EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
آداب سفر
جب آپ سفر کا ارادہ کریں تو بہتر یہ ہے کہ چہار شنبہ، پنجشنبہ اور جمعہ تین دن روزہ رکھیں اور سفر کے لئے روز شنبہ یا سہ شنبہ یا پنجشنبہ کا انتخاب کریں۔ پیر اور بدھ کے دن سفر کرنے سے پرہیز کریں اور جمعہ کے دن ظہر سے پہلے سفر نہ کریں اور ان دنوں میں بھی سفر نہ کریں جن کا ذکر شاعر نے اپنی نظم میں کیا ہے کہ ہر مہینے میں سات دن نحس ہوتے ہیں۔ ان سے ہوشیار رہنا چاہیئے تا کہ کوئی پریشانی نہ ہو۔۳؍۵؍۱۳؍۱۶؍۲۱؍۲۴؍اور ۲۵۔ اس کے علاوہ تحت الشعاع میں اور قمر در عقرب میں سفر نہ کریں البتہ ان اوقات میں سفر کی کوئی ضرورت پیش آجائے تو سفر کی دعائیں پڑھ لیں اور صدقہ دیدیں۔ اس کے بعد جب چاہیں سفر کرسکتے ہیں۔
روایت میں ہے کہ امام باقرؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے سفر کا ارادہ کیا اور حضرت کی خدمت میں رخصت ہونے کے لئے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میرے پدربزرگوار امام سجادؑ جب باہر نکلنے کا ارادہ کرتے تھے تو اپنی سلامتی کو خود پروردگار سے خریدتے تھے ہر اس قیمت پر جو آسان ترین ہوتی تھی۔ یعنی بقدر امکان صدقہ دیا کرتے تھے اور اس وقت ہوتاتھا جب آپ کے پیر رکاب میں ہوتےتھے۔ اس کے بعد جب سفر سے سلامتی کے ساتھ واپس آجاتے تھے تو شکر خدا ادا کرتے تھے اور پھر بقدر امکان صدقہ نکالتے تھے۔وہ شخص سفر میں چلا گیا مگر امام کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ راستے ہی میں ہلاک ہو گیا۔ جب امامؑ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اے کاش یہ شخص ان نصیحتوں پر عمل کر لیتا جو اسے کی گئی تھیں۔ اس کےبعد بہتر ہے کہ سفر میں جانے سے پہلے غسل کریں گھر والوں کو جمع کر کے دو رکعت نماز ادا کریں اور پروردگار سے طلب خیر کریں۔ اس کے بعد آیۃ الکرسی پڑھیں اور حمد وثنائے الٰہی بجالائیں اور رسولؐ اور آلِ رسولؐ پر صلوات پڑھیں اور یہ کہیں۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَسْتَوْدِعُكَ الْيَوْمَ نَفْسِيْ
وَ اَهْلِيْ وَ مَالِيْ وَ وُلْدِيْ
وَ مَنْ كَانَ مِنِّيْ بِسَبِيْلٍ
اِلشَّاهِدَ مِنْهُمْ وَ الْغَاۤئِبَ
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنَا بِحِفْظِ الْاِيْمَانِ وَ احْفَظْ عَلَيْنَا
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ
وَ لَا تَسْلُبْنَا فَضْلَكَ
اِنَّاۤ اِلَيْكَ رَاغِبُوْنَ
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاۤءِ السَّفَرِ
وَ كَابَةِ الْمُنْقَلَبِ
وَ سُوْۤءِ الْمَنْظَرِ فِيْ الْاَهْلِ وَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ
فِيْ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ هٰذَا التَّوَجُّهَ
طَلَبًا لِمَرْضَاتِكَ وَ تَقَرُّبًا اِلَيْكَ
فَبَلِّغْنِيْ مَاۤ اُؤَمِّلُهُ وَ اَرْجُوْهُ
فِيْكَ وَ فِيْۤ اَوْلِيَاۤئِكَ
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اس کے بعد گھر والوں کو رخصت کر کے دروازہ پر آکر کھڑا ہواور تسبیح جناب فاطمہؑ پڑھے اور سورۂ حمد پڑھے سامنے داہنے اور بائیں اور اسی طرح تینوں طرف رخ کر کے آیۃالکرسی پڑھے اور یہ کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِلَيْكَ وَجَّهْتُ وَجْهِيْ
وَ عَلَيْكَ خَلَّفْتُ اَهْلِيْ وَ مَالِيْ وَ مَا خَوَّلْتَنِيْ
وَ قَدْ وَثِقْتُ بِكَ فَلَا تُخَيِّبْنِيْ
يَا مَنْ لَا يُخَيِّبُ مَنْ اَرَادَهُ
وَ لَا يُضَيِّعُ مَنْ حَفِظَهُ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
وَ احْفَظْنِيْ فِيْمَا غِبْتُ عَنْهُ
وَ لَا تَكِلْنِيْۤ اِلٰى نَفْسِيْ
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اس کے بعد گیارہ مرتبہ سورۂ قل ھواللہ پڑھے اور سورۂ انّا انزلناہُ اور آیۃالکرسی اور سورۂ ناس اور سورۂ فلق کی تلاوت کرے اور اپنے ہاتھوں کو سارے جسم پر ملے اور بقدرِ امکان صدقہ دے اور پھر کہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اشْتَرَيْتُ بِهٰذِهِ الصَّدَقَةِ سَلَامَتِيْ
وَ سَلَامَةَ سَفَرِيْ وَ مَا مَعِيَ
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِيْ وَ احْفَظْ مَا مَعِيَ
وَ سَلِّمْنِيْ وَ سَلِّمْ مَا مَعِيَ
وَ بَلِّغْنِيْ وَ بَلِّغْ مَا مَعِيَ
بِبَلَاغِكَ الْحَسَنِ الْجَمِيْلِ۔
اس کے علاوہ اپنے ساتھ بادام تلخ کی لکڑی کا عصا بھی رکھیں کہ روایت میں ہے کہ جو شخص بادام تلخ کی لکڑی لے کر نکلے گا اور قرآن مجید کی یہ آیت
سے
تک پڑھے گا جو سورۂ قصص میں ہے۔ پروردگار اس کو ہر طرح کے درندے سے اور ہر ظلم کرنے والے ڈاکو کو ہر زہریلے جانور سے اسوقت تک محفوظ رکھے گا جب تک اپنے گھر واپس نہ آجائے گا اور اس کے ساتھ ستّر۷۰؍ ملک رہیں گے جو اس کے حق میں اسوقت تک استغفار کرتے رہیں گے جب تک وہ پلٹ کر اس عصا کو رکھ نہ دے۔ اور یہ بھی مستحب ہے کہ جب گھر سےنکلے تو عمامہ پہن کر نکلے اور اس کا ایک سرا اپنی گردن کے نیچے لٹکا دے تا کہ کسی چور یا جلنے ڈوبنے کے خوف سے محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ تھوڑی سی خاکِ تربتِ امام حسینؑ بھی ساتھ رکھیں اور اس کو ساتھ رکھتے وقت یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰهُمَّ هٰذِهِ طِيْنَةُ قَبْرِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
وَلِيِّكَ وَ ابْنِ وَلِيِّكَ
اِتَّخَذْتُهَا حِرْزًا لِمَا اَخَافُ وَ مَا لَاۤ اَخَافُ
اس کے علاوہ اپنے ساتھ عقیق، فیروزہ، خصوصاً عقیق زرد کی انگوٹھی رکھیں جس پر ایک طرف
مَا شَاۤءَ اللهُ
لَا قُوَّة َاِلَّا بِاللهِ‏
اَسْتَغْفِرُ اللهَ۔
نقش ہو اور دوسری طرف لکھا ہو۔
مُحَمَّدٌ وَ عَلِىٌّ