EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
سورہ توحید کی تلاوت خواص اور زراعت کی حفاظت
حضرت علیؑ سے ہی منقول ہے جو شخص سورہ قل ھو اللہ کو خواب گاہ میں جانے کے وقت پڑھے تین بار تو خدا اس کے لئے پچاس ہزار فرشتے معین کرتا ہے جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اس رات ۔
اور حضرت صادقؑ سے روایت ہے کہ جو شخص ایک روز نماز میں سورہ قل ھو اللہ نہ پڑھے تو روز قیامت اس سے کہا جائے گا کہ اے بندۂ خدا تو نماز گذاروں میں سے نہیں ہے۔
اور آنحضرتؐ سےمنقول ہے کہ جس شخص پر ہر ہفتہ یعنی جمعہ گذرے اور سورۂ قل ھو اللہ نہ پڑھے تو وہ دینِ ابولہب پر مرے گا۔
اور انھیں جناب سے مروی ہے ہے کہ اس کو مرض یا سختی پہنچے گی اور ٍاسی میں وہ مر جائے گا تو جہنم والوں میں سے ہو گا۔
زراعت کی حفاظت کی دعا
۳۷عدۃ الداعی میں اس دعا کو خربوزہ ، ککڑی اور دوسری تمام زراعتوں کی حفاظت کے لئے نقل کیا ہے کہ اسے کیڑے نہ لگیں اور خراب نہ کریں۔ اس کی کیفیت اس طرح ہے کہ چار نرکل میں رکھے اور اس کو کھیتی کے چاروں کونوں پر رکھے۔
اَيُّهَا الدُّوْدُ
اے کیڑو!
اَيُّهَا الدَّوَآبُّ وَالْهَوَآمُّ وَالْحَيْوَانَاتُ
اے جانورو! اے کیڑے مکوڑو!
اُخْرُجُوْا مِنْ هٰذِهِ الْاَرْضِ وَالزَّرْعِ اِلَى الْخَرَابِ
اس زمین سے نکل جاؤ، اس زراعت سے کسی خرابے میں چلے جاؤ
كَمَا خَرَجَ ابْنُ مَتّٰى مِنْ بَطْنِ الْحُوْتِ
جیسے یونسؑ شکمِ ماہی سے باہر آگئے
فَاِنْ لَمْ تَخْرُجُوْۤا
ورنہ اگر تم میری زمین سے نہ نکلو گے
اَرْسَلْتُ عَلَيْكُمْ شُوَاظًا مِنْ نَارٍ وَ نُحَاسٍ
تو میں آگ کے شعلے برساؤں گا۔
فَلَا تَنْتَصِرَانِ
پھر تمہارا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ
کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو اپنے گھروں سے نکلے
وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ
ہزاروں کی تعداد میں موت کے خوف سے پھر انھیں اللہ نے حکم دیا
لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا فَمَاتُوْۤا
راتوں رات مرجاؤ تو وہ مرگئے۔
اُخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ
بہتر یہ ہے کہ اس زمین سے نکل جاؤ میں تمہارا رہنا پسند نہیں کرتا ہوں۔
فَخَرَجَ مِنْهَا خَاۤئِفًا يَتَرَقَّبُ
دیکھو کیسے اللہ کے بندے نکلے خوف زدہ ہوکر۔
سُبْحَانَ الَّذِىْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهِ لَيْلًا
بے نیاز ہے وہ پروردگار جو اپنے بندے کو راتوں رات
مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰى
مسجد الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا۔
كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا
روزِ قیامت لوگ دیکھیں گے کہ
لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْضُحٰهَا
جیسے صرف چند ساعت دنیا میں رہے ہیں
فَاَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَ عُيُوْنٍ
اور ہم نے ان لوگوں کو باغات سے،
وَ زُرُوْعٍ وَ مَقَامٍ كَرِيْمٍ
چشموں سے زراعت سے بہترین منزل سے
وَ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فَاكِهِيْنَ
اور نعمتوں سے جس میں آرام کررہے تھے باہر نکال دیا
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۤءُ وَالْاَرْضُ
تو نہ ان پر آسمان رویا نہ زمین روئی
وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ
اور نہ انھیں مہلت دی گئی
اُخْرُجْ مِنْهَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا
نکل جاؤ اس زمین سے تمہارے لیے یہاں اکڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِيْنَ
تمہارا ایک مقدّر ذلّت ہے۔
اُخْرُجْ مِنْهَا مَذْؤُ مًا مَدْحُوْرًا
نکل جاؤ جس طرح کہ نکالے جارہے ہو
فَلَنَاْ تِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَاقِبَلَ لَهُمْ
ورنہ ہم ایسا لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ ممکن نہیں ہو
وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْهَاۤ اَذِلَّةً وَ هُمْ صَاغِرُوْنَ۔
اور ذلّت کے ساتھ نکالے جاؤگے جیسا کہ سلیمانؑ نے کہا تھا۔