EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
آداب عقیقہ
علامہ مجلسیؒ نے حلیۃ المتقین میں فرمایا ہے کہ نو مولود کا عقیقہ ہر اس شخص پر سنت موکدہ ہے جو اس کی قدرت رکھتا ہو۔
اور بعض علماء اسے واجب جانتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا جائے اور اگر اس میں تاخیر کرے تو بلوغ تک باپ پر سنت ہے اوربالغ ہونے کے بعد پوری عمر خود اس پر سنت ہے۔
اور بہت ساری معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ عقیقہ اس شخص پرواجب ہے جسے اولاد نصیب ہو اور دوسری احادیث میں ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ عقیقہ کا گروی ہے یعنی اگر اس کا عقیقہ نہ کیا جائے تو اسے مرنے یا بلاؤں میں گرفتار ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
اور حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص غنی ہو اس پر عقیقہ کرنا لازم ہے اور اسی طرح فقیر کے لئے بھی عقیقہ ہے جب کہ اس کے امکان میں ہو اور اگر ممکن نہ ہو تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے اور اگر کسی کا عقیقہ نہ ہو اور صرف قربانی کر دے تو بھی یہ قربانی عقیقہ کے لئے کافی ہے۔
اور حضرت سے سوال کیا گیا کہ ہم نے عقیقہ کے لئے جانور تلاش کیا اور ہمیں نہ مل سکا تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ کیا اس کی قیمت کا صدقہ نکال دیں؟ فرمایا کہ جب تک نہ ملے تلاش کر تے رہو۔
خداوند عالم لوگوں کو کھانا کھلانے اور ذبیحہ کو پسند کرتا ہے۔
اور دوسری حدیث میں ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ جو بچہ ساتویں دن مر جائے اس کا عقیقہ کیا جائے یا نہیں؟ فرمایا کہ اگر ظہر سے پہلے مر جائے تو عقیقہ نہیں ہے اور اگر بعدِ ظہر مرے تو عقیقہ کیا جائے۔
اورمعتبر حدیث میں عمر بن یزید سے منقول ہے کہ میں نےآپ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرے والد نے میرا عقیقہ کیا تھا یا نہیں تو آپ نے فرمایا کہ عقیقہ کر دو۔ چنانچہ انھوں نے ضعیفی میں اپنا عقیقہ کرا دیا ۔
اور آپؑ ہی سے حسن حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ساتویں دن بچہ کا نام رکھا جائے اور عقیقہ کیا جائے اور اس کا سر منڈھایا جائے اور اسکے سر کے بال کے برابر چاندی صدقہ کی جائے اور جانور کے پیر اور ران اس دائی کو جس نے اس کی ولادت میں مدد کی ہے دے دی جائے اور بقیہ لوگوں کو کھلا دیا جائے اور صدقہ دے دیا جائے۔
اور دوسری موثق حدیث میں فرمایا ہے کہ جب تمہارے یہاں کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو ساتویں دن کوئی بکرا یا اونٹ ذبح کر کے عقیقہ کرو اور ساتویں ہی دن اس کا نام رکھو اور سر تراشو اور اس کے سر کے بالوں کے برابر چاندی یا سونا صدقے میں دو ۔
اور دوسری حدیث میں ہے کہ بکرے کاچوتھائی حصہ ۴؍۱ دائی کو دے دیا جائے اور اگر بغیر دائی کے پیدا ہوا ہے تو وہ حصہ ماں کو دے دیا جائے کہ وہ جسے چاہے دے سکتی ہے۔
اور کم سے کم دس مسلمانوں کو کھلایا جائے اور اگر زیادہ ہو تو زیادہ بہتر ہے اور خود عقیقہ کا گوشت نہ کھائے اور اگر دائی یہودی ہو تو اس کو گوشت کے بجائے بکرے کی چوتھائی قیمت دے دی جائے۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ دائی کو تہائی حصہ دیا جائے اور علماء کے درمیان یہ مشہور ہے کہ عقیقہ کا جانور اونٹ یا بھیڑیا بکرا ہونا چاہیئے اور حضرت امام محمدؐ باقرؑ سے منقول ہے کہ حضرت رسولِؐ خدا نے جناب حسینؑ کے روزِ ولادت ان کے کان میں اذان کہی اور جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ساتویں دن ان کا عقیقہ کیا اور دائی کو بکرے کے پائے ایک اشرفی کے ساتھ دیئے۔
اگر عقیقہ کا جانور اونٹ ہے تو اس کی عمر پانچ یا چھ سال اور اگر بکرا ہو تو ایک یا دو سال کا ہو اور اگر بھیڑگوسفندہو تو کم از کم چھ یا سات مہینے کا ہو تو بہتر ہے اور یہ بھی بہتر ہے کہ وہ خصی نہ ہو اور سی طرح اس کے سینگھ یا ناک ٹوٹی ہوئی نہ ہو اور نہ ہی کان کٹا ہوا ہو اور نہ ہی بہت لاغر و کمزور ہو۔ نہ اندھا ہو اور نہ ہی اتنا لنگڑا کہ راستہ چلنا مشکل ہو۔
لیکن معتبر حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ عقیقہ قربانی کی طرح نہیں ہے بلکہ جیسا بھی گوسفند ہو بہتر ہے۔ اس میں اصل مقصد گوشت ہے اور جتنا موٹا ہو اور بہتر ہے۔
اور علماء کے درمیان یہ مشہور ہے کہ سنت ہے کہ لڑکے کا جانور نر ہو اور لڑکی کا مادہ ہو لیکن مؤلّف کتاب شیخ عباسؒ قمی کا نظریہ یہ ہے کہ دونوں کے لئے نر بہتر ہے کہ یہ بہت ساری معتبراحادیث کے موافق ہے۔
اور دونوں کے مادہ گوسفند بھی صحیح ہے اور سنت ہے کہ ماں باپ عقیقہ کے جانور کا گوشت نہ کھائیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ جس کھانے میں وہ گوشت پکا ہو اسے ہی نہ کھائے اور ماں کے لئے گوشت کھانے کی کراہیت اور زیادہ ہے۔
اور یہ بھی بہتر ہے کہ ماں باپ کے جو اہل و عیال گھر میں رہتے ہیں وہ بھی گوشت اور کھانا نہ کھائیں۔
اور یہ سنت ہے کہ اس کو پکایا جائے اور کچا صدقہ نہ دیا جائے جس کی کمترین صورت یہ ہے کہ اس کو نمک کہ پانی میں پکا لیں بلکہ ایک احتمال یہ ہے کہ یہی صورت بہتر ہےاور اگر کچا گوشت ہی تقسیم کر دے تو بھی ٹھیک ہے۔
اور اگر عقیقہ کاجانور نہ مل سکے تو قیمت صدقہ دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ انتطار کیا جائے تا کہ جانور مل جائے اور یہ بھی شرط نہیں ہے کہ عقیقہ کا کھانا کھانے والے لوگ فقیر ہی ہو لیکن نیک سیرتصلحاءاور فقراء کا بلانا بہتر ہے۔
مؤلف کتاب شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ مشہور یہ ہے کہ عقیقہ کے جانور کی ہڈیاں توڑنا مکروح ہے اور جو روایت میں ہے کہ :
یہ کرامت کے منافی نہیں ہے اور صاحب جواہر نے فرمایا ہے کہ اہلِ عراق کے درمیان جو یہ مشہور ہے کہ اس کی ہڈیوں کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دینا مستحب ہے تو میں نے اس سلسلے میں کوئی روایت نہیں دیکھی ہے۔ واللہ العالم