EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
تسبیح سے استخارہ کا دستور العمل
شیخ شہیدؒ نے اپنی کتاب ذکریٰ میں فرمایا ہے کہ مختلف استخاروں میں سے ایک استخارہ عدد بھی ہے اور گذشتہ زمانے میں یہ استخارہ سید کبیر عابد یزید بن محمد بن محمد بن ہادی الحسینیؒ مجاور نجف اشرف کے زمانے سے پہلے مشہور نہیں تھا۔
ہم اس استخارہ کی روایت ان کی تمام روایتوں کے ساتھ اپنے مشایخ کے ذریعہ شیخ کبیر فاضل جمال الدین بن مطہرؒ سے اور وہ اپنے والد کے ذریعہ سید رضی الدین مذکور سے اور انھوں نے حضرت صاحب العصرؑ سے روایت کی ہے سورۂ فاتحہ دس مرتبہ پڑھے یا اس سے کم تین بار پڑھے یا کم از کم ایک مرتبہ پڑھے۔
پھر سورۂ قدر کو دس مرتبہ
اور اس دعا کو تین مرتبہ پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ اِنّىْۤ اَسْتَخِيْرُكَ لِعِلْمِكَ بِعَاقِبَةِ الْاُمُوْرِ
پروردگار میں تجھ سے طلبِ خیر کرتا ہوں اس لیے کہ تو ہر امر کے انجام کو جانتا ہے۔
وَ اَسْتَشِيْرُكَ لِحُسْنِ ظَنِّىْ بِكَ
میں تجھ سے مشورہ کرتا ہوں اس لیے کہ میں ہر مسئلہ میں
فِى الْمَاْمُوْلِ وَالْمَحْذُوْرِ
تجھ سے حسنِ ظن رکھتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ الْاَمْرُ الْفُلَانِىْ مِمَّا قَدْنِيْطَتْ بِالْبَرَكَةِ اَعْجَازُهُ وَ بَوَادِيْهِ
خدایا فلاں امر جو میرے ذہن میں ہے اگر اس کے آغاز و انجام میں برکت ہے
وَ حُفَّتْ بِالْكَرَامَةِ اَيَّامُهُ وَ لَيَالِيْهِ
اور اس کے شب و روز میں کرامت ہے
فَخِرْلِىْ اَللّٰهُمَّ فِيْهِ خِيَرَةً
تو اس کو میرے لیے منتخب فرما دے
تَرُدُّ شُمُوْسَهُ ذَلُوْلًا
ایسا انتخاب جو سرکش کو رام کردے
وَ تَقْعَضُ اَيَّامَهُ سُرُوْرًا
اور ایام کو سرور کا باعث بنا دے
اَللّٰهُمَّ اِمَّا اَمْرٌ فَائْتَمِرْ
خدایا اگر تو حکم دے گا تو میں عمل کروں گا
وَ اِمَّا نَهْىٌ فَاَنْتَهِىْ
اور اگر منع کردے گا تو میں نہیں کروں گا۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْۤ اَسْتَخِيْرُكَ بِرَحْمَتِكَ
میں تیری رحمت سے طلبِ خیر کرتا ہوں
خِيَرَةً فِىْ عَافِيَةٍ
تا کہ عافیت کے ساتھ مجھے خیر حاصل ہوجائے۔
پھر تسبیح کے کچھ دانے پکڑے اور اپنی حاجت کی نیت کرے اگر ان کی تعداد جفت ہے تو اسے بجالائے اور اگر طاق ہے تو اسے انجام نہ دے یا اس کے برعکس یوینی طاق خوب ہے اور حقیقت بد ہے اور اس کا تعلق استخارہ کرنے والے کی نیت سے ہے وہ کسے بہتر سمجھتا ہے۔
مؤلّف کتاب شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ ’’تَقْعَضُ‘‘ میں ضاد نقطہ دار ہے جو تعطف اور تردّ کےمعنی میں ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے نمازوں کے باب میں استخارہ ذات الرقاع اور استخارہ کے بعض دوسری اقسام اور ان کے اوقات کا ذکر کر دیا ہے اس کی طرف بھی رجوع فرما سکتے ہیں۔