خدایا تیرے لیے روزہ رکھا
وَعَلٰى رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ،
اور تیری روزی سے افطار کیا
وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ،
اور تجھ پر میں نے توکّل کیا
تاکہ خدا ہر اس شخص کے برابر ثواب دے جس نے اس دن روزہ رکھا ہے اور اگر دعائے
اَللّٰهُمَّ رَبَّ النُّوْرِ الْعَظِيْمِ
اے اللہ! اے عظیم نور کے رب
پڑھ لے جس کو سیدؒ اور کفعمیؒ نے نقل کیا ہے تو فضیلت اور زیادہ ہو جائے گی۔
روایت میں ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام جب افطار کرنا چاہتے تھے تو فرماتے تھے۔
بِسْمِ اللهِ
خدا کے نام سے
اَللّٰهُمَّ لَكَ صُمْنَا
خدایا ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا
وَعَلٰى رِزْقِكَ اَفْطَرْنَا
اور تیرے رزق سے ہم نے افطار کیا۔
فَتَقَبَّلْ مِنَّا
اس کو تو قبول کرلے
اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
بے شک تو سننے والا اور علیم ہے۔
۴ پہلےلقمہ کے ساتھ کہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ،
بنام خدائے رحمان و رحیم
يَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ اِغْفِرْ لِيْ۔
اے وسیع بخشنے والے مجھ کو بخش دے۔
تا کہ پروردگار اس کو معاف کر دے۔ روایت میں ہے کہ پروردگار ماہ رمضان کے ہر دن کے آخر میں دس لاکھ افراد کو آتش جہنم سے آزاد کرتا ہے لہٰذا دعا کرے کہ اسے بھی انھیں لوگوں میں سے قرار دیدے۔
۵ وقت افطار سورۂ قدر کی تلاوت کرے۔
۶ وقت افطار صدقہ دے اور لوگوں کو افطار کرائے چاہے ایک خرمے اور ایک گھونٹ پانی سے ہو کہ رسول خداؐ سے روایت ہے کہ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کو بھی روزہ دار جیسا ہی ثواب ملے گا اور روزہ دار کے ثواب میں بھی کمی نہ ہو گی۔ اس کے علاوہ افطار سے جو قوت پیدا ہو گی اور اس سے جو اعمال انجام پائیں گے اس کا ثواب بھی ملے گا۔ آیۃ اللہ علامہ حلیؒ نے رسالہ سعدیہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی مومن کسی مومن کو ماہ رمضان میں ایک لقمہ بھی کھلادے گاتو پروردگار اسے تیس غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا اور بارگاہ الٰہی میں اس کی دعا مستجاب ہو گی۔
۷ ہر رات میں ہزار مرتبہ ‘‘اناانزلناہ’’ کی تلاوت کرے ۔
۸ ہر شب میں سو مرتبہ حٓمٓ دخان کی تلاوت کرےاگر ممکن ہو۔
۹ سید ؒ نے روایت کی ہے کہ ہر شب ماہ رمضان اگر یہ دعا پڑھے تو چالیس سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
اَللّٰهُمَّ رَبَّ شَهْرِ رَمَضَانَ
خدایا اے ماہِ رمضان کے مالک
الَّذِيْ اَنْزَلْتَ فِيْهِ الْقُرْاٰنَ،
جس نے قرآن کو اُتارا ہے
وَافْتَرَضْتَ عَلٰى عِبَادِكَ فِيْهِ الصِّيَامَ،
اور اپنے بندوں پر روزہ واجب کیا ہے۔
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ،
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَارْزُقْنِيْ حَجَّ بَيْتِكَ الْحَرَامِ
اور ہمیں حجِّ بیت اللہ کی توفیق عطا فرما
فِيْ عَامِيْ هٰذَا وَفِيْ كُلِّ عَامٍ،
اس سال اور ہر سال
وَاغْفِرْ لِيْ تِلْكَ الذُّنُوْبَ الْعِظَامَ،
ہمارے عظیم گناہوں کو معاف کردے کہ
فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُهَا غَيْرُكَ
ایسے گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی معاف نہیں کرسکتا ہے
يَا رَحْمٰنُ يَا عَلَّامُ۔
اے خدائے رحمٰن اے خدائے علّام۔
۱۰ ہر رات دعائے حج پڑھے جو پہلی قسم کے اعمال میں گذر چکی ہے۔