EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
تاکید در امر وصیت
اور روایت ہوئی ہے رسولِؐ خدا سے کہ جو شخص وصیت نہ کرے اپنی موت کے وقت تو یہ عقل ومروت میں کمی ہے۔ لوگوں نے پوچگا یا رسولؐ اللہ یہ وصیت کیسے کرے جب کہ موت کا وقت آچکا ہے اور لوگ اس کے پاس جمع ہوں فرمایا کہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
اے خدا اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے،
عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ
حاضر و غائب کے جاننے والے،
الرَّحْمٰنَ الرَّحِيْمَ
اے رحمٰن و رحیم
اِنِّىْۤ اَعْهَدُ اِلَيْكَ
میں تیری بارگاہ میں عہد کرتا ہوں
اَنِّىْۤ اَشْهَدُ اَنْ لَاۤاِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ
کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
وَحْدَهُ لَاشَرِيْكَ لَهُ
کوئی اس کا شریک نہیں
وَاَنَّ مُحَمَّدًا صَلَى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
محمدؐ تیرے بندہ و رسول ہیں،
وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَارَيْبَ فِيْهَا
قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِى الْقُبُوْرِ
اللہ ہم لوگوں کو قبر سے نکالنے والا ہے۔
وَ اَنَّ الْحِسَابَ حَقٌّ
حساب حق ہے،
وَ اَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ
جنّت حق ہے،
وَ اَنَّ مَا وُعِدَ فِيْهَا مِنَ النَّعِيْمِ
خدا نے جن نعمتوں کا وعدہ کیا ہے
مِنَ الْمَاْكَلِ وَ الْمَشْرَبِ وَ النِّكَاحِ حَقٌّ
چاہے کھانے کی ہوں، چاہے پینے کی ہوں، چاہے نکاح کی ہوں، سب برحق ہیں۔
وَ اَنَّ النَّارَ حَقٌّ
جہنّم برحق ہے۔
وَ اَنَّ الْاِيْمَانَ حَقٌّ
ایمان حق ہے۔
وَ اَنَّ الدِّيْنَ كَمَا وَصَفَ،
دین ویسا ہی ہے جیسا تو نے بیان کیا ہے۔
وَ اَنَّ الْاِسْلَامَ كَمَا شَرَعَ
اسلام ویسا ہی ہے جیسا تو نے بنایا ہے،
وَ اَنَّ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ
بات وہی ہے جو تو نے کہی ہے،
وَ اَنَّ الْقُرْاٰنَ كَمَاۤ اَنْزَلَ
قرآن وہی ہے جو تو نے نازل کیا ہے۔
وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ
اللہ ہی حق مبین ہے۔
وَ اَنِّىْۤ اَعْهَدُ اِلَيْكَ فِىْ دَارِ الدُّنْيَاۤ
خدایا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ
اَنِّىْ رَضِيْتُ بِكَ رَبًّا
اس دارِ دنیا میں میں تجھ کو رب سمجھتا ہوں،
وَ بِالْاِسْلَامِ دِيْنًا
اسلام کو دین مانتا ہوں،
وَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ نَبِيًّا
محمدؐ کو نبی مانتا ہوں،
وَ بِعَلِيٍّ وَلِيًّا
علیؑ کو ولی و امام مانتا ہوں،
وَ بِالْقُرْاٰنِ كِتَابًا
قرآن کو کتاب
وَ اَنَّ اَهْلَ بَيْتِ نَبِّيِّكَ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ اَئِمَّتِىْ
اور اہل بیتؑ پیغمبرؐ کو اپنا پیشوا مانتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اَنْتَ ثِقَتِىْ عِنْدَ شِدَّتِىْ
خدایا تو ہر شدّت میں میرا سہارا،
وَ رَجَاۤئِىْ عِنْدَ كُرْبَتِىْ
ہر رنج میں میری امید
وَ عُدَّتِىْ عِنْدَ الْاُمُوْرِ الَّتِىْ تَنْزِلُ بِىْ
اور جملہ نازل ہونے والے امور میں میرا ذخیرہ ہے۔
وَ اَنْتَ وَلِيِّىْ فِىْ نِعْمَتِىْ
تو نعمتوں میں میرا ولی
وَ اِلٰهِىْ وَ اِلٰهُ اٰبَاۤئِىْ
اور میرا خدا اور میرے بزرگوں کا خدا ہے۔
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهٖ
محمدؐ وآل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ لَاتَكِلْنِىْ اِلٰى نَفْسِىْ طَرْفَةَ عَيْنٍ اَبَدًا
اور مجھے ایک لمحے کے لیے میرے نفس کے حوالے نہ کردینا،
وَ اٰنِسْ فِىْ قَبْرِىْ وَحْشَتِىْ
میری قبر میں نور فراہم کرنا۔
وَاجْعَلْ لِىْ عِنْدَكَ عَهْدًا يَوْمَ اَلْقَاكَ مَنْشُوْرًا
اس عہد کو قیامت تک کے لیے محفوظ رکھنا۔
یہ میت کا عہد ہے جس روز کہ وہ وصیت کرتا ہے اپنی حاجت کی اور وصیت ہر مسلمان پر حق ہے۔
اور حضرت امام جعفرِصادقؑ نے فرمایا کہ اس کی تصدیق سورۂ مریم میں ہے۔ خداوند عالم کا یہ قول موجود ہے:
لَّا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا
شفاعت کے مالک نہیں ہوں گے مگر وہ لوگ جنہوں نے خدائے رحمٰن کے ہاں سے عہد لے لیا ہے اور یہ وہی عہد ہے ۔
’’شفاعت کے مالک نہیں ہوتے ہیں خدا کے نزدیک مگر وہ لوگ جنھوں نے خدا سے عہد لیا ہے۔‘‘
اور رسولِؐ خدا سے عہد لیا ہے اور رسولِؐ خدا نے امیرا لمومنینؑ سے فرمایا کہ اس کو سکھاؤ اہلِ بیتؑ اور شیعوں کو اور فرمایا کہ یہ مجھ کو سکھایا ہے جبرئیل نے۔