EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
خاک شفاء کی تسبیح
بہتر یہ ہے کہ تربتِ امام حسینؑ خاک شفاکی تسبیح استعمال کرے بلکہ تمام اذکار کے لئے یہی تسبیح مستحب ہے بلکہ اس تسبیح کا اپنے پاس رکھنا بھی مستحب ہے کیوں کہ یہ بلاؤں سے امان کے علاوہ بے انتہا ثواب کا ذریعہ ہے۔
یہ بھی منقول ہے کہ ابتدا میں جناب فاطمہؑ نے اون کا ایک دھاگہ بنا کر اس میں گرہیں لگا دی تھیں اور آپ انھیں کے ذریعہ گن کر تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔ اسکے بعد جب جناب حمزہ بن عبدالمطلب جنگ احد میں شہید ہو گئے تو آپ نے ان کی قبر مطہر سے مٹی لے کر اس سے تسبیح بنائی اور پھر لوگوں نے بھی آپ کی پیروی شروع کر دی۔
اور جب حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہو گئی تو اس کے بعد یہ سنّت ہو گئی کہ آپ کی خاکِ قبر سے تسبیح بنا کر تسبیح کی جائے۔
حضرت امام زمانہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ جس کے ہاتھ میں خاکِ شفاکی تسبیح ہو اور وہ تسبیح پڑھنا اور ذکر کرنا بھول بھی جائے تو اس کےلئے ذکر خدا کا ثواب برابر لکھا جاتا رہے گا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خاکِ شفاکی تسبیح خود ذکرِ خدا کرتی ہےاورتسبیح پڑھتی رہتی ہے چاہے انسان تسبیح کرے یا نہ کرے۔
اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خاکِ شفا کی تسبیح پر ذکریا استغفار کرنا دوسری تسبیحوں پر ذکر کرنے سے ستّر گنا بہتر ہے بلکہ اگر صرف ذکر کے بغیر ہی اس کے دانوں کو حرکت دیتا رہے تو بھی ہر دانہ کے بدلہ اس کے لئے سات تسبیحوں کا ثواب لکھا جاتا رہے گا
اور دوسری روایت میں ہے کہ اگر ذکر کرتے ہوئے دانوں کو حرکت بھی دے تو اس کے لئے چالیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں
اور روایت میں ہے کہ جنت کی حوریں جب کسی فرشتہ کو زمین کی طرف جاتا دیکھتی ہیں تو اس سےالتماس کرتی ہیں کہ ہمارے لئے تربت امام حسین علیہ السلامخاکِ شفا کی تسبیح لیتے آنا اور صحیح حدیث میں امام موسیٰ کاظمؑ سے مروی ہے کہ مومن کےپاس پانچ چیزیں رہنا ضروری ہیں مسواک ،کنگھی ، جانماز، چونتیس۳۴؍دانوں کی تسبیح اور عقیق کی انگوٹھی۔
بظاہر پختہ یا کچے دانوں کی تسبیح دونوں مناسب ہیں اگرچہ کچے دانوں والی تسبیح بہتر ہے۔
اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جو شخص بھی قبرِ امام حسینؑ کی خاک سے ایک تسبیح پڑھے گا خداوند عالم اس کے لئے چار سو حسنات لکھے گا اور اس کے چارسو گناہ محو کر دےگا اور چار سو حاجتیں پوری کر دے گا اور چار سو درجات بھی بلند کر دے گا۔
روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کا دھاگا آسمانی رنگ کا ہو۔ بعض روایات میں ہے کہ عورتوں کے لئےانگلی سے تسبیح پڑھنا افضل ہے، لیکن خاکِ شفا کی تسبیح کی فضیلت ہر لحاظ سے زیادہ اور ہر اعتبار سے قوی تر ہے۔
۲تعقیبات میں دوسری چیز یہ مستحب ہے کہ واجب نماز کے سلام کے بعد تین بارکانوں تک ہاتھ بلندکر کے اللہ اکبر کہے جیسا کہ علی بن ابراہیمؒ اور سید بن طاوسؒ اور ابن بابویہ ؒ نے یہ معتبر سند سے حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ مفصل بن عمر نے آنحضرت سے پوچھا کہ نمازی کس بنا پر سلام کے بعد تین بار ہاتھاٹھا کر اللہُ اکبرکہتا ہے؟
فرمایا کہ جب رسول اکرمؐ نے مکّہ فتح کیااور اپنے اصحاب کے ساتھ حجر اسود کے قریب نماز ادا کی تو سلام کے بعد تین بار اللہُ اکبر کہی اور ہر بار ہاتھوں کو بلند کیا اور کہا
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
وَحْدَهُ وَحْدَهُ وَحْدَهُ
وہ ایک ہے، تنہا ہے، اکیلا ہے۔
اَنْجَزَ وَعْدَهُ
اس نے اپنے وعدے کو پورا کیا،
وَنَصَرَ عَبْدَهُ
اپنے بندے کی مدد کی،
وَاَعَزَّ جُنْدَهُ
اپنے لشکر کی مدد کی
وَغَلَبَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ
اور تمام احزاب پر غالب بنایا۔
فَلَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ
اسی کے لیے ملک اور اسی کے لیے حمد ہے۔
يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ
وہ زندہ کرتا ہے اور موت کا دینے والا ہے
وَيُمِيْتُ وَيُحْيِيْ
اور (پھر) وہ موت دیتا ہے اور مردوں کو زندہ کرتا ہے؛
وَ هُوَ حَيُّ لَا يَمُوْتُ
جبکہ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آتی۔
بِيَدِهِ الْخَيْرُ
ساری بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ۔
اور ہر شئے پر قادر ہے۔
پھر اصحاب کی طرف رخ کر کے فرمایاکہ واجب نماز کے بعد تکبیر اور یہ دعا ہرگز ترک نہ کرنا کہ جو شخص بھی نماز کے بعد ایسا کرے گا اس نے گویا اسلام اور لشکرِ اسلام کے غلبہ پر شکر خدا ادا کیا ہے
حدیث صحیح میں منقول ہے کہ جب امام جعفر صادقؑ نماز سے فارغ ہوتے تھے تو اپنے ہاتھوں کو سر سے اوپر بلند کرکے دعا کرتے تھے۔
امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو شخص بھی خداوند عالم کی طرف اپنے ہاتھ بلند کرتا ہے خداوند عالم اس کو خالی ہاتھ واپس لوٹانے سے شرم محسوس کرتا ہے لہٰذا جب بھی دعا کرو اپنے ہاتھ نیچے نہ لاؤ مگر یہ کہ اپنے سر اور چہرہ پر پھیرنا ہو۔
۳کلینیؒ نے امام باقرؑ سے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ جو شخص نماز ختم کرنے کے بعد کروٹ بدلنے سے پہلے یہ دعا تین بار پڑھے گا خداوند عالم اس کے تمام گناہ بخش دے گا چاہے ان کی تعداد سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔
اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِىْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
اس خدا سے بخشش چاہتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں
الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
وہ زندہ پائندہ عزّت و دبدبے والا ہے
وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ۔
اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص اس استغفار کو ہر روز پڑھے خداوند عالم اس کے چالیس گناہ کبیرہ معاف کر دے گا۔
۴کلینیؒ نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے معتبر سند کے ساتھ یہ روایت کی ہے کہ کسی بھی نماز کے بعد یہ دعا ترک نہ کرنا۔
اُعِيْذُ نَفْسِىْ وَمَا رَزَقَنِىْ رَبِّىْ
میں اپنے نفس اور جو کچھ مجھے خدا نے دیا ہے سب کو اس خدا کی پناہ میں دیتا ہوں
بِاللّٰهِ الْوَاحِدِ الصَّمَدِ
جو واحد ہے، بے نیاز ہے،
الَّذِىْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ
نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ
اور نہ کوئی ہمسر۔
وَاُعِيْذُ نَفْسِىْ وَمَا رَزَقَنِىْ رَبِّى
میں اپنے نفس اور اپنی تمام نعمتوں کو اس خدا کے حوالہ کرتا ہوں
بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
جو صبح کا خالق ہے، جو مجھے مخلوقات کے شر سے،
وَمِنْ شِرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ
دن و رات کے شر سے
وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِى الْعُقَدِ
اور جھاڑ پھونک کرنے والیوں کے شر سے
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ
اور ہر حاسد کے شر سے محفوظ رکھے ہے۔
وَاُعِيْذُ نَفْسِىْ وَمَا رَزَقَنِىْ رَبِّى
میں اپنے نفس اور اپنی ساری ملکیت کو اس خدائے بزرگ و برتر کے حوالے کرتا ہوں
بِرَبِّ النَّاسِ
جو انسانوں کا رب ہے،
مَلِكِ النَّاسِ
انسانوں کا مالک ہے
اِلٰهِ النَّاسِ
اور انسانوں کا معبود ہے
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ
تا کہ وہ مجھے وسواس خناس کے شر سے محفوظ رکھے
الَّذِىْ يُوَسْوِسُ فِىْ صُدُوْرِ النَّاسِ
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتے ہیں
مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔
چاہے انسانوں میں ہوں چاہے جنّات میں۔
۵شیخ کلینیؒ نے معتبر سند کے ساتھ علی بن مہزیار سے روایت کی ہے کہ محمد بن ابراہیمؒ نے حضرت امام علی نقیؑ کی خدمت میں لکھا مولا اگر آپ مصلحت سمجھیں تو مجھے ایک ایسی دعا تعلیم فرما دیں جس کو ہر نماز کے بعد پڑھا کروں اور اس کی برکت سے مجھے دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہو جائے۔ حضرت نے جواب میں یہ دعا تحریر فرمائی۔
اَعُوْذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ
خدایا میں تیری ذاتِ کریم
وَعِزَّتِكَ الَّتِىْ لَا تُرَامُ
اور تیری عزّتِ عزیز
وَقُدْرَتِكَ الَّتِىْ لَا يَمْتَنِعُ مِنْهَا شَىْءٌ
اور تیری قدرت لا متناہی کی پناہ چاہتا ہوں،
مِنْ شَرِّ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
دنیا و آخرت کے شر سے
وَمِنْ شَرِّ الْاَوْجَاعِ كُلِّهَا۔
اور تمام بیماریوں کے شر سے۔
بعض روایات میں اس دعا کے آخری حصہ میں یہ کلمات بھی ہیں
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ۔
کوئی طاقت اور قوّت نہیں مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ملتی ہے۔
۶شیخ کلینیؒ اور ابن بابویہؒ نے سند صحیح کے ذریعہ حضرت امام محمد باقرؑ اور حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ تمہارے لئے واجب نماز کے بعد جو سب سے چھوٹی دعا تمہارے لئے کافی ہے وہ یہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ
خدایا میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں
اَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ
جو تیرے علم میں ہے
وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ
اور ہر اس برائی سے پناہ چاہتا ہوں
اَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ
جو تیرے علم میں ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْئَلُكَ عَافِيَتَكَ فِىْ اُمُوْرِىْ كُلِّهَا
خدایا میں اپنے تمام معاملات میں عافیت چاہتا ہوں۔
وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ خِزْىِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَةِ۔
دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں۔
ابن بابویہ کی روایت میں دعا کے الفاظ یہ ہیں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ۔
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
۷سنت ہے کہ جب نماز سے فارغ ہو جائے تو کہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
وَاَجِرْنِىْ مِنَ النَّارِ
مجھے جہنّم سے پناہ دے دے،
وَاَدْخِلْنِى الْجَنَّةَ
جنّت میں داخل کردے
وَزَوِّجْنِى الْحُوْرَ الْعِيْنَ۔
اور حور العین سے میرا رشتہ قرار دے دے۔
جیسا کہ معتبر حدیث میں حضرت امیرالمومنینؑ سے روایت ہے کہ بندہ اس وقت تک نماز سے فارغ نہ ہو جب تک حق تعالیٰ سے جنت کا سوال اور دوزخ سے اس کی پناہ نہ مانگ لے اور حور العین سے اپنے نکاح کا سوال نہ کر دے۔