تسبیح حضرت فاطمہ زہراؑ
جس کی فضیلتیں احادیث میں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا صحیح شمار ناممکن ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہےکہ ہم اپنے بچوں کو تسبیح حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام پڑھنے کا حکم اس طرح دیتے ہیں جس طرح انھیں نماز کی تاکید کرتے ہیں۔ لہٰذا اسے ہرگز ترک نہ کرنا چاہیئے اور جو شخص اسےمسلسل پڑھے گا وہ ہرگزشقی بدبخت نہ ہوگا۔
اور معتبر روایات میں ہے کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں جس ذکر کثیر کا حکم دیا ہے وہ جناب فاطمہ علیہا السلام کی تسبیح ہے۔ اور جو ہر نماز کے بعد اس کو پڑھتا رہے گا گویا اس نے
اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کیا کرو
پر عمل کرتےہوئے خدا کو بہت زیادہ یاد کر لیا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے معتبر سند کے ساتھ روایت ہے کہ جو شخص تسبیح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پڑھ کر استغفار کرے خداوندعالم اسے بخش دے گا۔
اور تسبیح کے کل کلمات سو ہیں لیکن میزان عمل میں اس کی تعداد ایک ایک ہزار ہے۔ تسبیح سے شیطان دور ہوتا ہے خداوند عالم کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
اور امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص نماز کے بعد پیروں کو حرکت دینے سے پہلے تسبیح فاطمہ زہرا سلام اللہ وعلیہا پڑھے گا اسے بخش دیا جائے اوراس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔
دوسری معتبر حدیث میں ہے کہ میرے نزدیک ہر نماز کے بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تسبیح پڑھنا ہر روز ہزار رکعت نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی بھی ذکر خدا ایسا نہیں ہے جس کے ذریعہ تسبیح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بہتر تسبیح و تمجید پروردگار کی جا سکتی ہو اور اگر کوئی چیز اس سے بہتر ہوتی تو رسول اکرمؐ ضرور اسے حضرت فاطمہؑ کو عطا فرماتے۔خلاصہ یہ کہ اس فضیلت میں اتنی زیادہ روایات ہیں کہ ان کو اس رسالہ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تسبیح فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا طریقہ
تسبیح کے طریقے میں بھی روایات میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے
لیکن سب سے بہتر مشہور طریقہ یہ ہے کہ ۳۴ بار
اَللهُ اَكْبَرُ
اللہ بزرگ تر ہے
۳۳ بار
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ
حمد خدا کے لیے ہے
اور ۳۳ بار
سُبْحَانَ اللهِ
خدا پاک و پاکیزہ ہے
تسبیح کے طریقے میں بھی روایات میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے لیکن سب سے بہتر مشہور طریقہ یہ ہے کہ ۳۴ بار اللہُ اکبر، ۳۳ بار الحمدللہ اور ۳۳ بار سُبحَانَ اللہِ کہے اور بعض روایات میں سبحان اللہ ، الحمد للہ سے پہلے بھی وارد ہوا ہے اور بعض علماء نے ان روایا ت کی اس طرح وضاحت کی ہے کہ نماز کے بعد پہلے طریقہ سے اور سونے سے پہلے دوسرے طریقہ کے مطابق تسبیح پڑھے اگرچہ ظاہراً پہلے ہی طریقہ سے پڑھنا ہر مقام پر بہتر ہے۔ اور مستحب یہ ہے کہ تسبیح کے بعد ایک بار
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
کہے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو شخص واجب نماز کے بعد تسبیح فاطمہ پڑھ کر ایک بار لاٰ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ کہے گا خداوند عالم اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا