میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے ۔
وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
اِلٰهًا وَاحِدًا
وہ معبود تنہا،
اَحَدًا صَمَدًا
اکیلا اوربے نیازہے
لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا۔
نہ اس نے کوئی بیوی کی نہ کسی کو بیٹا بنایا۔
اس تہلیل کی بہت ہی فضیلت بیان ہوئی ہیں خاص طور پر نماز صبح اور عشاء کے بعد اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت۔
۱۳شیخ کلینیؒ اور ابن بابویہؒ اور دوسرے افراد نے صحیح سند کے ساتھ امام صادقؑ سے روایت کی ہے کہ جرئیل زنداں میں حضرت یوسف کے پاس آئے اور کہا کہ ہر نماز کے بعد یہ کہا کرو۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِىْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا
خدایا میرے لیے گشائشِ حال اور مشکلات سے بچ نکلنے کا راستہ قرار دے دے
وَارْزُقْنِىْ مِنْ حَيْثُ اَحْتَسِبُ
اور مجھے وہاں سے رزق عنایت فرما
وَمِنْ حَيْثُ لَا اَحْتَسِبُ۔
جو میرے خیال میں ہو یا میرے خیال سے بالاتر ہو۔
۱۴بلد الامین میں حضرت رسولؐ اکرم سے روایت کی گئی ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ خداوند عالم روزِ قیامت اس کو اس کے گناہوں سے باخبر نہ کرے اور اس کے گناہ کے دفتر کو نہ کھولے تو اسے ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیئے
اَللّٰهُمَّ اِنَّ مَغْفِرَتَكَ اَرْجَىٰ مِنْ عَمَلِىْ
خدایا تیری مغفرت میرے اعمال سے زیادہ اعتماد کے قابل ہے
وَاِنَّ رَحْمَتَكَ اَوْسَعُ مِنْ ذَنْبِىْ
اور تیری رحمت میرے گناہوں سے زیادہ وسیع تر ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ ذَنْبِىْ عِنْدَكَ عَظِيْمًا
خدایا اگر میرے گناہ عظیم ہوں
فَعَفْوُكَ اَعْظَمُ مِنْ ذَنْبِىْ
تو تیری معافی میرے گناہ سے زیادہ عظیم ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ لَمْ اَكُنْ اَهْلًا اَنْ تَرْحَمَنِىْ
خدایا اگر میں رحمت کے قابل نہیں ہوں
فَرَحْمَتُكَ اَهْلٌ اَنْ تَبْلُغَنِىْ وَتَسَعَنِىْ
تو تیری رحمت اس قابل ہے کہ میرے شاملِ حال ہوجائے
لِاَنَّهَا وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ
اس لیے کہ وہ ہر شئے پر حاوی ہے۔
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّحِمِيْنَ۔
یہ سوال تیری رحمت کے سہارے ہے کہ تو بہترین رحمت کرنے والا ہے۔
۱۵کفعمیؒ نے حضرت رسولؐ اکرم سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت سے بیماری اور تنگدستی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ ہر واجب نماز کے بعد کہو
تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَىِّ الَّذِىْ لَا يَمُوْتُ
میرا بھروسہ اس خدائے حیّ پر ہے جسے موت نہیں ہے۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا
ساری حمد خدا کے لیے ہے جس کی نہ کوئی بیوی ہے نہ کوئی بچّہ،
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيْكٌ فِى الْمُلْكِ
نہ کوئی اس کے ملک میں شریک
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِىُّ مِنَ الذُّلِّ
اور نہ کوئی اس کے لیے صاحبِ اختیار۔
وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا۔
تسبیح اسی کے شایانِ شان ہے۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مجھے کبھی کوئی مصیبت پیش نہ آئی مگر یہ جبرئیل میرے سامنے آئے اور مجھ سے یہ دعا بیان کی۔
اورمعتبر احادیث میں آیا ہے کہ دلوں کے وسوسوں، قرض کی ادائیگی، اور پریشانی اور بیماری کے لئے اس دعا کو پڑھنا چاہیئے۔
بعض روایات میں اس کے شروع میں ‘‘لا حول ولا قوۃ الا باللہ’’ بھی آیا ہے۔
لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ۔
کوئی طاقت اور توانائی پروردگار کے بغیر نہیں ہے
۱۶شیخ مفیدؒ نے اپنی کتاب مقنعہ میں ہر نماز کی تعقیب کے لئے یہ دعا ذکر کی ہے
اَللّٰهُمَّ انْفَعْنَا بِالْعِلْمِ
خدایا میرے علم کو مفید قرار دے دے،
وَزَيِّنَّا بِالْحِلْمِ
مجھے علم سے آراستہ کردے،
وَجَمِّلْنَا بِالْعَافِيَةِ
مجھے عافیت عطا فرما دے،
وَكَرِّمْنَا بِالتَّقْوٰى
تقویٰ کی کرامت عطا فرما۔
اِنَّ وَلِيِّىَ اللّٰهُ الَّذِىْ نَزَّلَ الْكِتَابَ
میرا خدا میرا ولی وہ خدا ہے جس نے کتاب کو نازل کیا
وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِيْنَ۔
اور وہی تمام صادقین کا ولی ہے۔