دعا قبول ہونے کے وظائف
شیخ عباس قمیؒ فرماتے ہیں کہ سید بن طاؤسؒ نے جمال الاسبوع میں ایک یہ بات بھی کہی ہے کہ جب کبھی خداوند عالم سے کوئی حاجت طلب کرو تو کم سے کم تمہاری حالت ایسی ہو تو جیسے کسی دنیاوی بادشاہ سے کوئی حاجت طلب کرتے ہو۔ یعنی پہلے جتنا ممکن ہو اسے خوش کرتے ہو۔ لہٰذا جب خدا سے حاجت طلب کرو تو یہی کوشش کرو کہ اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کر لو۔
ایسا ہرگز نہ ہو کہ خدا کی طرف تمہاری توجہ دنیاوی بادشاہوں سے کم ہو اور اگر تمہاری یہی حالت ہو گی تو تم استہزاء کرنے والے اور ہلاک ہونے والوں میں شمار ہو گے۔
بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کو راضی کرنے کے لئے انسان کا اہتمام مخلوق کو راضی کرنے کا اہتمام سے بھی کم ہو اور بادشاہوں کی حیثیت خداوند عالم کی عظمت سے بھی زیادہ ہو ورنہ اس طرح تم نے خدا کا مذاق اڑایا ہے اور اس کو ہلکا سمجھا ہے اور اس کی عظمت و جلالت کو حقیر سمجھا ہے اور اس سے منھ پھیر لیا ہے۔
افسوس کہ تم ایسی صورت میں نماز یا رونے کے ذریعہ اپنی حاجت حاصل نہ کر سکو گے لہٰذا ضروری ہے کہ تمہاری نماز اور روزہ تجربہ کے لئے نہ ہو۔ انسان صرف اس کا تجربہ کرتا ہے جس سے بدگمان ہو۔ جب کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو اس کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔
‘‘یَظُنُّوْنَ بِاللہِ ظَنَّ الْسَّوْءِ عَلَیْھِمْ دٰآئِرَۃُ الْسُّوْءِ’’
بلکہ ضروری ہے کہ اطمینانِ کامل کے ساتھ اس کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے حاجت طلب کرو اور اس سے تمہاری امید اس سے زیادہ ہو جتنی ایک گرام سونا حاتم طائی سے مانگتے وقت امید رکھتے ہو کہ اگر تم اس سے ایک گرام مانگو تو تمہیں قوی یقین ہوتا ہے کہ وہ تم کو عطا کر دے گا۔
یاد رکھو کہ تمہاری حاجت خداوند عالم کے نزدیک اس سے کہیں کمتر اور پست تر ہے جتنی اہمیت حاتم کے نزدیک ایک گرام کی ہے۔ لہٰذا ہرگز ہرگز خدا پر تمہارا اعتماد کم نہ ہونے پائے اور تمہارے لئے یہ بھی مناسب ہے کہ جب کبھی کسی حاجت کے لئے نماز پڑھو یا روزہ رکھو تو اس کام میں پہلے سب سے زیادہ ضروری اور اہم ،پھر ضروری، پھر اس سے کمتر اپنی دینی حاجتوں کی نیت کرو اور یاد رکھو کہ ان تمام حاجتوں میں سب سے زیادہ اہم اور ضروری اس کی حاجتیں ہیں جن کی پناہ ہدایت میں تم زندگی بسر کر رہے ہو اور وہ تمہارے امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ ہیں۔
لہٰذا ضرورت ہے اپنی نماز و روزہ میں پہلے ان کی ضرورتوں کے پورا ہونے کے لئے دعا کرو اس کے بعد اپنی ضرورتوں کے لئے اور پھر اس حاجت کے لئے اور پھر اس حاجت کے لئے جو تمہیں پیش آ گئی ہے اور جس کا تم نے ارادہ کیا ہے۔ جیسےاگر کوئی ظالم تمہارے قتل کا ارادہ رکھتا ہو اور تم حاجت کا روزہ رکھو تاکہ اس کے شر سے نجات حاصل کر و تو یہ یاد رکھو کہ اس سے زیادہ اہم تمہاری دینی حاجتیں یعنی خداوند عالم کی خوشی اور مغفرت وغیرہ ہیں۔
اور یہ کہ وہ تمہاری طرف رحمت کا رخ کر کے تمہارے عمل کو قبول کرے کیوں کہ تمہارے قتل سے تمہاری دنیا تو خراب ہو سکتی ہے مگر دین خطرہ میں نہیں ہے اور اگر تم قتل نہ بھی ہوئے تو بھی ایک دن مرنا بہرحال ہے لیکن اگر خداوند عالم راضی نہ ہو اور اس نے گناہوں کو معاف نہ کیا تو دنیا اور آخرت دونوں میں ہی ہلاکت ہے اور تمہیں ان مشکلات اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا تصور بھی تمہارےلئے نا ممکن ہے ۔
لیکن ہم نے جو یہ کہا ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ، کی حاجتوں کو اپنی حاجتوں پر مقدم رکھو۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ دنیا اور اہلِ دنیا کی بقا صرف آپ کے وجود پر منحصر ہے اور صرف اس کی وجہ سے محفوظ ہے تو تم اپنی حاجتوں اور مرادوں کو اس کی حاجت پر کیسے مقدم کر سکتے ہو؟
ضرورت ہے کہ پہلے ان کی حاجتوں کے بارے میں دعا کرو اور یادرکھو کہ وہ حضرت اپنی حاجتوں میں تمہارے نماز و روزہ سے مستغنی ہیں اور انھیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ تمہاری غلامی کا تقاضا ہے کہ ایسا ضرور کرو جس طرح کہ اپنی دعاؤں کا آغاز ان پر صلوات بھیج کر کرتے ہو۔