میّت کاکفنِ حنوط
پھرمیت کو کفن پنہائے اور ران بیچ لائے، پھیلائے اور اس پر تھوڑی سی روئی رکھے اور تھوڑا سا زریرہ خوشبو دار بوٹیچھڑک دے اور اسے میت کی اگلی پچھلی شرمگاہ پررکھے اور پچھلی شرمگاہ پر روئی رکھ دے پھر اس کو باندھ دے اس کی ران پر اور دونوں رانوں کو ملادے پھر اس کی لنگی کو باندھ دے ناف سے جہاں تک جائے، پھر پیراہن پنھائے اور اس کے اوپر سرتاسری اور اس کے اوپر بردیمانی جو اس کی قائم مقام ہو اور میت کے ساتھ وہ جریدہ رکھے خرمہ کی لکڑی کی یا کسی اور کی اور اس کو تازہ ہونا چاہیئے اور اس کی لمبائی ایک ہاتھ کے برابر ہونی چاہیئے۔
ان میں سے ایک میت کے داہنی جانب بدن سے ملا رکھے جو لنگی کے باندھنے کی جگہ ہے اور دوسری بائیں طرف پیراہن اور سرتاسری کے درمیان میں رکھے اور مقامات سجدہ پر کافور سے ملے یعنی پیشانی ہتھیلی گھٹنے اور پیروں کے انگوٹھے اور اگر کافور بچ جائے تو اس کو اس کے سینہ پر رکھ دے اور کفن کو لپیٹ دے اور سر اور پیر کی جانب سے باندھ دے اور جس وقت سپرد لحد کرے تو کفن کی گرہ کھول دے اور جب کفن سے فارغ ہوں تو اسے تابوت میں رکھ کر اس کو لے جائیں تا کہ نماز پڑھیں۔