EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
تعقیبات نمازصبح
(تعقیب نماز صبح بہ نقل مصباح متہجّد)
تعقیب نماز صبح بہ نقل مصباح متہجّد
خدایا محمؑد و آل محمؑد پر رحمت نازل فرما اور جہاں بھی حق کے بارے میں کوئی اختلاف ہے مجھے حق کی ہدایت عطا فرما کہ تو جس کو چاہے صراط مستقیم کی ہدایت دے سکتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اهْدِنِيْ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِكَ
اور جہاں بھی حق کے بارے میں کوئی اختلاف ہے مجھے حق کی ہدایت عطا فرما
اِنَّكَ تَهْدِيْ مَنْ تَشَاۤءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيْمٍ۔
کہ تو جس کو چاہے صراطِ مستقیم کی ہدایت دے سکتا ہے۔
(اس کے بعد دس مرتبہ کہے)
خدایا ہمیں اس راستہ پر زندہ رکھنا جو علیؑ ابن ابیطالبؑ کا راستہ ہے اور اسی پر موت دینا جو علی بن ابی طالب علیہ السلام کا راستہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما،
۟اِلْاَوْصِيَاۤءِ الرَّاضِيْنَ الْمَرْضِيِّيْنَ
وہ آل پیغمبر جو اوصیاء ہیں اور تجھ سے راضی ہیں اور تیرے پسندیدہ بھی ہیں
بِاَفْضَلِ صَلَوَاتِكَ
انھیں بہترین صلوات عطا فرما
وَ بَارِكْ عَلَيْهِمْ بِاَفْضَلِ بَرَكَاتِكَ
اور بہترین برکتوں سے سرفراز فرما،
وَ السَّلَامُ عَلَيْهِمْ
سلام ان پر ان کے
وَ عَلٰى اَرْوَاحِهِمْ وَ اَجْسَادِهِمْ
ارواح و اجسام پر،
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ ۔
اور اللہ کی تمام رحمتیں اور برکتیں ان کے لئے ہیں۔
میں خدا سے جنت کا سوال کرتا ہوں
(اور سو مرتبہ)
یہ صلوات جمعہ کے دن عصر کے وقت بھی بڑی فضیلت کے ساتھ وارد ہوئی ۔
میں خداسے حورعین کا سوال کرتا ہوں
اَللّٰهُمَّ اَحْيِنِيْ عَلٰى مَاۤ اَحْيَيْتَ عَلَيْهِ عَلِيَّ بْنَ اَبِي طَالِبٍ
خدایا ہمیں اس راستہ پر زندہ رکھنا جو علیؑ ابن ابیطالبؑ کا راستہ ہے
وَ اَمِتْنِيْ عَلٰى مَا مَاتَ عَلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ اَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ۔
اور اسی پر موت دینا جو علی بن ابی طالب علیہ السلام کا راستہ ہے۔
اس کے بعد سو مرتبہ کہے
(اور سو مرتبہ سورۂ توحیداور سو مرتبہ)
اَسْتَغْفِرُ اللهَ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِ
میں خدا کی بارگاہ میں استغفار اور توبہ کررہا ہوں
اَسْاَلُ اللهَ الْعَافِيَةَ
اور سو مرتبہ
پروردگار میں تجھ سے عافیت کا سوال کر رہا ہوں
اَسْتَجِيْرُ بِاللّٰهِ مِنَ النَّارِ
اور سو مرتبہ
میں جہنم سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں
وَ اَسْاَلُهُ الْجَنَّةَ
اور سو مرتبہ
میں خدا سے جنت کا سوال کرتا ہوں
اَسْاَلُ اللهَ الْحُوْرَ الْعِيْنَ۔
اور سو مرتبہ
میں خدا سے حورعین کا سوال کرتا ہوں
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ
اور سو مرتبہ
اس خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے جو بادشاہ برحق ہے
اور سو مرتبہ سورۂ توحیداور سو مرتبہ
خدایا میں نے اس محکم رشتے سے تمسک کرتے ہوئے صبح کی ہے جس سے محکم تر کوئی رشتہ نہیں ہے تا کہ میں ہر ظالم اور راہزن کے شر سے محفوظ رہوں چاہے وہ تیری جانداد مخلوق میں ہو یا بے جان مخلوق میں، صامت ہو یا ناطق کہ میں ہر خوفناک چیز سے پناہ میں رہوں اس لباس عافیت کے طفیل میں جو تیرے پیغمبر کے اہل بیتؑ کی محبت ہے اور اپنے کو محفوظ رکھوں ہر اس شخص سے جو میرے لئے کسی اذیت کا ارادہ کرےاور اس محکم سد سکندری کے ذریعہ جو حق اہل بیتؑ کے اعتراف میں اخلاص اور ان کی ہدایت سے تمسک کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اس یقین کے ساتھ کہ حق ان کے لئے ہے، ان کے ساتھ ہے اور انھیں میں ہے میں ان سب سے محبت کرتا ہوں جن کی ان سے محبت کریں اور ان سب سے الگ رہتا ہو جوان سے الگ ہو گئے ہیں۔ خدایا مجھے ان کے طفیل میں ہر اس شئے کہ شر محفوظ رکھنا جس سے میں بچنا چاہتا ہوں۔اے خدائے عظیم میں نے تمام دشمنوں کو روک دیا ہے اس مالک کے سہارے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے جس کا ارشاد ہے کہ ہم نے ان کے سامنے اور پشت سے ایک دیوار قائم کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دئیے ہیں کہ اب وہ ظالم کچھ دیکھ نہیں سکتے ہیں۔
صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
اور سو مرتبہ
پروردگار محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل کرے
سُبْحَانَ اللّٰهِ
اور سو مرتبہ
پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
اور حمد اسی کے لئے ہے۔
وَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
وَ اللهُ اَكْبَرُ
وہ سب سے بزرگ ہے۔
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔
اس خدائے علی و عظیم کے علاوہ کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔
مَا شَاۤءَ اللهُ كَانَ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔
اور سو مرتبہ
جو خدا نے چاہا وہ ہو گیا اس لئے کہ خدائے علی و عظیم کے علاوہ کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔
اس کے بعد
بنام خدا، اللہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل کرے میں اپنے معاملات کو خدا کے حوالے کر رہا ہوں کہ وہ اپنے بندوں کے حالات کو بہتر جانتا ہے۔ اللہ بندوں کو لوگوں کے مکر وشر کی برائی سے بچانے والا ہے۔ اے خدا تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ میں خود اپنے حق میں ظلم کرنے والا ہوں، ہم ہی نے بندے کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم اسی طرح مومنین کو نجات دیا کرتے ہیں، میرے لئے خدا کافی ہے اور وہی بہترین ذمہ دار، لوگ اس کے نعمت و فضل سے یوں منقلب ہوئے کہ ان تک کوئی برائی نہیں پہنچ سکی۔ جو اللہ نے چاہا وہ ہو گیا کہ اس کے علاوہ کوئی طاقت نہیں ہے۔اسی کا چاہا ہوتا ہے۔ لوگوں کا چاہا نہیں ہوتا ہے۔ جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے چاہے لوگوں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو، میرےلئے پالنے والا تمام مخلوقات کے مقابلہ میں اور خالق تمام مخلوقات کے مقابلہ میں اور رزق دینے والا بندوں کے مقابلہ میں کافی ہے۔ اور خدائے ربّ العالمین بہر حال کافی ہے، میرے لئے وہی کافی ہے جو کافی ہے۔ وہ ہمیشہ سے کافی ہے۔ جب سے میں وجود میں آیا ہمیشہ میرے لئے کافی رہا۔ وہی خدا خدائے کافی ہے، اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی صاحبِ عرش عظیم ہے۔
اَصْبَحْتُ اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِمًا بِذِمَامِكَ الْمَنِيْعِ
خدایا میں نے اس محکم رشتے سے تمسک کرتے ہوئے صبح کی ہے
الَّذِيْ لَا يُطَاوَلُ وَ لَا يُحَاوَلُ
جس سے محکم تر کوئی رشتہ نہیں ہے تا کہ میں
مِنْ شَرِّ كُلِّ غَاشِمٍ وَ طَارِقٍ
ہر ظالم اور راہزن کے شر سے محفوظ رہوں
مِنْ سَاۤئِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَ مَا خَلَقْتَ
چاہے وہ تیری جانداد مخلوق میں ہو یا
مِنْ خَلْقِكَ الصَّامِتِ وَ النَّاطِقِ
بے جان مخلوق میں، صامت ہو یا ناطق
فِي جُنَّةٍ مِنْ كُلِّ مَخُوْفٍ
کہ میں ہر خوفناک چیز سے پناہ میں رہوں
بِلِبَاسٍ سَابِغَةٍ
اس لباس عافیت کے طفیل میں
وَلَاۤءِ اَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ
جو تیرے پیغمبر کے اہل بیتؑ کی محبت ہے
مُحْتَجِبًا مِنْ كُلِّ قَاصِدٍ لِيْ اِلٰى اَذِيَّةٍ
اور اپنے کو محفوظ رکھوں ہر اس شخص سے جو میرے لئے کسی اذیت کا ارادہ کرے
بِجِدَارٍ حَصِيْنٍ
اور اس محکم سد سکندری کے ذریعہ
الْاِخْلَاصِ فِي الْاِعْتِرَافِ بِحَقِّهِمْ
جو حق اہل بیتؑ کے اعتراف میں اخلاص
وَ التَّمَسُّكِ بِحَبْلِهِمْ
اور ان کی ہدایت سے تمسک کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے
مُوْقِنًا اَنَّ الْحَقَّ لَهُمْ وَ مَعَهُمْ
اس یقین کے ساتھ کہ حق ان کے لئے ہے،
وَ فِيْهِمْ وَ بِهِمْ
ان کے ساتھ ہے اور انھیں میں ہے
اُوَالِيْ مَنْ وَالَوْا
میں ان سب سے محبت کرتا ہوں جو ان سے محبت کریں
وَ اُجَانِبُ مَنْ جَانَبُوْا
اور ان سب سے الگ رہتا ہو جوان سے الگ ہو گئے ہیں۔
فَاَعِذْنِي اَللّٰهُمَّ بِهِمْ
خدایا مجھے ان کے طفیل میں
مِنْ شَرِّ كُلِّ مَا اَتَّقِيْهِ يَا عَظِيْمُ
ہر اس شئے کہ شر محفوظ رکھنا جس سے میں بچنا چاہتا ہوں۔اے خدائے عظیم
حَجَزْتُ الْاَعَادِيَ عَنِّي بِبَدِيْعِ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
میں نے تمام دشمنوں کو روک دیا ہے اس مالک کے سہارے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے
اِنَّا جَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا
جس کا ارشاد ہے کہ ہم نے ان کے سامنے
وَ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا
اور پشت سے ایک دیوار قائم کردی ہے
فَاَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔
اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دئیے ہیں کہ اب وہ ظالم کچھ دیکھ نہیں سکتے ہیں۔
یہ دعا ہر صبح و شام پڑھی جاتی ہے اور یہی امیرالمومنینؑ کی شب ہجرت کی دعا ہے۔
کتاب تہذیب میں یہ روایت نقل کی گئی ہے جو شخص بھی نمازِ صبح کے بعد دس۱۰ مرتبہ کہے
سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ وَ بِحَمْدِهِ
پاک و منزہ ہے وہ خدائے بزرگ اور حمد اسی کے لئے ہے۔
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ
کوئی طاقت اور کوئی قوت اس خدائے علی و عظیم کے علاوہ نہیں ہے۔
پروردگار اس شخص کو نابینا، دیوانہ، مجذوم، فقیر ہونے اور اس پر گھر منہدم ہونے یا بڑھاپے میں بہکنے کی بلا سے محفوظ رکھے گا۔ اور شیخ کلینیؒ نے امام صادقؑ سے یہ روایت کی ہے کہ جو شخص بھی نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ کہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدائے رحمان و رحیم کے نام سے
لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ
اور کوئی قوت اور توانائی اس خدائے علی و عظیم کے علاوہ نہیں ہے۔
پروردگار اس سے ستّر قسم کی بلاؤں کو دور کردے گا جن میں سب سے کمتر ریاحی تکلیف برص اور دیوانگی ہے پھر اگر وہ شخص شقی ہو گا تو اس کا نام اشقیاء کی فہرست سے نکال کر نیک بختوںمیں لکھ دیا جائے گا۔ نیز اِ نھیں حضرت سے روایت ہے کہ دنیا و آخرت کی نیکی کے لئے اور آنکھوں کے درد کو دور کرنے کے لئے نماز صبح و مغرب کے بعد یہ دعا پڑھے ۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْكَ
خدایا میں تجھ سے محمدؐ و آل محمدؐ کےاس حق کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
جو تونے ان کے اوپر قرار دیا ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اجْعَلِ النُّوْرَ فِي بَصَرِيْ
اور ہماری آنکھوں میں نور،
وَ الْبَصِيْرَةَ فِي دِيْنِيْ
ہمارے دین میں بصیرت،
وَ الْيَقِيْنَ فِي قَلْبِيْ
ہمارے دل میں یقین،
وَ الْاِخْلَاصَ فِي عَمَلِيْ
ہمارے عمل میں اخلاص،
وَ السَّلَامَةَ فِي نَفْسِيْ
ہمارے نفس میں سلامتی،
وَ السَّعَةَ فِي رِزْقِي
ہمارے رزق میں وسعت دے
وَ الشُّكْرَ لَكَ اَبَدًا مَا اَبْقَيْتَنِيْ
اور ہمیں شکر کی توفیق عطا فرما کہ جب تک زندہ رہوں تیرا شکر ادا کر تا رہوں۔
ابن فہدؒ نے عدۃ الداعی میں امام رضاعلیہ السلام سے نقل کیا ہے جو شخص نماز صبح کے بعد اس دعا کو پڑھے ، کوئی حاجت ایسی نہ ہو گی جو آسان ہوجائے اور کوئی مشکل ایسی نہ ہو گی جو حل نہ ہو جائے ۔
بِسْمِ اللّٰهِ
بنام خدا،
وَ صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
اللہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل کرے
وَ اُفَوِّضُ اَمْرِيْ اِلَى اللّٰهِ
میں اپنے معاملات کو خدا کے حوالے کر رہا ہوں
اِنَّ اللهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
کہ وہ اپنے بندوں کے حالات کو بہتر جانتا ہے۔
فَوَقَاهُ اللهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوْا
اللہ بندوں کو لوگوں کے مکر وشر کی برائی سے بچانے والا ہے۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ
اے خدا تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
اِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ
میں خود اپنے حق میں ظلم کرنے والا ہوں،
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَ نَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ
ہم ہی نے بندے کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دے دی
وَ كَذٰلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِيْنَ
اور ہم اسی طرح مومنین کو نجات دیا کرتے ہیں،
حَسْبُنَا اللهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ
میرے لئے خدا کافی ہے اور وہی بہترین ذمہ دار،
فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ
لوگ اس کے نعمت و فضل سے یوں منقلب ہوئے کہ
لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوۤءٌ
ان تک کوئی برائی نہیں پہنچ سکی۔
مَا شَاۤءَ اللهُ
جو اللہ نے چاہا وہ ہو گیا کہ
لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ
اس کے علاوہ کوئی طاقت نہیں ہے۔
مَا شَاۤءَ اللهُ لَا مَا شَاۤءَ النَّاسُ،
اسی کا چاہا ہوتا ہے۔ لوگوں کا چاہا نہیں ہوتا ہے۔
مَا شَاۤءَ اللهُ وَ اِنْ كَرِهَ النَّاسُ
جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے چاہے لوگوں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو،
حَسْبِيَ الرَّبُّ مِنَ الْمَرْبُوْبِيْنَ
میرے لئے پالنے والا تمام مخلوقات کے مقابلہ میں
حَسْبِيَ الْخَالِقُ مِنَ الْمَخْلُوْقِيْنَ
اور خالق تمام مخلوقات کے مقابلہ میں
حَسْبِيَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوْقِيْنَ
اور رزق دینے والا بندوں کے مقابلہ میں کافی ہے۔
حَسْبِيَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ
اور خدائے ربّ العالمین بہر حال کافی ہے،
حَسْبِيْ مَنْ هُوَ حَسْبِيْ
میرے لئے وہی کافی ہے جو کافی ہے۔
حَسْبِيْ مَنْ لَمْ يَزَلْ حَسْبِيْ
وہ ہمیشہ سے کافی ہے۔
حَسْبِيْ مَنْ كَانَ مُذْ كُنْتُ لَمْ يَزَلْ حَسْبِيْ
جب سے میں وجود میں آیا ہمیشہ میرے لئے کافی رہا۔
حَسْبِيَ اللهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ
وہی خدا خدائے کافی ہے، اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ
اسی پر میرا بھروسہ ہے
وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔
اور وہی صاحبِ عرش عظیم ہے۔