دعائے اللهم رب هذه الدعوة التامه
پھر کھڑے ہو کر بالکل پہلی نماز کی طرح دو رکعت نماز ااور پڑھے مگر شروع والی چھ تکبیریں نہ کہے ۔ پھر کھڑے ہو کر اسی طرح دو رکعت اور پڑھے اور تسبیح اور مذکورہ دعاؤں کو ان چار رکعتوں کے بعد بھی پڑھے اور دو رکعت نافلہ اذان و اقامت کے درمیان پڑھے اور اقامت کے بعد کہے۔
پروردگار اے مکمل دعوت کے مالک،
وَالصَّلوٰةِ الْقَاۤئِمَةِ
اے نماز قائم کے مالک !
بَلِّغْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو
الدَّرَجَةَ وَالْوَسِيْلَةَ
بلند درجہ وسیلہ فضل و کرم
وَالْفَضْلَ وَ الْفَضِيْلَةَ
اور فضیلت عنایت فرما۔
بِاللّٰهِ اَسْتَفْتِحُ
میرا آغاز اللہ کے سہارے،
وَ بِاللّٰهِ اَسْتَنْجِحُ
میری کامیابی اللہ کے سہارے،
وَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ اَتَوَجَّهُ
میں پیغمبرؐ کے سہارے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوں۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
وَّ اجْعَلْنِىْ بِهِمْ عِنْدَكَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۔
مجھے دنیا و آخرت میں وجیہ اور اپنے مقرّب بندوں میں قرار دے دے۔
آدابِ نمازِ ظہر
اس کے بعد نماز ظہر شروع کر دے اور ان تمام باتوں کو خیال رکھے جو نماز صبح کے بارے میں گذر چکی ہیں مگر یہاں بسم اللہ کے علاوہ سب کچھ آہستہ پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد انّا انزلناہُ اور دوسری رکعت میں سورۂ توحید پڑھے۔ پھر دوسری رکعت میں تشہد کے بعد
وَ تَقَبَّلْ شَفَاعَتَهُ
تو پیغمبرؐ کی شفاعت قبول فرما
وَ ارَفَعَ دَرَجَتَهُ۔
اور انہیں بلند درجے دے
پڑھےاور کھڑے ہو کر تین بار تسبیحاتِ اربعہ پڑھے اور اگر قربۃً الی اللہ اس میں استغفارکا اضافہ کر دے تو بہتر ہےاس کے بعد اسی طرح رکوع و سجود بجا لائے جس طرح پہلے گذر چکا ہے۔ پھر تیسری رکعت سے کھڑے ہو کراسی طرح چوتھی رکعت بھی پوری کرے اور تشہد و سلام کے بعد نماز تمام کر دے اور نماز کے بعد تعقیبات شروع کر دے اور سب سے پہلے تین تکبیر کہے جیسا کہ تعقیبات میں گذر چکا ہے لاالهَ الاّ اللہُ اِلھاً واحداً جو گذر چکی ہے آخر تک پوری دعا پڑھے اس کے بعد تسبیح زہراؑ پڑھے اس کے بعد وہ مشترک تعقیبات جو نماز صبح کے بعد بیان ہوئے ہیں ان میں سے جو پڑھنا چاہےانھیں پڑھے۔اس کے بعد نماز ظہر کے مخصوص تعقیبات پڑھے اگرچہ وہ بہت زیادہ ہیں اور ہم نے ان میں سے کچھ کو اپنی کتاب ہدیہ اور مفاتیح میں ذکر کیا ہے مگر اس مختصر کتابچہ میں اس کا امکان نہیں ہے ۔ پھت سجدۂ شکر کرے