اور علامہ مجلسیؒ نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں کو روزہ نہ رکھے کہ بنی امیّہ ان دونوں میں برکت اور قتل امام حسینؑ پر شماتت کے لئے روزہ رکھتے تھے اور بہت سی حدیثیں بھی ان دو دنوں کی فضیلت اور روزہ کے بارے میں رسول کی طرف سے گڑھی گئی ہیں جب کہ اہلبیت علیہم السلام کے طریقہ سے بہت سی حدیثیں ان دونوں دنوں کے روزہ کی مذمت میں اور خاص طور پر روز عاشورہ کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ بنی امیہ علیہم اللعنۃ سال کے آزوقہ کی برکت کے لئے روز عاشورہ اپنے گھر میں ذخیرہ کیا کرتے تھے اس لئے حضرت رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص اپنی حاجتوں میں کوشش کو ترک کر دے روز عاشورہ اور کسی کام میں نہ لگے تو خدا س کی دنیا و آخرت کی حاجتوں کو پورا کرے گا۔ اور جو شخص روز عاشورہ مصیبت اور گریہ و غم میں رہے گا خداوند عالم اس کے لئے روز قیامت کو روزِ سرور و خوشی قرار دیدے گا اور اس کی نگاہ کو بہشت میں روشن کر دے گا اور جو شخص روز عاشورہ کو روز برکت کہے گا اور اپنے گھر کے لئے اس دن ذخیرہ کرے گا خدا اس کے ذخیرہ کو برکت والا نہ قرار دےگا اور میں یزیدلعنت اللہ علیہ و عبید اللہ بن زیاد اور عمر سعد لعنت اللہ کے ساتھ محشور ہو گا۔ لہٰذا انسان کو روز عاشورہ دنیا کے کاموں میں مشغول نہ ہونا چاہیئے بلکہ مناسب یہ ہے کہ خود بھی گریہ و نوحہ و مصیبت میں رہے اور گھر والوں کو بھی عزا کا حکم دے جیسا کہ اولاد و اقرباء کے ماتم میں ہوتا ہے اور بغیر روزہ کے کھانے پینے سے امساک کرے اور دن کے آخری حصہ میں عصر کے بعد فاقہ شکنی کرے چاہے پانی ہی سے ہو اور روزہ مکمل نہ کرےمگر یہ کہ خاص طور پر اس دن نذر وغیرہ کا واجبی روزہ ہو تو اس دن روزہ رکھنا ہو گا۔ نیز اس دن گھر میں کھانا جمع نہ کرے۔ ہنسے نہیں، لعو لہب میں مشغول نہ ہواور ہزار مرتبہ امام حسین علیہ السلامکے قاتلوں پر لعنت کرے اور کہے
مؤلف: ان بزرگوار کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ روز عاشورہ کی فضیلت والی حدیثیں گڑھی ہوئی ہیں اور رسولؐ خدا کی جانب منسوب کر دی گئی ہیں اور صاحب شفا ءالصدورنے زیارت عاشورہ کے اس فقرہ
کی شرح میں کلام کو اس مقام پر بہت طول دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی امیّہ کا اس دن کو برکت قرار دینا چند وجوہ سے تھا۔ ایک یہ کہ اس روز غذا اور آذوقہ کے ذخیرہ کو سنت سمجھتے تھے اور اس آذوقہ کو دوسرے سال تک سرمایۂ سعادت اور وسیلۂ وسعتِ رزق سمجھتے تھے اس لئے احادیث اہلبیتؑ میں ان سے اعراض کرنے کے لئے مکرر نہیں وارد ہوئی ہے۔ دوسرے عید کی رسموں کو قائم کرنا تھا اپنے عیال پر رزق کی وسعت سے، نئے کپڑوں سے، مونچھیں کتروانے، ناخن کٹوانے اور مصافحہ کر نے سے۔ تیسرے اس دن کے روزہ کےبارے میں بہت سی حدیثیں فضیلت میں گڑھی گئیں اور خود اس دن روزہ رکھنا ضروری جانا گیا۔ چوتھے عاشور کے دن کو دعا کرنا اور اپنی حاجت کے طلب کرنے کو بالخصوص مستحب جانا گیا اور ان امور کے لئے حدیثیں گڑھی گئیں اور دعائیں بنا کر گناہگاروں کو تعلیم دی گئیں تا کہ حقیقت مشتبہ ہو جائے۔ چنانچہ لوگ جو خطبہ اپنے شہروں میں آج کے روز پڑھتے ہیں اس میں آج کے دن کے لئے ہر نبی کے زیادہ شرف کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جیسے نارِ نمرودی کا بجھنا، کشتیِ نوح کا ٹھہرنا، فرعون کے لشکر کا ڈوبنا، جناب عیسیٰؑ کا سولی سے نجات پانا اور جیسا کہ شیخ صدوقؒ نے جبلہ مکیّہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے میثم تمّار ؓ سے سنا کے واللہ یہ امت روز دہم کو فرزندِ پیغمبرؐ کو قتل کرے گی اور اللہ کے دشمن اس دن کو روز برکت قرار دیں گے اور یہ کام ہو کر رہے گا۔ یہ خدا کے علم میں پہلے سے ہے اور میں بھی اس کو اس عہد کی وجہ سے جانتا ہوں جو امیر المومنینؑ کی طرف سے مجھ کو پہنچا ہے۔ جبلہ کہتا ہے کہ میں نے کہا کہ لوگ روزِ قتلِ امامِ حسینؑ کو کس طرح روز برکت قرار دیں گے تو میثم رونے لگے اور فرمایا کہ لوگ ایسی حدیث گڑھیں گے کہ وہ دن ہے جس میں خدا نے آدم کی توبہ قبول کی حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ توبہ آدم کو خدا نے ذالحجہ میں قبول کیاہے۔ پھر گمان کریں گے کہ یہ وہ دن ہے جب خدا نے جناب یونسؑ کو شکم ماہی سے باہر نکالا حالانکہ خدا نے یونس کو شکم ماہی سے ذیقعدہ میں نکالا ہے۔ پھر گمان کریں گے کہ آج ہی کے دن جناب نوح کی کشتی کو کوہِ جودی پر قرار لیا ہے حالانکہ یہ واقعہ ۱۸؍ ذالحجہ کا ہے۔ پھر گمان کریں گے کہ اس روز خدا نے موسیٰؑ کے لئےدریا میں راستہ بنایا تھا حالانکہ یہ کام ربیع الاوّل میں ہوا تھا۔ مختصر یہ کہ اس میثم کی خبر و حدیث کے باوجود در حقیقت نبوت اور امامت کے علائم اور مذہب شیعہ کے برحق ہونے کی واضح دلیل ہے اس میں ان چیزوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے جو یقیناً ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں مگر لوگوں نے ایسی دعائیں بنائیں اور بعض بے خبر لوگوں کی کتابوں میں یہ حقیقت سے غافل تھے ذکر ہو گئیں اور عوام کے ہاتھ میں دے دی گئیں جب کہ ان دعاؤں کا پڑھنا بدعت اور حرام ہے اور اور وہ دعا یہ ہے۔
دو تین سطروں کے بعد ہے کہ دس مرتبہ صلوات پڑھے اور کہے
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس دعاء کو مدینہ کے کسی ناصبی یا مسقط کے کسی خارجی نے گڑھ کر نبی امیہ کے مظالم کو مکمل کر دیا ہے۔
اعمال روز عاشوراء
فَاجِعَةٌ اِنْ اَرَدْتُ اَكْتُبُهَا
مُجْمَلَةً ذِكْرَةً لِمُدَّكِرٍ
روز عاشورہ کی آخری ساعت میں امام حسینؑ کے حرم اور ان کے صاحبزادیوں اور بچوں کے واقعات کو نظر میں لانا چاہیئے کہ اسی وقت وی اسیر ہوئیں اور حزن و گریہ میں مصروف ہوئیں اور ان پردہ مصیبت گزر گئی جسے کوئی دل سوچ بھی نہیں سکتا ہے اور قلم کو لکھنے کی تاب بھی نہیں ہے۔ کسی شاعر نے خوب لکھا ہے۔
جَرَتْ دُمُوْعِىْ فَحَالَ حَاۤئِلُهَا
مَا بَیْنَ لَحْظِ الْجُفُوْنِ وَالزُّبُرِ
وَقَالَ قَلْبِىْ بُقْیَا عَلَىَّ فَلَا
وَاللهِ مَا قَدْ طُبِعْتُ مِنْ حَجَرٍ
بَكَتْلَهَاالْاَرْضُوَالسَّمَاۤءُوَمَا
بَیْنَهُمَا فِىْ مَدَامِعٍ حُمُرٍ