اے اللہ تو اپنے ولی پر جو امام حسن عسکریؑ کے فرزند اور (تیری) حجّت ہیں
صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰبَآئِهِ
ان پر اور ان کے آباؤ اجداد پر درود و سلام بھیج
فِي هٰذِهِ السَّاعَةِ وَفِيْ كُلِّ سَاعَةٍ
اِس وقت اور ہر وقت سلام بھیج،
وَلِيًّا وَحَافِظًا
جو ولی ہیں، محافظ ہیں،
وَقَآئِدًا وَنَاصِرًا
قائد ہیں اور مددگار ہیں۔
وَدَلِيْلًا وَعَيْنًا
اور رہنما ہیں اور نگہبان ہیں
حَتّٰى تُسْكِنَهُ اَرْضَكَ طَوْعًا
یہاں تک کہ تو اِنہیں اپنی مرضی سے اپنی زمین پر سکونت اختیار کرنے دے
وَتُمَتِّعَهُ فِيْهَا طَوِيْلًا۔
اور اس (زمین) پر طویل عرصے تک فائدہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے۔
۵ یہ دعا پڑھے ۔
اَللّٰهُمَّ امْدُدْ لِي فِي عُمْرِيْ،
خدایا مجھے طولِ عمر عطا فرما،
وَاَوْسِعْ لِي فِي رِزْقِي،
میرے رزق میں وسعت دے،
وَاَصِحَّ لِي جِسْمِيْ،
میرے جسم کو صحت دے
وَبَلِّغْنِيْ اَمَلِيْ،
میری آرزؤں کو پورا فرما
وَاِنْ كُنْتُ مِنَ الْاَشْقِيَاۤءِ فَامْحُنِيْ مِنَ الْاَشْقِيَاۤءِ،
اور اگر بدبختوں میں ہو تو میرا نام وہاں سے کاٹ کے
وَاكْتُبْنِيْ مِنَ السُّعَدَاۤءِ،
نیک بختوں میں لکھ دے
فَاِنَّكَ قُلْتَ فِيْ كِتَابِكَ الْمُنْزَلِ
اس لیے کہ تو نے
عَلٰى نَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ صَلَوٰتُكَ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ :
اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ پر نازل کی ہوئی کتاب میں یہ فرمایا ہے
يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاۤءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ اُمُّ الْكِتَابِ۔
کہ خدا جس چیز کو چاہے مٹا بھی سکتا ہے اور اسی کے پاس اصلی کتابِ تکوین ہے۔
۶یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِيْمَا تَقْضِيْ وَفِيْمَا تُقَدِّرُ
خدایا اپنے قضا و قدر میں یہ بھی قرار دے
مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُوْمِ،
کہ جن حتمی امور کا
وَفِيْمَا تَفْرُقُ مِنَ الْاَمْرِ الْحَكِيْمِ
تو نے فیصلہ کیا ہے اپنے امرِ حکیم سے
فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ،
اور شبِ قدر میں تو جس چیز کا فیصلہ کرتا ہے
مِنَ الْقَضَاۤءِ الَّذِيْ لَا يُرَدُّ وَلَا يُبَدَّلُ
اور جس قضا کو نہ کوئی ٹال سکتا ہے اور نہ بدل سکتا ہے
اَنْ تَكْتُبَنِيْ مِنْ حُجَّاجِ بَيْتِكَ الْحَرَامِ
میرے نام کو حجّاجِ بیت اللہ میں قرار دے دے
فِيْ عَامِيْ هٰذَا
امسال کے
الْمَبْرُوْرِ حَجُّهُمْ
جن کا حج مقبول ہو،
الْمَشْكُوْرِ سَعْيُهُمُ،
جن کی سعی مشکور ہوں،
الْمَغْفُوْرِ ذُنُوْبُهُمُ،
جن کے گناہ معاف ہوں
الْمُكَفَّرِ عَنْهُمْ سَيِّئَاتُهُمْ،
اور جن کی برائیوں سے درگذر کیا جائے۔
وَاجْعَلْ فِيْمَا تَقْضِيْ وَتُقَدِّرُ
اپنے قضا وقدر میں یہ بھی قرار دے
اَنْ تُطِيْلَ عُمْرِيْ
کہ مجھے طولِ عمر عنایت فرما
وَتُوَسِّعَ لِي فِيْ رِزْقِيْ۔
اور میرے رزق میں وسعت فرما۔
۷یہ دعا پڑھے جو اقبال میں نقل کی گئی ہے ۔
يَا بَاطِنًا فِيْ ظُهُوْرِهِ،
اے اپنے ظہور میں مخفی
وَيَا ظَاهِرًا فِيْ بُطُوْنِهِ
اور اپنی پوشیدگی میں ظاہر،
وَيَا بَاطِنًا لَيْسَ يَخْفٰى،
اے وہ پوشیدہ جو مخفی نہیں ہوتا
وَيَا ظَاهِرًا لَيْسَ يُرٰى،
اور وہ ظاہر جو نظر نہیں آتا
يَا مَوْصُوْفًا لَا يَبْلُغُ بِكَيْنُوْنَتِہِ مَوْصُوْفٌ
اے وہ موصوف کہ جس کے وجود تک کوئی موصوف نہیں پہنچ سکتا
وَلَا حَدٌّ مَحْدُوْدٌ،
اور نہ اس کی کوئی معیّن حد ہے۔
وَيَا غَآئِبًا غَيْرَ مَفْقُوْدٍ،
اے وہ غائب جو گم نہیں ہے
وَيَا شَاهِدًا غَيْرَ مَشْهُوْدٍ،
اور وہ حاضر جو نظر نہیں آتا
يُطْلَبُ فَيُصَابُ،
وہ ڈھونڈھا جاتا ہے تو مل جاتا ہے۔
وَلَمْ يَخْلُ مِنْهُ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ وَمَابَيْنَهُمَا طَرْفَةَ عَيْنٍ،
آسمان و زمین اور اس کا درمیان ایک لمحہ کے لیے اس سے خالی نہیں ہے۔
لَا يُدْرِكُ بِكَيْفٍ
وہ کیفیت سے حاصل نہیں ہوتا۔
وَلَا يُؤَيَّنُ بِاَيْنٍ وَلَا بِحَيْثِ،
اس کی جگہ معیّن نہیں ہے اور نہ کوئی حیثیت معیّن ہے
اَنْتَ نُوْرُ النُّوْرِ
تو نوروں کا نور ہے
وَرَبَّ الْاَرْبَابِ،
اور مالکوں کا مالک ہے
اَحَطْتَ بِجَمِيْعِ الْاُمُوْرِ،
جمیعِ امور پر تیرا احاطہ ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ
تو پاکیزہ ہے جس کا کوئی مثل نہیں ہے
وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ
اور سمیع و بصیر بھی ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ هُوَ هٰكَذَا وَلَا هٰكَذَا غَيْرُهُ۔
وہ پاکیزہ جو خود ایسا ہے اور اس کا جیسا کوئی نہیں ہے۔
اس کے بعد اپنی حاجتیں طلب کرے ۔
۸ اوّل شب کے غسل کے علاوہ ایک غسل آخری شب میں بھی وارد ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس رات کے غسل، شب بیداری، زیارت امام حسین ؑ اور سو رکعت نماز کی بے پناہ فضیلت اور تاکید وارد ہوئی ہے۔ شیخؒ نے تہذیب میں ابو بصیر کے حوالہ سے امام صادقؑ سے روایت کی ہے کہ اس شب کے بارے میں یہ امید ہے کہ یہ شب قدر ہے لہٰذا سو رکعت نماز پڑھو ہر رکعت میں دس مرتبہ قل ھو اللہ پڑھو۔ ابوبصیرؒ نے عرض کی کہ مولا اگر اتنی طاقت نہ ہو کہ کھڑے ہو کر ادا کر سکوں۔ فرمایا بیٹھ کر پڑھو یا اگر بیٹھ کر پڑھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو فرمایا کہ بستر پر لیٹ کر پڑھو۔ دائم الاسلام کی روایت ہے کہ رسول اکرمؐ ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں اپنے بستر کو لپیٹ دیتے تھے اور کمر کو محکم باندھ لیتے تھے عبادت کے لئے اور تیئسیویں شب میں اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے تھے اور اگر کسی کو نیند آتی تھی تو اس کے چہرہ پر پانی چھڑکتے تھے ۔ حضرت فاطمہ علیہاالسلام بھی اپنے گھر والوں کو اجازت نہیں دیتی تھیں کہ سو جائیں اور ان کی نیند کا علاج غذا کی قلّت سے فرماتی تھی اور سب کو اس شب بیداری کے لئے آمادہ کرتیں تھیں کہ دن میں آرام کر لیں تاکہ رات کو نیند نہ آئے اور بیدار رہیں اور فرماتی تھیں کہ محروم وہی شخص ہے جو آج کی رات کی برکات سے محروم رہ جائے ۔ روایت میں ہے کہ امام صادقؑ سخت مریض تھے۔ مگر جب تیئسیویں شب آئی تو آپ نے اپنے غلاموں کو حکم دیا اور وہ آپ کو اٹھا کر مسجد میں لے آئے اور آپ صبح تک مسجد ہی میں رہے۔ علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ اس شب میں جتنا قرآن ممکن ہو پڑھے اور صحیفۂ کاملہ کی دعاؤں کو پڑھے خصوصاً دعائے مکارم الاخلاق دعائے توبہ اور یہ بھی یاد رہے کہ ان راتوں کے دن بھی راتوں ہی کی طرح محترم ہیں لہٰذا ان میں تلاوت، عبادت اور دعاؤں کا سلسلہ رہنا چاہئے۔ بلکہ معتبر روایات میں وارد ہوا ہے کہ روزِ قدر بھی فضیلت میں مثل شبِ قدر ہے۔