EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
تلقین
مؤلّف کتاب شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ ا حتضار جاں کنی کے وقت کے علاوہ دو جگہ تلقین مستحب ہے۔
ایک اس وقت جب کہ اسے قبر میں رکھا جائے اور بہتر ہے کہ داہنے شانے اور بائیں ہاتھ سے بائیں شانے کو پکڑ لےاور اسے ہلا کر تلقین پڑھائے۔
اور دوسرے تلقین کا دوسرا وقت یہ ہے کہ جب تمام لوگ قبر کے پاس سے چلےجائیں تو میت کا سب سے قریبی وارث میت کے سرہانے بیٹھ کر بلند آواز سے تلقین پڑھے ۔
اور بہتر ہے کہ ہاتھ کی دونوں ہتھیلیوں کو قبر پر رکھے اور منھ کو قبر کے نزدیک لے جائے اور اگر دوسرے کو نائب بنا دے تو یہ بھی بہتر ہے اور روایات میں ہے کہ جب یہ تلقین پڑھی جاتی ہے تو منکر نکیر سے کہتا ہے کہ آؤواپس چلیں کہ اسے اس کی جنت کی تلقین کر دی گئی ہے اور اب سوال کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے اور وہ سوال نہیں کرتے ہیں بلکہ واپس چلے جاتے ہیں۔
علامہ مجلسیؒ نے فرمایا کہ تلقین کرنے والا اگر اس طرح تلقین پڑھے تو یہ جامع ترہے:
فلاں بن فلاں کی جگہ اس کا اور اس کے والد کا نام لے
اِسْمَعْ اِفْهَمْ يَا۔۔۔بن۔۔۔
تو سن اور سمجھ اے فلاں ابن فلاں۔
هَلْ اَنْتَ عَلَى الْعَهْدِ الَّذِىْ فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ
کیا تو اسی عہد پر قائم ہے جس پر ہم سے جدا ہوا ہے
مِنْ شَهَادَةِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اور وہ عہد توحیدِ پروردگار
وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
کی گواہی
وَ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ
اور اس بات کی گواہی کہ
عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
محمدؐ اس کے بندہ اور رسول
وَ سَيِّدُ النَّبِيِّيْنَ
سیّد النبیین
وَ خَاتَمُ الْمُرْسَلِيْنَ
اور خاتم المرسلین ہیں
وَ اَنَّ عَلِيًّا اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ
اور علیؑ امیرالمومنین ہیں
وَ سَيِّدُ الْوَصِيِّيْنَ
سید الوصیین ہیں
وَ اِمامٌ افْتَرَضَ اللّٰهُ طَاعَتَهُ عَلَى الْعَالَمِيْنَ
اور وہ امام ہیں کہ جن کی اطاعت اللہ نے عالمین پر واجب کی ہے
وَ اَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ
اور حسنؑ و حسینؑ
وَ عَلِىَّ بْنَ الْحُسَيْنَِ
اور علیؑ ابن الحسینؑ،
وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ
محمدؑ ابن علیؑ،
وَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ
جعفرؑ ابن محمدؑ،
وَ مُوْسَىٰ بْنَ جَعْفَرٍ
موسیٰؑ ابن جعفرؑ،
وَ عَلِىَّ بْنَ مُوْسىٰ
علیؑ ابن موسیٰؑ،
وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ
محمدؑ ابن علیؑ،
وَ عَلِىَّ بْنَ مُحَمَّدٍ
علیؑ ابن محمدؑ،
وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِىٍّ
حسنؑ ابن علیؑ
وَالقَاۤئِمَ الْحُجَّةَ الْمَهْدِىَّ
اور حضرت قائم مہدی
صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِمْ
صلوات اللہ علیہم
اَئِمَّةُ الْمُؤْمِنِيْنَ
مومنین کے امام
وَ حُجَجُ اللّٰهِ عَلَى الْخَلْقِ اَجْمَعِيْنَ
اور مخلوقات پر اللہ کی حجّت
وَ اَئِمَّتَكَ اَئِمَّةُ هُدًى اَبْرَارٌ
اور تیرے امام اور پیشوا نیک کردار ہیں۔
يَا۔۔۔ بْنَ۔۔۔
اے مرنے والے
اِذا اَتاكَ الْمَلَكَانِ الْمُقَرَّبَانِ
جب تیرے پاس دو ملک
رَسُوْلَيْنِ مِنْ عِنْدِاللّٰهِ تَبارَكَ وَ تَعَالٰى
مقرّب اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئیں
وَ سَئَلَاكَ عَنْ رَبِّكَ
اور تجھ سے سوال کریں خدا کے بارے میں،
وَ عَنْ نَبِيِّكَ وَ عَنْ دِيْنِكَ
نبی کے بارے میں، تیرے دین،
وَ عَنْ كِتابِكَ وَ عَنْ قِبْلَتِكَ
تیری کتاب تیرے قبلہ
وَ عَنْ اَئِمَّتِكَ فَلَا تَخَفْ
اور تیرے ائمہؑ کے بارے میں تو خبردار خوف زدہ نہ ہونا
وَ قُلْ فِىْ جَوَابِهِمَا:
اور ان کے جواب میں کہہ دینا کہ
اَللهُ جَلَّ جَلَالُهُ رَبِّىْ
اللہ جل جلالہٗ میرا پروردگار ہے
وَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ نَبِيِّى
محمدؐ میرے پیغمبر ہیں،
وَالْاِسْلَامُ دِيْنِىْ
اسلام میرا دین ہے،
وَ الْقُرْاٰنُ كِتَابِىْ
قرآن میری کتاب ہے،
وَالْكَعْبَۃُ قِبْلَتِىْ
کعبہ میرا قبلہ ہے
وَ اَمِيْرُالْمُؤْمِنِيْنَ عَلِىُّ بْنُ اَبِيْطَالِبٍ اِمَامِىْ
اور علی امیرالمومنینؑ میرے امام ہیں۔
وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُجْتَبٰى اِمَامِىْ
حسنؑ ابن علیؑ میرے امام ہیں،
وَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّهِيْدُ بِكَرْبَلَاۤءَ اِمَامِىْ
حسینؑ شہیدِ کربلا میرے امام ہیں،
وَ عَلِىُّ زَيْنُ الْعَابِدِيْنَ اِمَامِىْ
علی زین العابدینؑ میرے امام ہیں،
وَ مُحَمَّدٌ بَاقِرُ عِلْمِ النَّبِيِّيْنَ اِمَامِىْ
محمد باقرؑ میرے امام ہیں،
وَ جَعْفَرٌ الصَّادِقُ اِمَامِىْ
جعفر صادقؑ میرے امام ہیں،
وَ مُوْسَىٰ الْكَاظِمُ اِمَامِىْ
موسیٰ کاظمؑ میرے امام ہیں،
وَ عَلِىٌّ الرِّضَا اِمَامِىْ
علی رضاؑ میرے امام ہیں،
وَ مُحَمَّدٌ الْجَوَادُ اِمَامِىْ
محمد جوادؑ میرے امام ہیں،
وَ عَلِىٌّ الْهَادِىْ اِمَامِىْ
علی نقیؑ میرے امام ہیں،
وَ الْحَسَنُ الْعَسْكَرِىُّ اِمَامِىْ
حسن عسکریؑ میرے امام ہیں
وَالْحُجَّةُ الْمُنْتَظَرُ اِمَامِىْ
اور حجّت منتظرؑمیرے امام ہیں۔
هٰؤُلَاۤءِ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِمْ اَجْمَعِيْنَ اَئِمَّتِىْ
سلام اللہ علیہم اجمعین۔ یہ سب میرے امام
وَ سَادَتِىْ وَقَادَتِىْ وَ شُفَعَاۤئِىْ
سردار، قائد اور روزِ قیامت کے شفیع ہیں۔
بِهِمْ اَتَوَلّٰى
ان ہی سے میں محبّت کرتا ہوں
وَ مِنْ اَعْدَاۤئِهِمْ اَتَبَرَّءُ
اور ان کے دشمنوں سے
فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ،
دنیا و آخرت میں بیزار ہوں۔
ثُمَّ اِعْلَمْ يَا۔۔۔ بْنَ۔۔۔
اور تجھے یہ بھی معلوم رہے کہ
اَنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰى نِعْمَ الرَّبُّ
اللہ تبارک تعالیٰ بہترین رب،
وَ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ نِعْمَ الرَّسُوْلُ
پیغمبر بہترین رسولؐ۔
وَ اَنَّ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلِىَّ بْنَ اَبِىْ طَالِبٍ
امیرالمومنین علیؑ ابن ابی طالبؑ
وَ اَوْلَادَهُ الْاَئِمَّةَ الْاَحَدَ عَشَرَ نِعْمَ الْاَئِمَّةُ
اور ان کی اولاد بہترین ائمہؑ ہیں۔
وَ اَنَّ مَا جَاۤءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ حَقُّ
جو کچھ پیغمبر خدا کی طرف سے لائے ہیں سب برحق ہیں۔
وَ اَنَّ الْمَوْتَ حَقُّ
موت برحق ہے
وَ سُؤَالَ مُنْكَرٍ وَ نَكِيْرٍ فِى الْقَبْرِ حَقُّ
منکرو نکیر کا سوال حق ہے،
وَالْبَعْثَ حَقُّ
قبر سے نکلنا
وَالنُّشُوْرَ حَقُّ
اور حشر حق ہے،
وَ الصِّرَاطَ حَقُّ
صراط حق ہے،
وَالْمِيْزَانَ حَقُّ
میزان حق ہے،
وَ تَطَایُرَ الْكُتُبِ حَقُّ
نامۂ اعمال برحق ہے،
وَالْجَنَّةَ حَقُّ
جنّت برحق ہے۔
وَ النَّارَ حَقُّ
جہنّم برحق ہے۔
وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَارَيْبَ فِيْهَا
قیامت آنے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے
وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِى الْقُبُوْرِ۔
اور اللہ ان سب کو قبروں سے نکالنے والا ہے جو آج قبروں میں ہیں۔
اس کے بعد کہے
اَفَهِمْتَ يَا…..
اے فلاں کیا تو نے سمجھ لیا ہے؟
حدیث میں ہے کہ اس کے جواب میں میت کہتی ہے ہاں میں سمجھ گیا۔
پھر کہے:
ثَبَّتَكَ اللّٰهُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ
خدا تجھے ہی سے قول ثابت پر ثابت قدم رکھے،
هَدَاكَ اللّٰهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقيْمٍ
صراطِ مستقیم کی ہدایت دے
عَرَّفَ اللّٰهُ بَيْنَكَ وَ بَيْنَ اَوْلِيَاۤئِكَ
تجھے اولیاء کی خدمت میں پہنچادے
فِىْ مُسْتَقَرٍّ مِنْ رَّحْمَتِهِ۔
اپنی منزلِ رحمت میں۔
پھر کہے:
اَللّٰهُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهِ
خدایا اس کے پہلوؤں سے زمین کو کشادہ کردے
وَاصْعَدْ بِرُوْحِهِ اِلَيْكَ
اور اس کی روح کو اپنی بارگاہ تک پہنچا دے
وَلَقِّهِ مِنْكَ بُرْهَانًا
اور اسے اپنی حجّت عطا فرما دے۔
اَللّٰهُمَّ عَفْوَكَ عَفْوَكَ۔
خدایا اسے معاف کردینا، معاف کردینا، معاف کردینا۔
کلمہ شریفہ ’’عفو‘‘ پر میں نے یہ رسالہ تمام کیا ہے اور مجھے مکمل یقین اور امید ہےکہ عفو بخشش الٰہی اس روسیاہ اور اس رسالہ پر عمل کرنے والے تمام افراد کے شاملِ حال ہو گی۔
اس کتاب کی تالیف کا سلسلۂ کار ۱۹ محرم الحرام ۱۳۴۵ہجری کو روز جمعہ کی آخری ساعتوں میں ہمارے غریب اور مظلوم مولا امام ابوالحسن علی رضاؑ کے قرب میں اختتام کو پہنچا۔
ان پر اور ان کے بزرگان پر زندہ و پائندہ خدا کا سلام ہو۔والحمد للہ اولا و اخرا وصلی اللہ علیٰ محمد و آلہٖ
اس رسالے کو اپنے گناہگار ہاتھوں سے عباس بن محمد رضا قمی نے مرتب کیاخدا ان دونوں کے گناہ معاف فرمائےعباس محمد رضا القمیؒ عفی