خدا کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِىْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا۔
وَ لَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِى الْمُلْكِ
کوئی اس کے ملک میں شریک نہیں۔
وَالْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِىْ يَصِفُ وَلَا يُوْصَفُ
ساری حمد اسی اللہ کے لیے ہے۔ اس کی کوئی صفت بیان نہیں کرسکتا۔
وَ يَعْلَمُ وَلَايُعْلَمُ
وہ ہر چیز کو جانتا ہے، اسے کوئی نہیں جانتا۔
يَعْلَمُ خاۤئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ
وہ نگاہوں کی خیانت اور دلوں کے رازوں کو جانتا ہے۔
وَ اَعُوْذُ بِوَجْهِ اللّٰهِ الْكَرِيْمِ
میں اسی خدائے رحیم کی پناہ
وَ بِاسْمِ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ
اور اسی کے عظیم نام کی پناہ چاہتا ہوں
مِنْ شَرِّ مَا ذَرَءَ وَ بَرَءَ
تمام مخلوقات سے جو زمین کے نیچے ہیں
وَ مِنْ شَرِّ مَا تَحْتَ الثَّرٰى
یا اوپر ہیں
وَ مِنْ شَرِّ مَا ظَهَرَ وَ مَا بَطَنَ
جن کا شر ظاہر ہے اور جو باطن ہیں،
وَ مِنْ شَرِّ مَا كَانَ فِى اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
جو لیل و نہار میں ہورہا ہے
وَ مِنْ شَرِّ اَبِىْ قِتْرَةَ وَ مَا وَلَدَ وَ مِنْ شَرِّ الرَّسِيْسِ
ابی قترہ شیطان اور اس کی اولاد کے شر سے شیطان رسیس کے شر سے
وَ مِنْ شَرِّ مَا وَصَفْتُ
اس کے شر سے جس کا میں نے ذکر کیا
وَ مَا لَمْ اَصِفْ وَالْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
اور جس کا ذکر نہیں کیا حمد ہے جہانوں کے رب اللہ کے لیے
۱۸شیخ کلینیؒ نے معتبر سند کے ساتھ حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے جو شخص صبح کو یہ دعا پڑھے گا تو اس دن سے اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی اور اگر رات میں پڑھے گا تو رات کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی انشہ۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَصْبَحْتُ فِىْ ذِمَّتِكَ وَ جِوَارِكَ
خدایا میں نے صبح کی ہے تیرے ذمّے میں تیری پناہ میں۔ میں اپنے دین، اپنے نفس
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْتَوْدِعُكَ دِيْنِىْ وَ نَفْسِىْ
اور تیرے امان میں دیتا ہوں اپنے دین، نفس
وَ دُنْيَاىَ وَ اٰخِرَتِىْ
دنیا و آخرت،
وَ اَهْلِىْ وَ مَالِىْ
اہل و مال سب کو تیرے امان میں دیتا ہوں،
وَ اَعُوْذُبِكَ يَا عَظِيْمُ مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ جَمِيْعًا
میں تیری پناہ چاہتا ہوں اے خدائے عظیم، مخلوقات کے شر سے
وَ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا يُبْلِسُ بِهِ اِبْلِيْسُ وَ جُنُوْدُهُ۔
اور شیطان اور اس کے لشکروں کے شر سے۔
۱۹نیز شیخ کلینیؒ ہی نے تقریباً صحیح سند کے ساتھ یہ روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے کوئی دعا تعلیم فرمائیں جس کو صبح و شام پڑھ سکوں تو آپؑ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو۔
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِىْ يَفْعَلُ مَا يَشاۤءُ
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔
وَلَايَفْعَلُ مَا يَشاۤءُ غَيْرُهُ
اس کے علاوہ کوئی ایسا صاحبِ اختیار نہیں۔
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ كَمَا يُحِبُّ اللهُ اَنْ يُحْمَدَ
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جس طرح وہ حمد چاہتا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ كَمَا هُوَ اَهْلُهُ
ساری حمد اللہ کے لیے ہے جیسا وہ حمد چاہے۔
اَللّٰهُمَّ اَدْخِلْنِىْ فِىْ كُلِّ خَيْرٍ
خدایا مجھے ہر اس چیز میں داخل کردے
اَدْخَلْتَ فيهِ مُحَمَّدًا وَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ
جس میں محمدؐ و آل محمدؐ کو داخل کیا ہے
وَّ اَخْرِجْنِىْ مِنْ كُلِّ سُوْءٍ
اور ہر اس برائی سے نکال دے
اَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّدًا وَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ
جس سے محمدؐ و آل محمدؐ کو نکال دیا ہے
صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
اور محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما۔
۲۰بلد الامین میں رسولؐ خدا سے روایت ہے کہ جو شخص صبح یہ دعا سات بار پڑھے گا وہ بلاؤں سے محفوظ رہے گا۔
فَاللهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَ هُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ
اللہ بہترین حافظ ہے اور وہ بہترین رحم کرنے والا ہے۔
اِنَّ وَلِيِّىَ اللّٰهُ الَّذِىْ نَزَّلَ الْكِتَابَ
میرا سرپرست وہ خدا ہے جس نے کتاب کو نازل کیا
وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِيْنَ
اور وہی تمام نیک بندوں کا سرپرست ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِىَ اللّٰهُ
اس کے بعد اگر لوگ اس سے منہ پھراتے ہیں تو میرا خدا میرے لیے کافی ہے۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں۔
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ
میرا اعتماد اسی پر ہے
وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيْمِ
اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔