دوسری نماز وحشت
شیخ عباس قمیؒ کا بیان ہے کہ کفعمیؒ نے بھی اس نماز کو اسی طریقہ سے نقل کیا ہے۔ لیکن میں نے بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ سورۂ حمد کے بعد آیۃ الکرسی ایک مرتبہ اور توحید دو مرتبہ ۔
اور علامہ مجلسیؒ نے زارد المعاد میں فرمایا ہے کہ اپنے مردوں کو فراموش نہ کرو کہ اب وہ مجبور ہو چکےاور نیک اعمال انجام نہیں دے سکتے ہیں اور اب وہ صرف اپنی اولاد، اعزاء اور برادران ایمانی کے احسان کی آس لگائے اس کے منتظر رہتے ہیں۔
خاص طور سے نماز شب اور واجب نمازوں کے بعد اور مقاماتِ مقدسہ میں دعا کرنی چاہیئے اور سب سے زیادہ والدین کے لئے دعا کرنی چاہیئے اور اعمال خیر بجا لانا چاہئیں۔
روایت میں ہے کہ بہت ساری اولاد جو والدین کی زندگی میں عاق ہو جاتی ہے وہ ان کے انتقال کے بعد نیک کردار ہو جاتی ہے۔ صرف ان اعمالِ خیر کی بنا پر جو ان کے لئے انجام دیتی ہیں۔
اور بسا اوقات والدین کی زندگی میں تو اولاد نیک کردار ہوتی ہے لیکن ان کے انتقال کے بعد عاق ہو جاتی ہے کہ ان کے لئے جو اعمال خیر انجام دینا چاہتے تھے وہ کم انجام دیئے ہیں۔
والدین اور دوسرے تمام اعزاء کے لئے بہترین عمل خیر یہ ہے کہ ان کا قرض ادا کر دے اور انھیں خدا اور بندوں کے حقوق سے بَری کر دے اور حج یا دوسری چھوٹی ہوئی عبادات کو اجارہ پر یا فی سبیل اللہ بجا لائے۔
حدیث صحیح میں منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؑ ہر رات اپنے فرزند کے لئے اور ہر دن اپنے والدین کے لئے دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ پہلی رکعت میں انّا انزلناہُ اور دوسری رکعت میں انّا اعطینا ۔
اور صحیح سند کے ساتھ حضرت امام صادقؑ سے منقول ہے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی میّت مشکلات اور سختیوں میں گرفتار ہوتی ہے اور خداوند عالم اس کی مشکلات کو دور کر کے اسے راحت و سکون عطا کر دیتا ہے۔ تواس سے کہا جاتا ہے کہ تجھے جو یہ سکون حاصل ہوا ہے یہ تیرے فلاں برادر مومن کی بنا پر ہے جس نے تیرے لئے نماز پڑھی ہے۔
راوی نے سوال کیا کہ کیا دو میّتوں کو ایک نماز میں شریک کر سکتے ہیں؟ فرمایا بیشک۔
پھر فرمایا کہ میّت کے لئے جو نماز پڑھی جاتی ہے یا دعاء استغفار کی جاتی ہے وہ اس سے اسی طرح خوشحال ہوتا ہے جس طرح زندہ کو تحفہ دیا جاتا ہے اور فرمایا کہ جتنے بھی نیک اعمال ہیں جیسے نماز، روزہ، حج و صدقات وغیرہ یہ سب میّت کی قبر میں پہنچتے ہیں اور اس کا ثواب مردہ اور انجام دینے والے دونوں کے لئے لکھا جاتا ہے۔
اور دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص مسلمان بھی کسی میّت کے لئے کوئی عمل صالح کرے خداوند عالم اس کے ثواب کو دوگنا کر دیتا ہے اور اس کے عمل سے میّت کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور روایت میں ہے کہ جو شخص بھی کسی میّت کی نیت سے صدقہ نکالے تو خداوند عالم جبرئیل کو حکم دیتا ہے کہ ستّر ہزار فرشتے اس کی قبر کے پاس جائیں اور ہر ایک کے ہاتھ میں نعمتِ الٰہی کا ایک طشت ہوتا ہے اور سب اس سے کہتے ہیں ‘‘السّلامُ علیکَ’’ اے خدا کے دوست! یہ فلاں مومن کا تحفہ ہے جس کے بعد اس کی قبر نورانی ہو جاتی ہے اور پروردگار جنت میں اسے ہزار شہر عطا فرماتا ہے اور ہزار حوروں سے اس کا نکاح کر دیتا ہے اور ہزار حُلّے پہنا دیتا ہےاور اس کی ہزار حاجتوں کو پورا کر دیتا ہے۔