خدایا میں تیری ذاتِ کریم کی پناہ چاہتا ہوں
اَنْ يَنْقَضِيَ عَنِّي شَهْرُ رَمَضَانَ
اس واسطے کہ ماہِ رمضان گذر جائے
اَوْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ لَيْلَتِيْ هٰذِهِ
یا آج کی رات کی صبح ہوجائے
وَلَكَ قِبَلِيْ ذَنْبٌ اَوْ تَبِعَةٌ تُعَذِّبُنِيْ عَلَيْهِ۔
اور میرے ذمّہ کوئی گناہ یا مؤاخذہ باقی رہ جائے جس پر عذاب کرسکے۔
۲کفعمیؒ نے بلدالامین کے حاشیہ میں نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادقؑ آخری عشرہ کی رات میں فرائض اور نوافل کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ اَدِّ عَنَّا حَقَّ مَا مَضٰى مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ
خدایا ہماری طرف سے ماہِ رمضان کا جو حصّہ گذر گیا ہے اس کے حق کو ادا فرما دے
وَاغْفِرْ لَنَا تَقْصِيْـرَنَا فِيْهِ،
اور ہماری تقصیر کو معاف کردے۔
وَتَسَلَّمْهُ مِنَّا مَقْبُوْلًا،
ہمیں اس سے قبول کرلے
وَلَا تُؤَاخِذْنَا بِاِسْرَافِنَا عَلٰى اَنْفُسِنَا،
اور ہمارا مؤاخذہ ہم سے اپنے نفوس پر زیادتی کا مؤاخذہ نہ کرنا۔
وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمَرْحُوْمِيْنَ
ہمیں ان میں قرار دے جن پر رحمت نازل ہوئی
وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ المَحْرُوْمِيْنَ۔
ان میں نہ قرار دے جو رحمت سے محروم رہ گئے۔
فرمایا کہ جو شخص ایسا کہے گا پروردگار گذشتہ ایّام کی تمام کوتاہیوں کو معاف کردے گا اور آئندہ آخر ماہ تک اسے گناہوں سے محفوظ رکھے گا۔
۳سید ابن طاؤسؒ نے اقبال میں ابن ابی عمر سے مرازم سے نقل کیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام آخری عشرہ کی ہر شب میں یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ قُلْتَ فِيْ كِتَابِكَ الْمُنْزَلِ
خدایا تو نے اپنی اس کتابِ منزل میں فرمایا ہے کہ
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ
ماہِ رمضان وہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا
هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ
جو لوگوں کے لیے ہدایت اور لوگوں کے لیے تمیزِ حق و باطل کی نشانی ہے۔
فَعَظَّمْتَ حُرْمَةَ شَهْرِ رَمَضَانَ
خدایا تو نے حرمتِ رمضان کو عظیم بنایا۔
بِمَا اَنْزَلْتَ فِيْهِ مِنَ الْقُرْاٰنِ،
اس میں قرآن نازل کیا
وَخَصَصْتَهُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ
اور شبِ قدر قرار دی
وَجَعَلْتَهَا خَيْرًا مِنْ اَلْفِ شَهْرٍ،
اور اس رات کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا۔
اَللّٰهُمَّ وَهٰذِهِ اَيَّامُ شَهْرِ رَمَضَانَ قَدِ انْقَضَتْ،
مالک یہ ماہِ رمضان کے دن
وَلَيَالِيْهِ قَدْ تَصَرَّمَتْ،
رات گذر گئے
وَقَدْ صِرْتُ يَا اِلـٰهِيْ مِنْهُ اِلٰى مَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّي
اور میں جہاں تک پہنچا ہوں وہ تو مجھ سے بہتر جانتا ہے
وَاَحْصٰى لِعَدَدِهِ مِنَ الْخَلْقِ اَجْمَعِيْنَ،
اور تمام مخلوقات سے زیادہ اس کا احاطہ رکھتا ہے
فَاَسْاَلُكَ بِمَا سَاَلَكَ بِهِ مَلَآئِكَتُكَ الْمُقَرَّبُوْنَ
لہٰذا میں ان تمام چیزوں کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال ملائکۂ مقرّبین،
وَاَنْبِيَآؤُكَ الْمُرْسَلُوْنَ،
انبیاءِ مرسلین
وَعِبَادُكَ الصَّالِحُوْنَ،
اور عباد صالحین نے کیا ہے۔
اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَنْ تَفُكَّ رَقَبَتِيْ مِنَ النَّارِ،
اور ہماری گردن کو جہنّم سے آزاد کردے
وَتُدْخِلَنِى الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ،
ہمیں اپنی رحمت سے جنّت میں داخلہ دے دے
وَاَنْ تَتَفَضَّلَ عَلَيَّ بِعَفْوِكَ وَكَرَمُكَ
اور اپنے عفو کرم کو ہمارے شاملِ حال کردے۔
وَ تَتَقَبَّلَ تَقَرُبِيْ
ہمارے تقرّب کو قبول کرلے
وَ تَسْتَجِيْبَ دُعَآئِيْ
اور ہماری دعا کو مستجاب فرما۔
وَتَمُنَّ عَلَيَّ بِالْاَمْنِ يَوْمَ الْخَوْفِ
اور ہمیں روزِ قیامت اس ہول سے محفوظ رکھنا
مِنْ كُلِّ هَوْلٍ اَعْدَدْتَهُ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ،
جو تو نے اس دن کے لیے مہیّا کیا ہے۔
اِلـٰهِيْ وَاَعُوْذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ،
خدایا میں پناہ چاہتا ہوں تیری ذاتِ کریم
وَبِجَلَالِكَ الْعَظِيْمِ
اور جلالِ عظیم کی
اَنْ يَنْقَضِيَ اَيَّامُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَلَيَالِيْهِ
اس واسطے کہ ماہِ رمضان کے شب و روز گذر جائیں
وَلَكَ قِبَلِيْ تَبِعَةٌ اَوْ ذَنْبٌ تُؤَاخِذُنِيْ بِهِ
اور میرے ذمّہ کوئی مؤاخذہ یا گناہ باقی رہ جائے
اَوْ خَطِيْئَةٌ تُرِيْدُ اَنْ تَقْتَصَّهَا مِنِّيْ لَمْ تَغْفِرْهَا لِيْ
جس کا تو حساب کرے یا کوئی خطا جس کا تو بدلہ لے اور اُسے معاف نہ کرے
سَيِّدِيْ سَيِّدِيْ سَيِّدِيْ
اور خدایا میرے پروردگار میرے مالک
اَسْاَلُكَ يَا لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے وہ خدا جس کے علاوہ
اِذْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
کوئی خدا نہیں ہے
اِنْ كُنْتَ رَضَيْتَ عَنِّي فِيْ هٰذَا الشَّهْرِ
اگر تو ہم سے اس مہینہ میں راضی ہوگیا ہے
فَازْدَدْ عَنِّيْ رِضًا،
تو اپنی رضا میں اضافہ فرما دے
وَاِنْ لَمْ تَكُنْ رَضَيْتَ عَنِّي
اور اگر راضی نہیں ہے
فَمِنَ الْاٰنَ فَارْضَ عَنِّيْ
تو ہم سے راضی ہوجا
يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ،
اے بہترین رحم کرنے والے۔
يَا اَللهُ يَا اَحَدُ يَا صَمَدُ
اے اللہ، اے احد، اے بے نیاز،
يَا مَنْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ
اے وہ جس کا کوئی باپ
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ۔
یا بیٹا یا ہمسر نہیں ہے۔
۴بعدہ اس دعا کی تکرار کرے
يَا مُلَيِّنَ الْحَدِيْدِ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ،
اے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کرنے والے !
يَا كَاشِفَ الضُرِّ وَالْكُرَبِ الْعِظَامِ عَنْ اَيُّوْبَ (عليه السلام)،
اے ایّوب علیہ السلام کے رنج و غم کو دور کرنے والے!
اَيْ مُفَرِّجَ هَمِّ يَعْقُوْبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ،
اے یعقوب علیہ السلام کے ہمّ و غم کو دور کرنے والے !
اَيْ مُنَفِّسَ غَمِّ يُوْسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ،
اے یوسف علیہ السلام کو غم و الم سے نجات دلانے والے !
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ،
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
كَمَا اَنْتَ اَهْلُهُ اَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ اَجْمَعِيْنَ،
جیسی رحمتوں کا تو اہل ہے اور جیسی رحمتیں تو نازل کی ہیں
وَافْعَلْ بِيْ مَا اَنْتَ اَهْلُهُ،
ان سب پر اور میرے ساتھ وہ برتاؤ کرنا
وَلَا تَفْعَلْ بِيْ مَا اَنَا اَهْلُهُ۔
جس کا تو اہل ہے اور وہ برتاؤ نہ کرنا جس کا میں اہل ہوں۔
۵وہ دعا بھی ہے جو کافی میں اپنی سند کے ساتھ مقنعہ اور مصباح میں بغیر سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے کہ آخری عشرہ کی پہلی رات یعنی اکیسویں شب یہ دعا پڑھے۔
يَامُوْلِجَ اللَّيْلِ فِي النَّهَارِ،
اے رات کو دن کرنے والے
وَمُوْلِجَ النَّهَارِ فِي اللَّيْلِ،
اور دن کو رات میں داخل کرنے والے
وَمُخْرِجَ الْحَيِّ مِنَ الْمَيِّتِ،
اور زندہ کو مُردہ سے
وَمُخْرِجَ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ،
اور مُردے کو زندہ سے نکالنے والے،
يَا رَازِقَ مَنْ يَشَاۤءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ،
جس کو چاہے بے حساب رزق دینے والے۔
يَااَللهُ يَارَحْمٰنُ،
اے اللہ! اے رحمٰن!
يَااللهُ يَارَحِيْمُ،
اے اللہ! اے رحیم!
يَااللهُ يَااللهُ يَااللهُ
اے اللہ! اے اللہ!
لَكَ الْاَسَّمَاۤءُ الْحُسْنٰى،
تیرے لیے حسین نام
وَالْاَمْثَالُ الْعُلْيَا،
اور بلند ترین مثالیں،
وَالْكِبْرِيَاۤءُ وَالْاٰلَاۤءُ،
کبریائی اور نعمتیں ہیں۔
اَسْاَلُكَ اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ،
میرا سوال ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاَنْ تَجْعَلَ اسْمِيْ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ فِي السُّعَدَاۤءِ،
اور میرا نام آج کی رات نیک بختوں میں
وَرُوْحِيْ مَعَ الشُّهَدَاۤءِ،
اور میری روح شہیدوں میں
وَاِحْسَانِيْ فِي عِلِّيِّيْنَ،
اور میری نیکیاں علیّین میں قرار دے دے
وَاِسَآئَتِيْ مَغْفُوْرَةً،
اور میری برائیوں کو معاف کردے
وَاَنْ تَهَبَ لِيْ يَقِيْنًا تُبَاشِرُ بِهِ قَلْبِيْ،
اور مجھے وہ یقین دے جو دل سے پیوست ہو
وَاِيْمَانًا يُذْهِبُ الشَّكَّ عَنِّي،
اور وہ ایمان دے جو شک کو زائل کردے
وَتُرْضِيَنِيْ بِمَا قَسَمْتَ لِي،
اور مجھے میرے مقسوم سے راضی کردے
وَاٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً،
اور مجھے دنیا میں نیکی عطا فرما
وَفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً،
اور آخرت میں نیکی عطا فرما
وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الْحَرِيْقِ،
اور مجھے آتشِ جہنّم سے بچالے۔
وَارْزُقْنِيْ فِيْهَا ذِكْرَكَ وَشُكْرَكَ وَالرَّغْبَةَ اِلَيْكَ،
مجھے اپنا ذکر شکر و رغبت امانت عطا فرما اور ان تمام چیزوں کی توفیق دے
وَالْاِنَابَةَ وَالتَّوْفِيْقَ لِمَا وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ السَّلَامُ۔
جن کی توفیق محمدؐ و آل محمدؐ کو دی ہے علیہ و علیہم السلام۔
کفعمیؒ نے سید ابن باقیؒ سے نقل کیا ہےکہ اکیسویں شب میں یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَاقْسِمْ لِي حِلْمًا يَسُدُّ عَنِّيْ بَابَ الْجَهْلِ،
اور میری قسمت میں وہ حلم قرار دے جو جہالت کے دروازے کو بند کردے
وَهُدًى تَمُنُّ بِهِ عَلَيَّ مِنْ كُلِّ ضَلَالَةٍ،
اور وہ ہدایت دے جس کے ذریعہ ہر گمراہی سے بچالے
وَغِنًى تَسُدُّ بِهِ عَنِّيْ بَابَ كُلِّ فَقْرٍ
وہ بے نیازی دے جس کے ذریعہ ہر فقر و فاقہ کا دروازہ بند کردے۔
وَقُوَّةً تَرُدُّ بِهَا عَنِّي كُلَّ ضَعْفٍ،
وہ قوّت دے جس کے ذریعہ ہر ضعف کو دور کردے
وَعِزًا تُكْرِمُنِيْ بِهِ عَنْ كُلِّ ذُلٍّ،
اور وہ عزّت دے جس کے ذریعہ ہر ذات سے بلندی عنایت فرما
وَرِفْعَةً تَرْفَعُنِيْ بِهَا عَنْ كُلِّ ضَعَةٍ،
اور وہ بلندی دے جس نے ذریعہ ہر پستی سے رفعت عطا فرما۔
وَاَمْنًا تَرُدُّ بِهِ عَنِّيْ كُلِّ خَوْفٍ،
وہ امن دے جس کے ذریعہ ہر خوف کو دور کردے
وَعَافِيَةً تَسْتُرُنِي بِهَا عَنْ كُلِّ بَلَاۤءٍ،
اور وہ عافیت دے جس کے ذریعہ ہر بلا سے محفوظ رکھے۔
وَعِلْمًا تَفْتَحُ لِيْ بِهِ كُلَّ يَقِيْنٍ،
وہ علم دے جس کے ذریعہ ہر یقین کا دروازہ کھول دے
وَيَقِيْنًا تُذْهِبُ بِهِ عَنِّيْ كُلَّ شَكٍّ،
اور وہ یقین دے جس کے ذریعہ ہر شک کو دور کردے۔
وَدُعَاۤءً تَبْسُطُ لِيْ بِهِ الَاِجَابَةَ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ وَفِي هٰذِهِ السَّاعَةِ،
وہ دعا دے جس کے لیے اجابت کے راستے کھلے ہوں آج کی رات
السَّاعَةِ السَّاعَةِ السَّاعَةِ يَا كَرِيْمُ،
اسی ساعت، اسی ساعت، اسی وقت اور اسی وقت اے صاحبِ کرم
وَخَوْفًا تَنْشُرُ لِيْ بِهِ كُلَّ رَحْمَةٍ،
اور وہ خوف دے جس کے ذریعہ میرے لیے ہر رحمت کو نشر کردے
وَعِصْمَةً تَحُوْلُ بِهَا بَيْنِيْ وَبَيْنَ الذُّنُوْبِ
اور مجھے وہ تحفّظ دے جو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان حائل ہوجائے
حَتَّى اُفْلِحَ بِہَا عِنْدَ الْمَعْصُوْمِيْنَ عِنْدَكَ
تا کہ میں اس کے ذریعہ معصوم بندوں کی بارگاہ میں کامیاب ہوسکوں
بِرَحْمَتِكَ يَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اپنی رحمتِ خاص سے اے بہترین رحم کرنے والے۔
اور روایت میں یہ ہے کہ حماد بن عثمان اکیسویں شب میں امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے پوچھا کہ کیا تم نے غسل کر لیا ہے؟ عرض کی یقیناً۔ آپ پر میری جان قربان۔ آپ نے حصیر طلب کی اور مشغول نماز ہو گئے اور برابر نماز پڑھتے رہے اور حماد بھی حضرت کے ساتھ نمازیں ادا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے دعا کی۔ حماد نے آمین کہی۔ یہاں تک کہ طلوع فجر کے وقت حضرت نے اذان و اقامت کہی اور اپنے غلاموں کو بھی طلب کیا۔ اس کے بعد نماز صبح ادا فرمائی۔ پہلی رکعت میں سورۂ حمد و اناانزلناہُ اور دوسری رکعت میں حمد و توحید پڑھی۔ نماز کے بعد تسبیح و تمحید و تقدیس اور ثنائے پروردگار محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات اور مومنین و مومنات کے لئے دعاؤں میں مشغول ہوگئے پھر اس کے بعد سجدے میں سر رکھا اور ایک ساعت تک سوائے سانسوں کے اور کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھی۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ وَ الْاَبْصَارِ۔۔۔۔
نہیں کوئی معبود مگر تو کہ جو دلوں اور آنکھوں کو زیر و زبر کرنے والا ہے۔۔۔۔
جو اقبال میں نقل کی گئی ہے اور شیخ کلینیؒ نے روایت کی ہے کہ امام باقرؑ اکیسویں اور تیئسویں شب میں آدھی رات تک دعائے پڑھتے رہتے تھے اور اس کے بعد نمازیں شروع کرتے تھے اور اس ماہ کی آخری عشرہ میں ہر رات میں غسل بھی مستحب ہے اور روایت میں ہے کہ رسول اکرمؐ اس عشرہ کی ہر شب میں غسل کرتے تھے اور اس عشرہ میں اعتکاف بھی مستحب ہے جس کی بے پناہ فضیلت ہے اور یہ اعتکاف کا بہترین وقت ہے۔ رسول اکرمؐ کی تاریخ میں ہے ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ آپ کے لئے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا جاتا تھا اور آپ دامن کو سمیٹ لیتے تھے بستر کو پلٹ دیتے تھے واضح رہے کہ ۴۰ھ میں اکیسویں شب میں مولائے کائنات امیر المومنینؑ کی شہادت واقع ہوئی ہے جس کی بنا پر آل محمدؐ کے چاہنے والوں کا غم تازہ ہو جاتا ہے۔ روایت ہے کہ اس شب بھی شبِ شہادت امام حسینؑ کی مانند زمین سے جو پتھر اٹھایا جاتا تھا اس کے نیچے تازہ خون جوش مارتا تھا۔ شیخ مفیدؒ نے فرمایا ہے اس رات میں بکثرت صلوات پڑھے اور آل محمدؐ کے ظالموں اور امیرالمومنینؑ کے قاتلوں پر لعنت کرے اور اکیسویں، روزِ شہادت امیرالمومنینؑ ہے لہٰذا مناسب ہے کہ آپ کی زیارت پڑھی جائے اور وہ کلمات ادا کیئے جائیں جو جناب خضر نے ادا کئے تھے اور جو اس دن بمنزلہ زیارت ہے۔