EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
دوسروں کیلئے استخارہ کرنے کا حکم
واضح رہےکہ سید بن طاؤسؒ کے ایک کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مجھے اس بارے میں کوئی صریحی حدیث نہیں مل سکی کہ ایک شخص کے لئے استخارہ کرے لیکن ایسی احادیث بکثرت موجود ہیں جن میں مومنین کی حاجات کو پورا کرنے کی تاکید ہے بلکہ روایت میں برادرانِ ایمانی کے لئے دعا کرنے کے اتنے فوائد بیان کئے گئے ہیں جن کے تذکرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اور استخارہ بھی مومنین کی انھیں حاجات اور دعاؤں میں سے ہے کہ جس شخص سے کسی نے استخارہ کرنے کے لئے کہا ہے تو گویا اس سے ایک حاجت طلب کی ہے۔
تو جو شخص استخارہ دیکھ رہا ہے تو وہ اپنے لئے یہ استخارہ کرنا چاہتا ہے کہ کیا اس میں بھلائی ہے یا نہیں کہ اس سے یہ کہے کہ اسے انجام دے یا انجام نہ دے یا جس نے استخارہ کرایا ہے اس کے بارے میں کہے کہ اس کے کرنے یا نہ کرنے میں مصلحت ہے یانہیں؟ اوریہ وہ چیز ہے جو استخارہ اور مومن کی حاجت پوری کرنے کا حکم دینے والی عام روایات میں داخل ہے۔
علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ استخارہ کے جواز میں سید کا کلام قوت سے خالی نہیں ہے خاص طور سے اس وقت جب نائب اس بات کا ارادہ کرے کہ وہ استخارہ کرانے والے سے یہ کہے گا کہ انجام دو یا انجام نہ دو جیسا کہ سید نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہ استخارہ کو خاص روایات میں داخل کرنے کا ایک حیلہ ہےلیکن اولیٰ اور احوط یہ ہے کہ صاحب استخارہ اپنے لئے خوداستخارہ کرے کیوں کہ ہم نے کوئی ایسی روایت نہیں دیکھی ہےجس میں استخارہ کے لئے وکالت کا جواز موجو دہو کہ اگر جائز یا ارجح ہوتا تواصحاب ائمہ علیہم السلام سے حتماً سوال کرتے اور اگر سوال یا ہوتا تو ضرور ہمارے لئے کم از کم ایک ہی روایت نقل ہوتی اور پھر مضطر اور مجبور ی دعا جلد قبول ہوتی ہے۔ اس میں زیادہ خلوص بھی پایا جاتا ہے۔