آداب کفن میّت
جب وہ دنیا سے چلا جائے تو آنکھوں کو بندکر دیں، ہاتھوں کو سیدھا کردیں، پنڈلی کو کھینچ دیں اور تھوڑی کو باندھ دیں اور اس کے کفن کا انتظام شروع کریں۔
اور واجب کفن تین کپڑے ہیں لنگی، پیراہن، اور چادر جس کو سرتاسری کہتے ہیں اور مستحب ہے کہ اس کے علاوہ ایک بردیمانی ہو اور وہ چادر ہے جو یمن سے لاتے ہیں یا دوسری چادر اور اس کے علاوہ ران پیچ کہتے ہیں اور یہ میت کی رانوں پر لپیٹا جاتا ہے اور اس کے علاوہ مستحب ہے کہ اس کے لئے عمامہ قرار دیں۔
پھر تھوڑا کافور حاصل کریں جس کو آگ نے نہ دیکھا ہو اور افضل یہ ہے کہ کافور تیرہ درہم اور ایک تہائی ہو اور بہتر ہے کہ چار مثقال ہو اور کم سے کم ایک درہم ہونا چاہیئے اور اگر دشوار ہو تو جتنا ممکن ہو حاصل کریں اور مناسب ہے کہ تمام کفن پر یعنی ہر کپڑے پر لکھیں۔
(میت کا نام) گواہی دیتا ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر ﷲ
وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں،
وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ
یہ کہ حضرت محمدؐ ﷲ کے رسولؐ ہیں
وَ اَنَّ عَلِيًّا اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ
حضرت علیؑ مومنوں کے امیر ہیں
وَ الْاَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِهِ۔۔۔
اور جو امام ان کی اولاد میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ
جن میں حسنؑ، حسینؑ،
وَ عَلِىُّ بْنُ الْحُسَيْنِ
علیؑ ابن الحسینؑ،
وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ
محمدؑ ابن علیؑ،
وَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ
جعفرؑ ابن محمدؑ،
وَ مُوْسَى بْنُ جَعْفَرٍ
موسیٰؑ ابن جعفرؑ،
وَ عَلِىُّ بْنُ مُوْسٰى
علیؑ ابن موسیٰؑ،
وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ
محمدؑ ابن علیؑ،
وَ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ
علیؑ ابن محمدؑ،
وَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ
حسنؑ ابن علیؑ
وَالْقَاۤئِمُ الْحُجَّةُ
اور حضرت قائم حجتؑ ہیں۔
عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
درود و سلام ہو ان پر
اَئِمَّتُہُ اَئِمَّۃُ الْہُدٰی اَلْاَبْرَارُ
اس کے امام ہیں جو ہدایت و نیکی والے امام ہیں۔
ایک ایک امام کا ذکر کرے پھر لکھے اَئِمَتُّهُ اَئِمَّةُالْھُدَی الْاَبْرٰارُ اور اس کو خاکِ شفا سے یا انگلی سے لکھے اور سیاہی سے نہ لکھے۔