EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
ماں کی اپنے بیمار اولاد کے لئے دعا
روایت میں ہے کہ جب بچہ بیمار ہو جائے تو اس کی ماں چھت پر جا کر سر سے چادر اتار کر بالوں کو زیر آسمان کھول دے اور سجدہ میں جا کر کہے:۔
اَللّٰهُمَّ رَبِّ اَنْتَ اَعْطَيْتَنِيْهِ
وَ اَنْتَ وَهَبْتَهُ لِىْ
اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ هِبَتَكَ الْيَوْمَ جَدِيْدَةً
اِنَّكَ قَادِرٌ مُقْتَدِرٌ۔
اور جب تک اس کا بیٹا صحیح نہ ہو جائے سجدہ سر سے نہ اٹھائے۔
شیخ شہیدؒ نے نقل کیا ہےکہ جس کو شدید درد ہو تو کسی پانی کےبرتن پر چالیس مرتبہ الحمد پڑھے اور اس پانی کو اپنے اوپر ڈال لے اور وہ بیمار اپنے پاس کوئی چیز رکھ لے جس میں گیہوں ہو اور اپنے ہاتھ سے سائل کو وہ گیہوں دے دے اور اس سے کہے کہ اس کے لئے دعا کرے تا کہ شفا یاب ہو جائے انشاء اللہ۔
معتبر سندوں کے ساتھ یہ حدیث ہے کہ صدقہ دے کر اپنے مریضوں کا علاج کرو۔
اور شیخ شہیدؒ نے ہی نقل کیا ہے کہ مرض دور کرنے کے لئے مریض کے دائیں بازو پر ہاتھ رکھ کر سورۂ حمد سات مرتبہ پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ اَزِلْ عَنْهُ الْعِلَلَ وَالدَّاۤءَ
وَ اَعِدْهُ اِلَى الصِّحَّةِ وَالشِّفَاۤءِ
وَ اَمِدَّهُ بِحُسْنِ الْوِقَايَةِ
وَ رُدَّهُ اِلٰى حُسْنِ الْعَافِيَةِ
وَاجْعَلْ مَا نَالَهُ فِىْ مَرَضِهِ هٰذَا مَآدَّةً لِحَيٰوتِهِ
وَ كَفَّارَةً لِسَيِّئَاتِهِ
اَللّٰهُمَّ وَ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
اور اگر اس کا کوئی اثر نہ ہو تو سورۂ حمد کو ستّر مرتبہ پڑھے تو اثر ہو گا انشاء اللہ۔
حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت ہے کہ جس شخص کو سورۂ حمد اور قل ھو اللہ صحیح نہ کر سکے سے کوئی دوسری چیز صحیح نہیں کر سکتی ہے۔ ان دوسوروں سے ہر بیماری دور ہو جاتی ہے۔
اور حضرت امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جس مومن کو کوئی بیماری ہو وہ خلوص کے ساتھ کہے:۔ اور بیماری کی جگہ ہاتھ پھیر دے خداوند عالم اس کو شفا دےدے گا۔
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۤءٌ وَ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔
حضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ ہر بیماری رفع کرنے کے لئے پڑھو۔
يَا مُنْزِلَ الشِّفَاۤءِ وَ مُذْهِبَ الدَّاۤءِ
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ
وَ اَنْزِلْ عَلٰى وَجَعِىْ الشِّفَاۤءَ۔
سید بن طاؤسؒ نے مہج الدعوات میں ابن عباس سے راوی کا بیان نقل کیا گیا ہے کہ میں حضرت امیرالمومنینؑ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص جس کا رنگ اڑا ہوا تھا اس نے عرض کی کہ یا امیرالمومنینؑ میں ہمیشہ بیمار رہتا ہوں اور میرے بہت زیادہ درد ہیں لہٰذا مجھے ایک ایسی دعا تعلیم دیجئے جس سے میری تمام بیماریاں دور ہو جائیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ دعا سکھا رہا ہوں جو جناب جبرئیل نے رسول اکرمؐ کو اس وقت بتائی تھی جب حضرت حسنؑ و حسینؑ بیمار تھے ۔
وہ دعا یہ ہے:۔
اِلٰهِىْ كُلَّمَا اَنْعَمْتَ عَلَىَّ نِعْمَةً
قَلَّ لَكَ عِنْدَهَا شُكْرِىْ
وَ كُلَّمَا ابْتَلَيْتَنِىْ بِبَلِيَّةٍ
قَلَّ لَكَ عِنْدَهَا صَبْرِىْ
فَيَامَنْ قَلَّ شُكْرِىْ عِنْدَ نِعَمِهِ فَلَمْ يَحْرِمْنِىْ
وَ يَا مَنْ قَلَّ صَبْرِىْ عِنْدَ بَلَاۤئِهِ فَلَمْ يَخْذُلْنِىْ
وَ يَا مَنْ رَّانِىْ عَلَى الْمَعَاصِىْ فَلَمْ يَفْضَحْنِىْ
وَ يَا مَنْ رَّانِىْ عَلَى الْخَطَايَا فَلَمْ يُعَاقِبْنِىْ عَلَيْهَا
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَّاغْفِرْ لِىْ ذَنْبِىْ
وَ اشْفِنِىْ مِنْ مَرَضِىْ
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو ایک سال کے بعد دیکھا تو اس کا رنگ تبدیل ہو کر بالکل سرخ ہو چکا تھا اور اس نے کہا کہ میں نے کسی درد میں یہ دعا نہیں پڑھی مگر یہ کہ مجھے شفا حاصل ہو گئی اور جس بادشاہ سے میں خوفزدہ ہوتا ہوں اس دعا کو پڑھ کر اس کے پاس جاتا ہوں اور خداوند عالم اس کے شر سے مجھ کو بچا لیتا ہوں۔
منقول ہے کہ نجاشی کو اس کے اجداد سے میراث میں ایک ٹوپی ملی تھی جو چار سو سال پرانی تھی اور جس درد پر اسے رکھ دیا جاتا تھا وہ ٹھیک ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ اس ٹوپی کو پھاڑا گیا تا کہ یہ دیکھا جائے کہ اس کے اندر کیا ہے؟ تو دیکھا کہ اس کے اندر یہ دعا ہے:۔
بِسْمِ اللّٰهِ الْمَلِكِ الْحَقِّ الْمُبِيْنِ
شَهِدَاللّٰهُ اَنَّهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
وَ الْمَلَاۤئِكَةُ وَ اُوْلُوْا الْعِلْمِ
قاۤئِمًا بِالْقِسْطِ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ
اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامُ
لِلّٰهِ نُوْرٌ وَّحِكْمَةٌ
وَّ حَوْلٌ وَّ قُوَّةٌ
وَّ قُدْرَةٌ وَّ سُلْطَانٌ وَّ بُرْهَانٌ
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اٰدَمُ صَفِىُّ اللّٰهِ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللّٰهِ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
مُوْسٰى كَلِيْمُ اللّٰهِ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
مُحَمَّدٌ الْعَرَبِىُّ رَسُوْلُ اللّٰهِ
وَ حَبِيْبُهُ وَ خِيَرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ
اُسْكُنْ يَا جَمِيْعَ الْاَوْجَاعِ
وَ الْاَسْقَامِ وَ الْاَمْرَاضِ
وَ جَمِيْعَ الْعِلَلِ
وَ جَمِيْعَ الْحُمَّيَاتِ
سَكَّنْتُكَ بِالَّذِىْ سَكَنَ لَهُ مَا فِى اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهِ
مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ اَجْمَعِيْنَ۔
مکارم الاخلاق میں ہےمکارم الاخلاق میں ہے کہ نجاشی بادشا ہ درد سر کا مریض تھا تو اس نے اپنی بیماری کا حال حضرت رسولؐ اکرم کی خدمت میں لکھ کر بھیجا۔ حضرت نے اس لئے یہ حرز لکھا تھا اور اس نے اسے اپنی ٹوپی میں رکھ لیا تھا جس سے اس کا درد ختم ہو گیا۔
وہ حرز یہ ہے۔
بِسْم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ شَهِدَاللّٰهُ۔۔۔ لِلّٰهِ نُوْرٌ وَّ حِكْمَةٌ وَّ عِزُّ وَ قُوَّةٌ وَّ بُرْهَانٌ وَّ قُدْرَةٌ وَّ سُلْطَانٌ وَّ رَحْمَةٌ يَّا مَنْ لَّا يَنَامُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ اِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللّٰهِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُوْسٰى كَلِيْمُ اللّٰهِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ عِيْسٰى رُوْحُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ صَفِيُّهُ وَ صِفْوَتُهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ وَ سَلَّمَ اُسْكُنْ سَكَّنْتُكَ بِمَنْ يَّسْكُنُ لَهُ مَا فِى السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَ بِمَنْ سَكَنَ لَهُ مَا فِى الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِىْ بِاَمْرِهِ رَخَاۤءً حَيْثُ اَصَابَ وَ الشَّيَاطِيْنَ كُلَّ بَنَاۤءٍ وَ غَوَّاصٍ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ۔