EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
اعمالِ مشترکہ شبہائے قدر
شبِ قدر کے اعمال کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم تینوں راتوں میں مشترک ہے اور دوسری قسم میں ہر رات کے ساتھ مخصوص اعمال ہیں۔مشترک قسم میں چند چیزیں ہیں: ۱غسل ___علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ اس غسل کو غروب آفتاب کے فوراً بعد ہونا چاہئے بلکہ نماز مغربین بھی اسی غسل سے پڑھنی چایئے۔
۲دو رکعت نماز، ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سات مرتبہ قل ھواللہ احد۔ نماز کے بعد ستر مرتبہ
اَسْتَغْفِرُ اللهَ واَتُوبُ اِلَيْهِ
خدا سے بخشش چاہتا اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
پڑھےکے روایت پیغمبرؐ میں ہے کہ ایسا شخص اپنی جگہ سے نہ اٹھے گا مگر یہ کہ پروردگار اسے اور اس کے والدین کو بخش دے گا۔
۳قرآن مجید کو کھول کر سامنے رکھے اور یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ بِكِتَابِكَ الْمُنْزَلِ وَمَا فِيْهِ
خدایا میں تیری کتابِ منزل اور جو کچھ بھی اس میں ہے کہ
وَفِيْهِ اسْمُكَ الْاَكْبَرُ وَاَسْمَآؤُكَ الْحُسْنٰى،
اس کے واسطے سے میں سوال کرتا ہوں کہ اس میں تیرے بزرگ نام اور تیرے اسماء حسنیٰ ہیں
وَمَا يُخَافُ وَيُرْجٰى
اور ہر وہ شئے ہے جس سے خوف یا امید وابستہ ہوتی ہے
اَنْ تَجْعَلَنِيْ مِنْ عُتَقَآئِكَ مِنَ النَّارِ۔
مجھے آتشِ جہنّم سے آزاد ہونے والوں میں قرار دے دے۔
اس کے بعد اپنی حاجتیں طلب کرے۔
۴قرآن مجید کو سر پر رکھیں اور یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هَذَا الْقُرْاٰنِ،
خدایا اس قرآن کا واسطہ
وَبِحَقِّ مَنْ اَرْسَلْتَهُ بِهِ،
اور اس کا واسطہ جسے قرآن دے کر بھیجا ہے
وَبِحَقِّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَهُ فِيْهِ،
اور ان مومنین کا واسطہ جن کی اس قرآن میں تعریف کی ہے۔
وَبِحَقِّكَ عَلَيْهِمْ،
اور تیرے اس حق کا واسطہ
فَلَا اَحَدَ اَعْرَفُ بِحَقِّكَ مِنْكَ
جو ان سب پر ہے کہ تیرے حق کو تجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہے۔
اس کے بعد دس مرتبہ کہے
بِكَ يَااَللهُ
اے اللہ تیرا واسطہ،
بِمُحَمَّدٍ
دس مرتبہ
محمدؐ کا واسطہ،
بِعَلِيٍّ
دس مرتبہ
علیؑ کا واسطہ،
بِفَاطِمَةَ
دس مرتبہ
فاطمہؑ کا واسطہ،
بِالْحَسَنِ
دس مرتبہ
حسنؑ کا واسطہ،
بِالْحُسَيْنِ
دس مرتبہ
حسینؑ کا واسطہ،
بِعَلِي بْنِ الْحُسَيْنِ
دس مرتبہ
علی بن الحسینؑ کا واسطہ،
بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ
دس مرتبہ
محمد بن علیؑ کا واسطہ،
بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ
دس مرتبہ
جعفر بن محمدؑ کا واسطہ،
بِمُوْسَى بْنِ جَعْفَرٍ
دس مرتبہ
موسیٰ بن جعفرؑ کا واسطہ،
بِعَلِيِّ بْنِ مُوسٰى
دس مرتبہ
علی بن موسیٰؑ کا واسطہ،
بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ
دس مرتبہ
محمد بن علیؑ کا واسطہ،
بِعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ
دس مرتبہ
علی بن محمدؑ کا واسطہ،
بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
دس مرتبہ
حسن بن علیؑ کا واسطہ،
بِالْحُجَّةِ
دس مرتبہ
حجّت القائمؑ کا واسطہ۔
اور آخر میں اپنی حاجت طلب کرے۔
۵زیارت امام حسینؑ کے روایت میں ہے کہ شب قدر میں آسمان سے منادی آواز دیتا ہے کہ پروردگار عالم نے ہر زائر قبر حسینؑ کو بخش دیا ہے۔
۶ان راتوں میں شب بیداری بھی مستحب ہے کہ روایتوں میں ہے کہ ان راتوں میں شب بیداری کرنے والوں کے گناہ بخش دیئے جاتےہیں۔ چاہے وہ آسمان کے ستاروں پہاڑ کی سنگینیوں اور دریا کے پیمانہ کے برار ہی کیوں نہ ہو۔
۷سو رکعت نماز کی بھی بے حد فضیلت وارد ہوئی ہے اور بہتر یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد دس مرتبہ قل ھواللہ احد پڑھے ۔
۸یہ دعا پڑھے ۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَمْسَيْتُ لَكَ عَبْدًا دَاخِرًا،
خدایا میں نے اس طرح شام کی ہے کہ میں تیرا بندۂ ذلیل ہوں۔
لَا اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا،
میرے اختیار میں نہ فائدہ ہے اور نہ نقصان
وَلَا اَصْرِفُ عَنْهَا سُوٓءًا،
اور نہ کسی بلا کو ٹال سکتا ہوں۔
اَشْهَدُ بِذٰلِكَ عَلٰى نَفْسِيْ،
میں خود اپنے بارے میں گواہ ہوں
وَاَعْتَرِفُ لَكَ بِضَعْفِ قُوَّتِيْ،
اور اعتراف کرتا ہوں اپنی کمزوری
وَقِلَّةِ حِيْلَتِيْ،
اور بے چارگی کا
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ،
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَنْجِزْ لِيْ مَا وَعَدْتَنِيْ،
اور پورا فرما دے جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے
وَجَمِيْعَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ،
یا مومنین و مومنات سے ،
مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ،
آج کی رات مغفرت کا وعدہ کیا ہے اُسے پورا فرما دے۔
وَاَتْمِمْ عَلَيَّ مَا اٰتَيْتَنِيْ،
اور جو کچھ مجھے دیا ہے اس کی تکمیل فرما دے کہ
فَاِنِّيْ عَبْدُكَ الْمِسْكِيْنُ الْمُسْتَكِيْنُ
میں تیرا بندۂ مسکین
الضَّعِيْفُ الْفَقِيْرُ الْمَهِيْنُ،
و ذلیل و ضعیف و فقیر ہوں۔
اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِيْ نَاسِيًا لِذِكْرِكَ فِيْـمَا اَوْلَيْتَنِيْ،
خدا مجھے نعمتوں میں اپنی یاد کو بھلا دینے والا
وَلَا لِاِحْسَانِكَ فِيْـمَا اَعْطَيْتَنِيْ،
اور عطاؤں میں اپنے احسانات سے غافل ہونے والا نہ بنا دینا۔
وَلَا اٰيِسًا مِنْ اِجَابَتِكَ وَاِنْ اَبْطَاَتَ عَنِّيْ،
میں دعاؤں کی قبولیت سے مایوس نہ ہوجاؤں چاہے اس میں تاخیر ہی کیوں نہ ہوجائے۔
فِي سَرَّاۤءَ اَوْ ضَرَّاۤءَ،
راحت ہو یا تکلیف،
اَوْ شِدَّةَ اَوْ رَخَاۤءَ،
شدّت ہو یا آسانی۔
اَوْ عَافِيَةٍ اَوْ بَلَاۤءٍ،
عافیت ہو یا بلا،
اَوْ بُؤْسٍ اَوْ نَعْمَاۤءَ،
تنگی ہو یا نعمتیں۔
اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاۤءِ۔
تو ہر دعا کا سننے والا ہے۔
اس دعا کو کفعمیؒ نے امام زین العابدینؑ سے روایت کی ہے کہ آپ قیام و قعود، رکوع و سجود ہر حال میں پڑھا کرتے تھے۔ علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ اس شب میں بہترین عمل طلب استغفار اور دعا ہے۔ دنیا و آخرت کے لئے، اپنے والدین کے لئے، اقرباء کے لئے ، زندہ و مردہ برادران ایمانی کےلئے اور جہاں تک ممکن ہو صلوات محمدؐ و آل محمدؐ پر پڑھے۔ واضح رہے کہ روایات میں یہ بھی ہے کہ ان تین راتوں میں دعا ء جوشن کبیر پڑھے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور روایت میں ہے کہ رسول اکرمؐ سےپوچھا گیاکہ اگر شب قدر مل جائے تو کیا کروں ؟ فرمایا عافیت طلب کرو۔