EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
روز دہم - روز عاشوراء
شہادت امام حسینؑ کا دن ہے اور ائمہ اطہارؑ اور ان کے شیعوں کے لئے حزن ومصیبت کا دن ہے۔ مناسب یہ ہے کہ شیعہ حضرات اس روز دنیا کے کاموں میں مشغول نہ ہوں اور اپنے گھر کے لئے کچھ ذخیرہ نہ کریں اور گریہ و زاری اور نوحہ و الم میں مشغول رہیں۔ امام حسینؑ کی مجلس تعزیت قائم کریں۔ ماتم میں اس طرح مشغول رہیں جس طرح عزیز ترین اولاد اور اعزاء کے ماتم میں رہتے ہیں۔ امام حسینؑ کی زیارت عاشورہ پڑھیں جو بعد میں آئے گی اور ان کے قاتلوں پر لعنت کریں اور ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرتے ہوئے یہ کلمات کہیں۔
اَعْظَمَ اللّٰهُ اُجُوْرَنَا بِمُصَابِنَا بِالْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
خداوند عالم عظیم کرے ہمارے اجر کو ہماری سوگواری اور مصیبت میں امام حسین علیہ السلام پر
وَ جَعَلَنَا وَ اِيَّاكُمْ مِنَ الطَّالِبِيْنَ بِثَارِهِ
اور ہم کو اور تم کو ان کے خون کے طلبگاروں میں قرار دے
مَعَ وَلِيِّهِ الْاِمَامِ الْمَهْدِيِّ مِنْ اٰلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ۔
اپنے والی امام مہدی عج کے ساتھ جو آل محمدؐ علیہم السلام میں سے ہیں۔
مناسب ہے کہ اس روز واقعاتِ شہادت پڑھیں اور دوسروں کو رلائیں۔ روایت میں ہے کہ جب جناب موسیٰ علیہ السلام کوجناب خضرؑ سے ملاقات کرنے اور ان سے سیکھنے کا حکم دیا گیا تو ملاقات میں پہلی چیز جو مذاکرہ میں آئی وہ یہ تھی کہ اس عالِم نے حضرت موسیٰؑ سے آل محمد علیہم السلام پر آنے والے مصائب کا تذکرہ کیا اور دونوں پر بہت زیادہ گریہ طاری ہوا اور ابن عباس سے روایت ہے کہ میں مقام ذی قار پر امیر المومنینؑ کی خدمت میں پہنچا تو انھوں نے ایک صحیفہ اپنی تحریر اور پیغمبرؐ کے املا کی صورت میں نکالا اور مجھ کو پڑھ کر سنایا جس میں مقتل امام حسینؑ کے بارےمیں لکھا تھا کہ کس طرح شہید کئے جائیں گے اور کب۔ اور کون کون ان کی مدد کرےگا اور کون ان کے ساتھ شہید ہو گا۔ جس کے بعد حضرت پر سخت گریہ طاری ہوا اور مجھ پر بھی گریہ طاری ہو گیا۔
مولٔف: اس مقام پر اگر گنجائش ہوتی تو مقتل کا مختصر تذکرہ بھی کرتا لیکن گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا جو شخص چاہتا ہے وہ مقتل کی طرف رجوع کرے۔ بہر حال اگر کوئی شخص اس روز قبر امام حسینؑ کے نزدیک رہے اور لوگوں کو پانی پلائے تو اس شخص کی طرح ہو گا جس نے آنحضرت کے لشکر کو پانی پلایا ہو اور آں جناب کے ساتھ حاضر کربلا رہا ہو۔ اس کے علاوہ ہزار بار سورۂ توحید کا پڑھنا بھی بہت فضیلت رکھتا ہے۔ اور وایت میں ہے کہ خداوند عالم اس پر نگاہِ رحمت ڈالتا ہے اور سیدؒ نے اس دن کے لئے ایک دعائے عشرات نقل کی ہےاور ظاہر یہ ہے کہ یہ خود دعاءِ عشرات ہی ہے۔ اس کی بعض روایتوں کے مطابق اور شیخؒ نے عبداللہ بن سنان سے اور انھوں نے امام صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ روز چاشت کے وقت چار رکعت نماز ادا کرے اوردعا پڑھے۔ ہم نے اختصار کے خیال سے اس نماز کا ذکر نہیں کیا ہے۔ جو شخص چاہےزاد المعاد کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ اور یہ بھی مناسب ہے کہ شیعہ اس روز بغیر روزہ کے قصد کے کھانے پینے سے امساک کریں بعد عصر تک اور پھر افطار کریں مصیبت زدہ افراد کے کھانے سے جیسے مٹھا، دودھ اور اس کے مثل نہ کہ لذیذ غذائیں اور مناسب ہے کہ پاکیزہ کپڑے پہنیں لیکن بند کھول دیں اور آستینوں کو مصیبت زدہ لوگوں کی طرح اوپر چڑھا لیں۔
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ۔
اے اللہ ! امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر لعنت کر۔
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحُسَيْنِ وَاَوْلَادِهِ وَاَصْحَابِ هِ
اے اللہ ! امام حسین علیہ السلام، ان کے اولاد اور اصحاب کے قاتلوں پر لعنت کر۔
فَیَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَکُمْ فَاَفُوْزَ مَعَکُمْ فَوْزًا عَظِیْمًا
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ رِضًا بِقَضَاَئِهِ وَ تَسْلِيْمًا لِاَمْرِهِ
اَللّٰهُمَّ عَذِّبِ الْـفَجَرَةَ الَّذِيْنَ شَاقُّوْا رَسُوْلَكَ وَ حَارَبُوْا اَوْلِيَآئَكَ وَ عَبَدُوْا غَيْرَكَ وَ اسْتَحَلُّوْا مَـحَارَمَكَ وَ الْعَنِ الْقَادَةَ وَ الْاَتْبَاعَ وَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ فَخَبَّ وَ اَوْضَعَ مَعَهُمْ اَوْرَضِىَ بِفِعْلِهِمْ لَعْنًا كَثِيْرًا
اَللّٰهُمَّ وَ عَجِّلْ فَرَجَ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ وَاسْتَنْقِذْهُمْ مِنْ اَيْدِى الْمُنَافِقِيْنَ الْمُضِلِّيْنَ وَ الْكَفَرَةِ الْجَاحِدِيْنَ وَافْتَحْ لَهُمْ فَتْحًا يَّسِيْرًا وَ اَتِحْ لَـهُمْ رَوْحًا وَ فَرَجًا قَرِيْبًا وَاجْعَلْ لَهُمْ مِنْ لَّدُنْكَ عَلٰى عَدُوِّكَ وَ عَدُوِّهِمْ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا