ذریعہ اپنے اور اپنے رسولؐ کے دشمنوں کو قتل کرا دے
وَاَسْاَلُكَ اَنْ تُكْرِمَنِيْ بِهَوَانِ مَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِكَ،
اور مجھے جس مخلوق کی ذلت کے عوض تو چاہے کرامت عنایت فرما دے
وَلَا تُهِنِّي بِكَرَامَةِ اَحَدٍ مِنْ اَوْلِيَاۤءِكَ
لیکن اپنے اولیاء کے عوض مجھے ذلیل نہ کرنا۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِيْ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا،
خدایا میرے لیے رسول کے ساتھ راستہ بنا دے۔
حَسْبِيَ اللهُ مَا شَاۤءَ اللهُ۔
اللہ ہی میرے لیے کافی ہے اور وہ جو چاہتا ہے وہ کر لیتا ہے۔
مؤلف کا بیان ہےکے اس دعا ئے حج بھی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ سیدؒ نے اقبال میں امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اسے رمضان میں ہر رات مغرب کے بعد پڑھنا مستحب ہے۔اور کفعمیؒ کا کہنا ہے کہ ہر روز اور شب اول پڑھنا مستحب ہے۔ شیخ مفیدؒ مقنعہ میں شب اول نماز مغرب کے بعد اس کا ذکر کیا ہے۔