EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
نماز جناب فاطمہ علیہا سلام
روایت میں ہے کہ جناب فاطمہؐ یہ دو رکعت نماز ادا کرتی تھیں جسے جبرئیل امین نے آپ کو بتایا تھا اور جس کی پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سو مرتبہ انا انزلناہ ہے اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سو۱۰۰مرتبہ سورۂ توحید۔ نماز کے بعد آپ یہ دعا پڑھتی تھیں
سُبْحَانَ ذِي الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِيْفِ
پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا جو بلند اور عظیم عزّت کا مالک ہے۔
سُبْحَانَ ذِي الْجَلَالِ الْبَاذِخِ الْعَظِيْمِ
پاکیزہ ہے وہ خدا جو صاحبِ جلال، عظیم بزرگ ہے۔
سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ الْفَاخِرِ الْقَدِيْمِ
پاکیزہ ہے وہ خدا جو صاحب ملک عظیم و قدیم ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ لَبِسَ الْبَهْجَةَ وَ الْجَمَالَ
پاکیزہ ہے وہ خدا جس کا لباس رونق، جمال اور حُسن ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ تَرَدَّى بِالنُّوْرِ وَ الْوَقَارِ
پاکیزہ ہے وہ خدا جس کی ردا نور اور وقار ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ يَرٰى اَثَرَ النَّمْلِ فِي الصَّفَا
پاکیزہ ہے وہ خدا جو پتھر پر چیونٹیوں کے نشان قدم کو دیکھ لیتا ہے
سُبْحَانَ مَنْ يَرٰى وَقْعَ الطَّيْرِ فِي الْهَوَاۤءِ
جو فضا میں اُڑتے ہوئے طائروں کی پرواز کو دیکھتا ہے۔
سُبْحَانَ مَنْ هُوَ هٰكَذَا لَا هٰكَذَا غَيْرُهُ۔
وہ خدا وہ ہے جس کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے۔
سید بن طاؤسؒ نے فرمایا ہے کہ دوسری روایت میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اس نماز کے بعد تسبیح جناب فاطمہؑ پڑھے جو ہر نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد سو مرتبہ محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات پڑھے ۔
شیخؒ نے مصباح المتہجد میں فرمایا ہے کہ نماز جناب فاطمہؑ دو رکعت ہے۔ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ انا انزلناہ اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ قل ھو اللہ ، نماز کے بعد تسبیح جناب فاطمہؑ اور اس کے بعد یہ دعا جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔ بہتر ہے کہ جو شخص نماز کو ادا کرے وہ تسبیح سے فارغ ہونے کے بعد اپنے زانوؤں اور کہنیوں کو کھول کر زمین سے ملا دے اور اس کے بعد سجدے میں نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی حاجتوں کو طلب کرے اور سجدے ہی میں یہ دعا پڑھے۔
يَا مَنْ لَيْسَ غَيْرَهُ رَبٌّ يُدْعٰى
اے وہ پروردگار جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے کہ جس سے مانگا جائے،
يَا مَنْ لَيْسَ فَوْقَهُ اِلٰهٌ يُخْشٰى
اس سے بالاتر کوئی معبود نہیں ہے کہ جس سے ڈرا جائے۔
يَا مَنْ لَيْسَ دُوْنَهُ مَلِكٌ يُتَّقٰى
اس کے علاوہ کوئی بادشاہ نہیں ہے کہ جس کی ناراضگی سے بچا جائے۔
يَا مَنْ لَيْسَ لَهُ وَزِيْرٌ يُّؤْتٰى
اس کے لیے کوئی وزیر نہیں ہے جس کو وسیلہ بنایا جائے۔
يَا مَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجِبٌ يُرْشٰى
اس کے لیے کوئی دربان نہیں ہے جسے رشوت دی جائے۔
يَا مَنْ لَيْسَ لَهُ بَوَّابٌ يُغْشٰى
اس کے لیے کوئی پہرہ دار نہیں ہے جس کو وسیلہ بنایا جائے،
يَا مَنْ لَا يَزْدَادُ عَلٰى كَثْرَةِ السُّؤَالِ اِلَّا كَرَمًا وَ جُوْدًا
اے وہ خدا جو کثرت سوال پر جود و کرم ہی کرتا ہے
وَ عَلٰى كَثْرَةِ الذُّنُوْبِ اِلَّا عَفْوًا وَ صَفْحًا
اور کثرتِ گناہ پر عفو و مغفرت ہی سے کام لیتا ہے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔
محمدؐ وآل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور ہماری حاجتوں کو پورا فرمادے۔
اس کے بعد اپنی حاجتیں طلب کرے ۔
جناب فاطمہؑ کی دوسری نماز
شیخ طوسیؒ اور سید بن طاؤسؒ نے صفوان سے روایت کی ہے کہ محمد بن حلبی جمعہ کے دن امام صادقؑ کے خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایسا عمل تعلیم فرمائے جو بہترین عمل ہو آج کے دن کے لئے تو حضرت نے فرمایا کہ میں کسی شخص کو رسول اکرمؐ کی نگاہ میں جناب فاطمہؑ سے زیادہ عظیم نہیں سمجھا ہوں اور جو کچھ آپ نے انھیں تعلیم دی ہے اس سے بہتر کوئی عمل نہیں سمجھتا ہوں۔ لہٰذا جو شخص بھی جمعہ کے دن بہترین عمل کرنا چاہے اسے چاہئے کہ غسل کرے اور چار رکعت نماز دو سلام کے ساتھ ادا کرے۔ پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد پچاس مرتبہ قل ھو اللہ اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد کے بعد پچاس مرتبہ والعادیات ، تیسری رکعت میں سورۂ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ اذا ذلزلت الارض اور چوتھی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد پچاس مرتبہ اذا جاء نصراللہ پڑھے جو نازل ہونے والا آخر سورۂ ہے۔ اور پھر یہ دعا پڑھے۔
اِلٰهِيْ وَ سَيِّدِيْ
میرے پروردگار میرے مالک
مَنْ تَهَيَّاَ اَوْ تَعَبّٰى
اگر کسی نے اعمال کی
اَوْ اَعَدَّ اَوِ اسْتَعَدَّ
تیاری کی ہے اور اہتمام کیا ہے
لِوِفَادَةِ مَخْلُوْقٍ
کسی مخلوق کے دربار میں حاضری کا
رَجَاۤءَ رِفْدِهِ وَ فَوَاۤئِدِهِ
کہ اس کے عطایا، فوائد،
وَ نَاۤئِلِهِ وَ فَوَاضِلِهِ وَ جَوَاۤئِزِهِ
انعامات اور جائزوں کو حاصل کرسکے
فَاِلَيْكَ يَاۤ اِلٰهِيْ كَانَتْ تَهْيِئَتِيْ وَ تَعْبِئَتِيْ
تو میری ساری آمادگی اور تیاری، سارا انتظام و
وَ اِعْدَادِيْ وَ اسْتِعْدَادِيْ
استعداد تیری بارگاہ کے لیے ہے۔
رَجَاۤءَ فَوَاۤئِدِكَ وَ مَعْرُوْفِكَ
تیرے ہی فوائد اور تیری ہی نیکیوں
وَ نَاۤئِلِكَ وَ جَوَاۤئِزِكَ
اور تیرے ہی جائزے اور انعام
فَلَا تُخَيِّبْنِيْ مِنْ ذٰلِكَ
سے امید رکھتا ہوں اور ناامید نہیں
يَا مَنْ لَّا تَخِيْبُ عَلَيْهِ مَسْاَلَةُ السَّاۤئِلِ
ہوتا ہوں کہ
وَ لَا تَنْقُصُهُ عَطِيَّةُ نَاۤئِلٍ
تیرے عطایا میں کمی نہیں ہوتی ہے۔
فَاِنِّيْ لَمْ اٰتِكَ بِعَمَلٍ صَالِحٍ قَدَّمْتُهُ
اپنے کسی سابقہ عمل کے سہارے
وَ لَا شَفَاعَةِ مَخْلُوْقٍ رَجَوْتُهُ
یا کسی مخلوق کے بھروسہ تیرے پاس نہیں آیا ہوں۔
اَتَقَرَّبُ اِلَيْكَ بِشَفَاعَتِهِ
بس محمدؐ و آل محمدؐ کی سفارش
اِلَّا مُحَمَّدًا وَ اَهْلِ بَيْتِهِ
کے ذریعہ تجھ سے
صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ،
قربت چاہتا ہوں۔
اَتَيْتُكَ اَرْجُوْ عَظِيْمَ عَفْوِكَ
تیری عظیم معافی کا امیدوار ہوں
الَّذِيْ عُدْتَ بِهِ عَلَى الْخَطَّاۤئِيْنَ
جس سے تو نے گناہگاروں کو اس وقت معاف کیا ہے
عِنْدَ عُكُوْفِهِمْ عَلَى الْمَحَارِمِ
جب وہ مستقل گناہوں پر اڑے ہوئے تھے
فَلَمْ يَمْنَعْكَ طُوْلُ عُكُوْفِهِمْ عَلَى الْمَحَارِمِ
مگر ان کی یہ حرکت مانع نہیں ہوئی ہے کہ
اَنْ جُدْتَ عَلَيْهِمْ بِالْمَغْفِرَةِ
تو معاف نہ کرے۔
وَ اَنْتَ سَيِّدِي الْعَوَّادُ بِالنَّعْمَاۤءِ
تو ہمیشہ نعمتیں دینے والا ہے
وَ اَنَا الْعَوَّادُ بِالْخَطَاۤءِ
اور میں ہمیشہ غلطیاں کرنے والا ہوں۔
اَسْاَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ
خدایا محمدؐ اور ان کی آلِ اطہار کا واسطہ
اَنْ تَغْفِرَ لِيْ ذَنْبِيَ الْعَظِيْمَ
میرے عظیم گناہوں کو معاف کردے کہ
فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الْعَظِيْمَ اِلَّا الْعَظِيْمُ
تیری عظیم ذات کے علاوہ انھیں کوئی معاف نہیں کرسکتا ہے۔
يَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ
اے عظیم اے عظیم اے عظیم
يَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ
اے عظیم اے عظیم اے عظیم
يَا عَظِيْمُ۔
اے خدائے عظیم۔
مؤ لف: سید بن طاؤسؒ نے جمال الاسبوع میں ہر امام کی طرف سے کوئی نہ کوئی نماز اور دعا نقل کی ہے۔ مناسب ہے کہ اس کا اس مقام پر ذکر کر دیا جائے۔