ماہِ رمضان کی راتوں میں ہزار رکعت نماز پڑھنے کی ترکیب
واضح رہے کہ جو اعمال ماہ رمضان کی راتوں میں مستحب ہیں ان میں سے ہزار رکعت نماز بھی ہے پورے مہینہ میں، جس کو عظیم علماء اور مشائخ نے اپنی فقہ یا عبادات کی کتابوں میں درج کیا ہے۔ اس کے بجا لانے کی ترکیب کے بارے میں روایا ت میں اختلاف ہے لیکن امام محمد تقی علیہ السلام سے ابن ابی قرہ کی روایت اور کتاب غریہّ میں شیخ مفید ؒ کی رائے ہے بلکہ مشہور علماء کی رائے یہی ہے کہ ابتدائی دس۱۰؍راتوں میں اور اس کےبعد کی دس راتوں میں ہر رات بیس رکعت نماز پڑھے ہر دو رکعت پر ایک سلام۔ اس طرح کے آٹھ رکعت نماز مغرب کے بعد اور بارہ رکعت نماز عشاء کے بعد۔ پھر آخری دس راتوں میں ہر شب میں تیس رکعت نماز پڑھے۔ آٹھ رکعت نماز مغرب کے بعد اور بائیس رکعت نماز عشاء کے بعد۔ یہ سب ملا کے سات سو ۷۰۰؍ رکعت ہو جائیں گی اور تین سو رکعت تینوں شبہائے قدر یعنی انیسویں۱۹؍ اکیسویں۲۱؍ تیئسویں۲۳؍ رات میں پڑھے کہ سب ملا کر ہزار رکعت ہو جائیں گی۔ یہ نمازیں دوسری ترکیب کے ساتھ بھی وارد ہوئی ہیں لیکن اس مقام پر اس تفصیل اور بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ امید ہے کہ اہل خیر اس طرح کی عبادتوں میں غفلت سے کام نہ لیں گے اور اپنے کو اس کے فضائل سے محروم نہ رکھیں گے۔
روایت میں ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے نوافل میں ہر دو رکعت کے بعد یہ دعا پڑھے۔
اے معبود! تو قضا وقدر میں جن یقینی امور کو طے فرماتا ہے
مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُوْمِ،
اور محکم فیصلے کرتا ہے
وَفِيْـمَا تَفْرُقُ مِنَ الْاَمْرِ الْحَكِيْمِ، فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ،
اور شبِ قدر میں جو پُر حکمت حکم جاری کرتا ہے
اَنْ تَجْعَلَنِيْ مِنْ حُجَّاجِ بَيْتِكَ الْحَرَامِ،
ان میں مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کے ایسے حاجیوں میں سے قرار دے کہ
الْمَبْرُوْرِ حَجُّهُمُ
جن کا حج مقبول ہو
الْمَشْكُوْرِ سَعْيُهُمْ،
جن کی سعی مشکور ہو
الْمَغْفُوْرِ ذُنُوْبُهُمُ،
اور جن کے گناہ معاف ہوں
وَاَسْاَلُكَ اَنْ تُطِيْلَ عُمْرِيْ فِيْ طَاعَتِكَ،
اور میرا تجھ سے سوال ہے کہ اپنی اطاعت میں مجھے طولِ عمر عطا فرما
وَتُوَسِّعَ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ،
اور میرے رزق میں وسعت عنایت فرما
يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔