EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
بخار کا تعویذ
۱اس تعویذ کو پڑھے جو رسولٔ اکرم نے حضرت علی علیہ السلام کو تعلیم دیا تھا۔
اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ جِلْدِىَ الرَّقِيْقَ وَ عَظْمِىَ الدَّقِيْقَ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ فَوْرَةِ الْحَرِيْقِ يَاۤ اُمَّ مِلْدَمٍ اِنْ كُنْتِ اٰمَنْتِ بِاللّٰهِ فَلَا تَاْكُلِىْ اللَّحْمَ وَلَاتَشْرَبِى الدَّمَ وَلَاتَفُوْرِىْ مِنَ الْفَمِ وَانْتَقِلِىْ اِلٰى مَنْ يَّزْعَمُ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاِنِّىْ اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَاشَرِيْكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ۔
خدایا میرے اس نرم جلد میری باریک ہڈّیاں ان پر رحم فرما۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بخار کی تپش سے اے بیماری اگر تیرا ایمان اللہ پر ہے تو میرے گوشت کو نہ کھا، میرے خون کو نہ پی اور مجھے تکلیف میں مبتلا نہ کر اگر کوئی تجھے ٹھکانہ چاہئے تو اس کے گھر چلی جا جو خدا کے علاوہ کوئی خدا مانتا ہو اس لیے کہ میں تو خدا کو وحدۂ لا شریک مانتا ہوں اور یہ ایمان رکھتا ہوں کہ محمد مصطفیٰؐ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
۲صبح و شام پابندی کے ساتھ دعائے نور پڑھے جو جناب سلمانؓ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے نقل کی ہےاور مفاتیح میں موجود ہے۔
۳روایت میں ہے کہ ائمہ علیہم السلام بخار کا علاج ٹھنڈے پانی سے کرتے تھے اور مسلسل ایک کپڑا پانی میں تر کر کے بدن پر رکھتے تھے۔
۴حضرت امام رضا علیہ السلام کی تحریر دیکھی گئی کہ بخار کے لئے تین کاغذوں پر لکھے۔
پہلے کاغذ پر لکھے:۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
لَاتَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى۔
ڈرو نہیں بے شک تمہی برتر ہو۔
دوسرے پر لکھے:۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
لَاتَخَفْ نَجْوَتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ۔
ڈرو نہیں کہ ظالموں سے نجات پاؤگے
تیسرے کاغذ پر لکھے:۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ
آگاہ رہو کہ خلق و امر اسی کے لیے ہے
تَبَارَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ۔
بابرکت ہے خدا جو جہانوں کا رب ہے۔
پھر ہر کاغذ پر تین مرتبہ سورۂ توحید پڑھے اور تین دن میں یعنی ہر روز ایک عدد نگل جائے انشاء اللہ صھت یاب ہو جائے گا۔
۵کرتے یا قمیص کے بٹن کھول دے اور اپنے سر کو اس کے اندر کر لے اور اذان و اقامت کہے سات مرتبہ حمد پڑھے انشاء اللہ صحت پائے گا۔
۶ائمہ علیہم السلام سے روایت ہے کہ یہ تعویذ ایک کھال پر لکھ کر اسے بخار والے شخص کو پہنا دے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِعِزَّتِكَ
پروردگار میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ تیری عزّت ،
وَ قُدْرَتِكَ وَ سُلْطَانِكَ
قدرت، سلطنت
وَ مَاۤ اَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ
اور بڑے علم کی وسعت کے ذریعے
اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَّ اَنْ لَّا تُسَلِّطَ عَلٰى ۔۔۔ بْنِ ۔۔۔ شَيْئًا مِّمَّا خَلَقْتَ بِسُوَّءٍ
اور اپنے فلاں بندے پر کسی کو مسلّط نہ کرنا جو اس کے ساتھ کوئی بُرائی کرسکے۔
وَّارْحَمْ جِلْدَهُ الرَّقِيْقَ
رحم فرما اس کی نرم جلد پر،
وَ عَظْمَهُ الدَّقِيْقَ
اس کی باریک ہڈّیوں پر،
مِنْ فَوْرَةِ الْحَرِيْقِ
کہ بخار ان کو تپش نہ چڑھائے
اُخْرُجِىْ يَاۤ اُمَّ مِلْدَمٍ
ٹل جا اے بخار
يَّا اٰكِلَةَ اللَّحْمِ
اے گوشت کھانے والے
وَ شَارِبَةَ الدَّمِ
اے خون پینے والے
حَرُّهَا وَ بَرَدُهَا مِنْ جَهَنَّمَ
جس کی سردی اور گرمی جہنّم میں سے ہے
اِنْ كُنْتِ اٰمَنْتِ بِاللّٰهِ الْاَعْظَمِ
اگر تیرا ایمان خدائے عظیم پر ہے۔
اَنْ لَّاتَاْكُلِىْ لِ۔۔۔بْنِ ۔۔۔۔ لَحْمًا
تو اس بندے کے گوشت کو مت کھا،
وَّ لَاتُمَصِّىْ لَهُ دَمًا
اس کے خون کو پینے کا ارادہ نہ کر،
وَّلَاتَنْهَكِىْ لَهُ عَظْمًا
اس کی ہڈّیوں کو کمزور نہ کر،
وَّلَاتُثَوِّرِىْ عَلَيْهِ غَمًّا
اسے کسی غم میں مبتلا نہ کر،
وَ لَاتُهَيِّجِىْ عَلَيْهِ صُدَاعًا
اس میں درد پیدا نہ کر
وَانْتَقِلِىْ عَنْ شَعْرِهِ وَ بَشَرِهِ وَ لَحْمِهِ وَ دَمِهِ
اور اس کے بالوں سے، کھال سے،
اِلٰى مَنْ زَعَمَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ
خون سے، گوشت سے
اِلٰهًا اٰخَرَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
اس شخص کے طرف منتقل ہوجا جو خدا کے علاوہ کسی کو خدا مانتا ہو۔
سُبْحَانَهُ وَ تَعَالٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔
ہم تو جانتے ہیں کہ خدا بے نیاز ہے اور مشرکین سے ہر خیال سے بلند تر ہے۔
اور اس کے بعد کسی کافر ذمی یا کسی دشمنِ خدا کا نام لکھے۔
۷بخار کے لئے اسے لکھ کر بخار والے مریض کے دائیں ہاتھ پر باندھ دے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيِنَ
ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے
الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيْمِ
وہ عظیم اوردائمی رحمتوں والا ہے
مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ
روزِقیامت کا مالک و مختار ہے
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ
پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ا ور تجھی سے مدد چاہتے ہیں
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ
ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ
صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ
جو اُن لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ
ان کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے
وَلَا الضَّآلِّيْنَ۔
یا جو بہکے ہوئے ہیں
بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ
اللہ کے نام سے اور اللہ کے سہارے سے
اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّآمَّاتِ كُلِّهَا
میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کی۔
الَّتِىْ لَايُجَاوِزُهُنَّ بَرُّ وَلَا فَاجِرٌ
اس سے کوئی نیک و بد آگے نہیں بڑھ سکتا ہے
مِّنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ ذَرَءَ وَ بَرَءَ وَ
کہ مجھے پناہ دے تمام مخلوقات کے شر سے،
مِنْ شَرِّ الْهَآمَّةِ وَ السَّآمَّةِ
ہر درد سے، ہر غم سے،
وَالْعَآمَّةِ وَاللْآمَّةِ
ہر مصیبت سے، ہر آفت سے،
وَ مِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَ النَّهَارِ
دن و رات کے حوادث سے،
وَ مِنْ شَرِّ فُسَّاقِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ
عجم و عرب کے فاسقوں کے شر سے،
وَ مِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ
جن و انس کے فاسقوں کے شر سے،
وَ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَ شَرَكِهِ
شیطان اور اس کے شرکا کے شر سے
وَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِىْ شَرٍّ
جو زمین پر چلنے والی ہے
وَّ مِنْ شَرٍّ كُلِّ دَآبَّةٍ هُوَاٰخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا
اور اس کا اختیار پروردگار کے ہاتھ میں ہے۔
اِنَّ رَبِّىْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ
میرا خدا صراط مستقیم پر ہے۔
رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا
خدایا میں نے تجھ پر اعتماد کیا
وَ اِلَيْكَ اَنَبْنَا
اور میں تیری ہی طرف متوجہ ہوں۔
وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ
میری بازگشت تیری طرف ہے
يَا نَارُ كُوْنِىْ بَرْدًا وَ سَلَامًا عَلٰى
اور تو میرے لیے ویسا ہی حکم دے دے کہ اے آگ ابراہیمؑ کے لیے سرد ہوجا۔
اِبْرَاهِيْمَ وَ اَرَادُوْا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْاَخْسَرِيْنَ بَرْدًا وَّ سَلَامًا عَلٰى ۔۔۔ بْنِ ۔۔۔ رَبَّنَا لَاتُؤَ اخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِيْنَ حَسْبِىَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا وَّ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَىِّ الَّذِىْ لَايَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهِ وَ كَفٰى بِهِ بِذُنُوْبِ عِبَادِهِ خَبِيْرًا بَصِيْرًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَ نَصَرَ عَبْدَهُ وَ هَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ مَاشَاۤءَ اللّٰهُ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِىْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىُّ عَزِيْزٌ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغَالِبُوْنَ وَ مَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِىَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنَ۔
جب لوگوں نے مکّاری کرنا چاہی تو پروردگار نے ان کو پست بنادیا۔ خدایا ہماری خطاؤں اور غلطیوں پر ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ اسی پر ہمارا اعتماد ہے۔ اس کا حکم ہے، خدا پر بھروسہ کرو، جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ اس کے حمد کی تسبیح کرو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو خوب جانتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ اس نے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے، اپنے بندوں کی مدد کی ہے اور تمام دشمنوں کی جماعت کو ہزیمت دی ہے۔ جو خدا نے چاہا وہ ہوگیا۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس طاقت نہیں ہے اور اس نے طے کردیا ہے کہ وہ، اس کا رسول بہرحال غالب آنے والے ہیں اس لیے کہ خدا قوی بھی ہے، عزیز بھی ہے۔ اس کی جماعت غالب آنے والی ہے اور جو اس سے وابستہ ہوجائے وہ صراطِ مسقتیم کی ہدایت پاگیا۔ اللہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرمائے۔
۸شکر کے تین ٹکڑوں پر لکھے اور ہر ٹکڑے کو صبح ناشتہ میں تین دن تک کھائے ۔
پہلے ٹکڑے میں:۔
عَقَدْتُ بِاِذْنِ اللّٰهِ۔
میں نے خدا کے حکم سے باندھ دیا۔
دوسرے ٹکڑے پر یہ لکھے:۔
نَدَدْتُ بِاِذْنِ اللّٰهِ۔
خدا کے حکم سے پختہ تر کردیا۔
تیسرے ٹکڑے پر یہ لکھے:۔
سَكَنْتُ بِاِذْنِ اللّٰهِ۔
میں نے خدا کے حکم سے روک دیا۔
پیچس دور کرنے کی دعا
روایت میں ہے ایک شخص نے حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام سے شکایت کی کہ مجھے پیچس کا مرض ہے کو ختم نہیں ہوتا ہے تو آپؑ نے فرمایا کہ جب نماز شب سے فارغ ہو جاؤ تو پڑھو:۔
اَللّٰهُمَّ مَا كَانَ مِنْ خَيْرٍ فَمِنْكَ لَاحَمْدَلِىْ فِيْهِ وَ مَا عَمِلْتُ مِنْ سُوْاۤءٍ فَقَدْ حَذَّرْتَنِيْهِ لَاعُذْرَ لِىْ فِيْهِ اَوْ اٰمَنَ مِمَّا لَا عُذْرَ لِىْ فِيْهِ۔
خدایا میرے پاس جو بھی خیر ہے وہ تیری طرف سے ہے۔ میری کوئی تعریف نہیں ہے اور جو کوئی برائی ہے اس سے تو نے آگاہ کردیا تھا لہٰذا میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ اس بات پر بھروسہ کروں جس میں میری کوئی تعریف نہیں ہے۔
پیٹ کی ہوا کے لئے دُعا
ایک شخص نے حضرت امام موسیٰ کاظمؑ سے شکایت کی کہ مسلسل میرے پیٹ میں آواز بلند ہوتی ہے اور مجھے لوگوں سے باتیں کرنے میں شرم آتی ہے لہٰذا آپ میرے لئے اس سے شفا کی دعا فرمائیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ جب نماز شب سے فارغ ہو تو یہ دعا پڑھو:۔
اللھم ما عملت من خیر فھو منک لا حمدلی فیہ اے معبود! میں جو اچھائی کرتا ہوں وہ تیری طرف سے ہے اس میں کوئی خوبی نہیں گذشتہ دعا کو آخر تک پڑھے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پیٹ کی گڑ گڑاہٹ کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ شہد کے ساتھ سیاہ مرچ کھائے۔
برص کے لئے دُعا
یونس سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میری دونوں آنکھوں کے درمیان سفید داغ ہو گیا تھا۔ میں نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے اس کی شکایت کی تو آپؑ نے فرمایا وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھو اور کہو:۔
يَا اَللهُ يَا رَحْمٰنُ يَا رَحِيْمُ
اے اللہ اے رحمٰن اے رحیم،
يَا سَمِيْعَ الدَّعَوَاتِ
اے دعاؤں کے سننے والے،
يَا مُعْطِىَ الْخَيْرَاتِ
اے نیکیوں کے عطا کرنے والے
اَعْطِنِىْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ خَيْرَ الْاٰخِرَةِ
مجھے دنیا و آخرت کی نیکی عطا فرما دے
وَ قِنِىْ شَرَّ الدُّنْيَا وَ شَرَّ الْاٰخِرَةِ
اور دنیا و آخرت کے شر سے محفوظ فرما
وَ اَذْهِبْ عَنِّىْ مَا اَجِدُ
اور میرے اس درد و غم کو زائل فرما
فَقَدْ غَاضَنِى الْاَمْرُ وَاَحْزَنَنِىْ۔
اس لیے کہ اس نے مجھے رنجیدہ اور پریشان کردیا ہے۔
یونس کا بیان ہے کہ جس طرح حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا تھا میں نے ویسا ہی کیا۔ خداوند عالم نے مجھ سے برص کو دور کر دیا۔
وَلَهُ الْحَمْد عدۃ الداعی کی روایت میں ہے کہ حضرت ہادی علیہ السلام نے فرمایا کہ جب رات کو آخری تہائی حصہ باقی رہ جائے تو اس کے شروع میں بیدار ہو جاؤ اور وضو کر کے نمازِ شب شروع کرو اور پہلی رکعت کے آخری سجدہ میں کہو:۔
يَا عَلِىُّ يَا عَظِيْمُ
اے خدائے علی و عظیم،
يَا رَحْمٰنُ يَا رَحِيْمُ
اے خدائے رحمٰن و رحیم،
يَا سَامِعَ الدَّعَوَاتِ
اے آوازوں کے سننے والے،
يَا مُعْطِىَ الْخَيْرَاتِ
اے نیکیوں کے عطا کرنے والے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَّاَعْطِنِىْ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
اور دنیا و آخرت کی نیکی مجھے ویسے عطا فرما
مَاۤ اَنْتَ اَهْلُهُ
جس کا تو اہل ہے
وَاصْرِفْ عَنِّىْ مِنْ شَرِّ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
اور دنیا و آخرت کے شر کو مجھ سے دور فرما
مَاۤ اَنْتَ اَهْلُهُ
جس کا تو اہل ہے
وَاَذْهِبْ عَنِّىْ هٰذَا الْوَجَعَ
اور اس بیماری کو بھی دور فرما
فَاِنَّهُ قَدْ غَاظَنِىْ وَاَحْزَنَنِىْ۔
جس نے مجھے پریشان کر رکھا ہے۔
اور کثرت سے دعا اور گریہ و زاری کرو۔
یونس کا بیان ہے کہ حضرت نے جو کچھ کہا تھا میں نے انجام دیا اور کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی ٹھیک ہو گیا۔
اس کے لئے کسی برتن پر شہد سے سوۂ یٰسٓ لکھ کر کھانا بھی وارد ہوا ہے جیسا کہ بواسیر کے لئے بھی وارد ہوا ہے۔
اور اسی طرح امام حسین علیہ السلام کی تربت بھی بارش کے پانی کے ساتھ ملا کر برص کے لئے وارد ہوئی ہے اور روایت میں یہ بھی ہے مہندی کو نورہ میں ملا کر اس کے اوپر ملے۔