دعائے شبیہ ہذلی
۹کلینیؒ ابن بابویہؒ اور دوسرے افراد نے معتبر سندوں کے ساتھ امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے کہ شیٔبہ بذبی نے رسولؐ اکرم کی خدمت میں آکر عرض کی یا رسولؐ اللہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور اب میری طاقت ان تمام اعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے جن کا میں عادی تھا کہ اب اس طرح نماز، روزہ اور حج وجہاد نہیں کر سکتا ہوں لہٰذا مجھے آپ ایسی چیز تعلیم دیں جس سے مجھے فائدہ ہو اور میرے لئے آسان بھی ہو۔
آپ نے فرمایا دوبارہ کہو۔ اس نے یہ بات تین بار دہرائی توآنحضرت نے فرمایا کہ تمہارے چاروں طرف کوئی درخت اور پتھر یا ڈھیلا ایسا باقی نہیں رہا جس نے تم پر رحم کھا کر گریہ نہ کیا ہو۔
اب جب بھی تم نماز صبح سے فارغ ہونا تو دس بار کہنا۔
پاک ہے بزرگ تر اللہ اور حمد اسی کے لیے ہے
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظيْمِ۔
نہیں کوئی طاقت و قوّت مگر وہی جو خدائے بلند و بزرگ سے ہے۔
تا کہ خدا تم کو اس دعا کی برکت سے نابینائی، دیوانگی، برص، جذام اور پریشان حالی سے محفوظ رکھے
شبیہ نے عرض کی یا رسولؐ اللہ یہ تو میری دنیا کے لئے ہے میری آخرت کے لئے بھی کچھ فرمایئے
تو آپؐ نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھو۔
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِىْ مِنْ عِنْدِكَ
خدایا مجھے اپنے پاس سے ہدایت عنایت فرما،
وَاَفِضْ عَلَىَّ مِنْ فَضْلِكَ
اپنے فضل و کرم کو میرے شاملِ حال کردے،
وَانْشُرْ عَلَىَّ مِنْ رَحْمَتِكَ
اپنی رحمت مجھے عطا فرمادے
وَاَنْزِلْ عَلَىَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ۔
اور اپنی برکتیں مجھ پر نازل فرما دے۔
پھر حضرتؐ نے فرمایا اگر انسان اس کو پوری زندگی مسلسل پڑھتا رہے اور جان بوجھ کر ترک نہ کرے تو جب میدانِ محشر میں آئے گا تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ دوسری دعائیں بھی معتبر سندوں کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔