EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
شب سترہ
شب سترہ. انتہائی مبارک رات ہے۔ اس شب میں لشکرِ اسلام نے لشکر کفار سے مقام بدر میں سامنا کیا اور اس کے دن میں جنگ بدر واقع ہوئی جس میں پروردگار نے رسول اکرمؐ کو مشرکوں پر فتح عنایت فرمائی جو اسلام کی عظیم ترین فتح تھی۔ اسی سے علماء نے فرمایا ہے کہ اس دن میں روزہ، صدقہ ، شکر خدا، غسل اور عبادت وغیرہ انجام دے جو شب میں بھی فضیلت رکھتی ہے۔
مولٔف کا بیان ہے کہ شب بدر کے روایات میں وارد ہوا ہے کہ رسول اکرمؐ نے شب بدر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ کون ہے جو جا کر چاہِ بدر سے پانی لے آئے تاکہ ہم سب سیراب ہوں۔ اصحاب نے سکوت کیا اور کسی میں ہمت نہیں پیدا ہوئی تو امیر المومنین ؑ نے مشکیزہ اٹھایا اور پانی کی تلاش میں نکل پڑے۔ رات انتہائی سرد تھی اور تیز ہوائیں چل رہی تھیں ۔ اندھیری رات میں آپ کنویں کے پاس پہنچے۔ کنواں بھی کافی گہرا تھا اور اندھیرا۔ آپ کے پاس کوئی ڈول بھی نہیں تھا جس کے ذریعہ پانی نکال سکتے چنانچہ آپ کنویں میں اترے اور مشکیزہ کو بھر لیا۔ لے کر رسول اکرمؐ کی طرف چلے۔ اچانک تیز ہوا چلی اور آپ بیٹھ گئے۔ جب ہوا کا زور کم ہوا تو پھر چلے اور پھر دوبارہ تیز آندھی چلی تو پھر بیٹھ گئے اور پھر اٹھ کر چلے اور تیسری مرتبہ پھر ویسے ہی واقعہ پیش آیا یہاں تک کہ آپ نے اپنے کو رسول اکرم ؐ تک پہنچا دیا۔ حضرت نے فرمایا کہ یا ابوالحسن تم نے بڑی دیر لگا دی۔ عرض کی کہ تین مرتبہ آندھیوں کا زور سامنے آیا اور میں لرز گیا۔ لہٰذا اس کے زور کے گھٹنے کا انتظار کرتا رہا۔ فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کیاتھا؟ عرض کی حضور بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا پہلی مرتبہ جبرئیل تھے جو ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھیں سلام کرنے آئے تھے۔ اس کے بعد میکائیل ہزار فرزتوں کے ساتھ آئے تھے اور تم کو سلام کر رہے تھے۔ اس کے بعد اسرافیل ہزار فرشتوں کے ساتھ آئے اور سب نے تم کو سلام کیا۔ یہ سب آج ہماری مدد کے لئے آئے تھے۔
مولٔف کا بیان ہے کہ اسی نکتہ کی طرف اس شخص نے اشارہ کیا ہے جس نے یہ کہا ہےکہ امیرا لمومنینؑ کے لئے ایک رات میں تین ہزار تین فضیلتیں تھیں اور اسی واقعہ کی طرف سید حمیریؒ نے اپنے قصیدہ میں اشارہ کیا ہے۔
اُقْسِمُ بِاللّٰهِ وَ اٰلاۤئِهِ
ہر شخص اپنی بات کا گر ذمّہ دار ہے
وَ الْمَرْءُ عَمَّا قَالَ مَسْئُولٌ
شاہد مرے کلام کا پروردگار ہے
اِنَّ عَلِيِّ بْنَ اَبِي طَالِبٍ
میرا علیؑ جو ہے ابوطالب کا لختِ دل
عَلَى الْتُّقَى وَ الْبِرِّ مَجْبُولٌ
تقویٰ کا اور خیر کا اک شاہکار ہے
كَانَ اِذَا الْحَرْبُ مَرَتْهَا الْقَنَا
دیکھا ہے اس کو اس طرح میدانِ جنگ میں
وَ اَحْجَمَتْ عَنْهَا الْبَهَالِيلُ
وہ مطمئن ہے اور جہاں بے قرار ہے
يَمْشِي اِلَى الْقِرْنِ وَ فِي كَفِّهِ
جاتا ہے سوئے دشمنِ اسلام اس طرح
اَبْيَضُ مَاضِي الْحَدِّ مَصْقُولٌ
جیسے خدا کے ہاتھ میں یہ ذوالفقار ہے
مَشْيَ الْعَفَرْنَا بَيْنَ اَشْبَالِهِ
بڑھتا ہے سوئے معرکہ شیروں کے درمیاں
اَبْرَزَهُ لِلْقَنَصِ الْغِيلُ
جیسے نظر کے سامنے کوئی شکار ہے
ذَاكَ الَّذِي سَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ
اس پر سلام کرتے ہیں میکال و جبرئیل
عَلَيْهِ مِيكَالٌ وَ جِبْرِيلٌ
بہ روزِ بدر اس کا بڑا افتخار ہے میکال و جبرئیل و سرافیل آئے ہیں
مِيكَالُ فِي اَلْفٍ وَ جِبْرِيلُ فِي
اور سب کے ساتھ فوجِ ملک اک ہزار ہے
اَلْفٍ وَ يَتْلُوهُمْ سَرَافِيلُ
میداں میں آئے فوج ابابیل کی طرح
لَيْلَةَ بَدْرٍ مَدَدا اُنْزِلُوا
یہ انتظام نصرتِ پروردگار ہے
كَاَنَّهُمْ طَيْرٌ اَبَابِيلُ
قربانِ بوتراب نہ کس طرح ہو کلیمؔ یہ وہ بشر ہے جس پہ ملک بھی نثار ہے