EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
حکایت حاجی علی بغدادی
حاجی علی بغدادی کی امام زمانہ عجل اللہ سے ملاقات
مؤلّف: اس مقام پر مناسب ہے کہ مرد مومن صالح متقی حاجی علی بغدادی کی حکایت کو نقل کر دیا جائے جس کو ہمارے استاد نے جنت الماویٰ اور نجم الثاقب میں نقل کیا ہے اور نجم الثاقب میں فرمایا ہے کہ اگر اس کتاب میں صرف یہی ایک معتبر حکایت ہوتی جو ابھی زمانۂ حال ہی میں واقع ہوئی ہے تو اس کی شرافت و نفاست کے لئے کافی تھی۔ اس کے بعد چند مقامات کے بعد بیان کیا ہے کہ حاجی علی بغدادی سے نقل کیا گیا ہے کہ میرے ذمہ اسّی ۸۰ تومان مال امام جمع ہو گئے تھے تو میں نے نجف اشرف جا کر بیس تومان جناب علم الہدیٰ والتّقیٰ شیخ مرتضیٰؒ کو اور بیس تومان جناب شیخ محمد حسینؒ مجتہد کاظمینی کو اور بیس تومان شیخ محمد حسن شروقی کو دے دیئے اور باقی بیس تومان میرے پاس رہ گئے جس کے بارے میں خیال تھا کہ واپس آکر شیخ محمد حسین کاظمینی آل یٰسٓ کو پیش کر دوں گا۔ میں بغداد پلٹ کر آیا تو میں نے چاہا کہ فوراً اس قرض کوادا کر دیا جائے پنجشنبہ کے دن میں حضرات کاظمین علیہما السلام کی زیارت سے مشرف ہوا اور اس کے بعد جناب شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بقیہ بیس تومان میں سے کچھ حاضر کر دیا اور باقی کے لئے وعدہ کر لیا کہ جنس کی فروخت کر کے ادا کر دوں گا۔ اس کے بعد عصر کے وقت بغداد واپسی کا ارادہ تھا کہ جناب شیخ نے فرمایا کہ وہاں ٹھہر جاؤں۔میں نے عذر کیا کہ مجھے کارخانے کے مزدوروں کو مزدوری دینا ہے کہ ہمارے یہاں کی رسم یہ تھی کہ ہفتہ بھر کی مزدوری پنجشنبہ کی شام کو دی جاتی تھی چنانچہ میں پلٹ کر آیا لیکن تقریباً ایک تہائی راستہ طے ہو گیا تو میں نے ایک سید جلیل کو بغداد کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا۔ قریب آکر انھوں نے سلام کیا اور اپنے ہاتھوں کو مصافحہ ومعانقہ کے لئے بڑھایا اور فرمایا اَہلاً و سہلاً۔ مجھے سینہ سے لگا کر معانقہ کیا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا۔ وہ سبز عمامہ باندھے ہوئے تھے اور رخسار مبارک پر ایک سیّاہ تِل تھا۔پھر انھوں نے ٹھہر کر فرمایا کہ حاجی علی خیریت ہے، کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا کہ حضرات کاظمینؑ کی زیارت کر کے بغداد واپس جا رہا ہوں۔ فرمایا کہ آج شبِ جمعہ ہے پلٹ چلو۔ میں نے کہا کہ میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ فرمایا کہ پلٹ چلو تا کہ میں گواہی دوں کہ تم میرے جد امیرالمومنینؑ اور میرے دوستوں میں ہو اور شیخ بھی شہادت دیں کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ گواہ قرار دو۔ یہ اشارہ تھا اس مطلب کی طرف جو میرے دل میں تھاکہ میں جناب شیخؒ سے گذارش کروں گا کہ مجھے ایک تحریر لکھ دیں کہ میں اہلبیتؑ کے چاہنے والوں میں ہوں تا کہ میں اس کو کفن میں رکھوں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو کیا خبر؟ اور آپ کیسے گواہی دیں گے۔ فرمایا کہ جس کا حق اس تک پہنچا دیا جائے وہ کیسے پہنچانے والے کو نہ پہچانے گا۔ میں نے عرض کی کہ کیسا حق؟ فرمایا وہی جو تم نے میرے وکیل کو دیا ہے___میں نے کہا آپ کا وکیل کون ہے؟ فرمایا شیخ محمد حسن۔ میں نے کہا وہ آپ کے وکیل ہیں؟ فرمایا ہاں وہ میرے وکیل ہیں اور انھوں نے سید محمد سے کہا تھا کہ میرے دل میں یہ خیال ہوا کہ اس ثقہ جلیل نے میرے نام سے بلایا ہے حالانکہ میں اسے نہیں جانتا ہوں مگر پھر بھی یہ خیال کہ شاید یہ مجھے پہچانتا ہے اور میں بھول گیا ہوں۔ پھر میں نے اپنےدل میں سوچا کہ شاید یہ سید سہم سادات میں کچھ چاہتا ہے اور میں چاہتا تھا کہ مالِ امام میں سے اس کو دے دوں۔ میں نے کہا کہ اے سید میرے پاس آپ کا کچھ حق باقی رہ گیا تھا۔ میں نے اس مسئلہ میں جناب شیخ محمد حسن کی طرف رجوع کیا تاکہ آپ کے حق کو یعنی سادات کے حق کو ان کی اجازت سے ادا کر دوں۔ وہ سید مسکرائے اور فرمایا ہاں تم نے میرا بعض حق میرے بعض وکلاء کی طرف نجف پہنچا دیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے دے دیا تو کیا قبول ہو گیا؟ فرمایا بیشک۔ میرے دل میں آیا کہ یہ سید علماء اعلام کو اپنا وکیل کہتا ہے۔ یہ بات مجھے بہت بڑی معلوم ہوئی تو مجھے خیال ہوا کہ علماء حقِ سادات وصول کرنے میں ان کے وکیل ہیں اس لئے ذہن سے بات نکل گئی۔ انھوں نے فرمایا کہ چلو میرے جد کی زیارت پڑھو۔ میں پلٹا اور ان کا داہناہاتھ میرے بائیں ہاتھ میں تھا۔ جب راستہ میں چلے دیکھا کہ داہنی طرف ایک صاف وشفاف نہر جاری ہے اور لیموں، سنترے اور انار و انگور وغیرہ کے درخت ہمارے سروں پر سایہ فگن تھے جن پر پھل لدے ہوئے تھے جب کہ ان میں سے کسی چیز کی فصل نہیں تھی۔ میں نے پوچھا یہ سب کیا ہیں؟ فرمایا کہ جو شخص بھی ہمارے اجداد کی زیارت کرے گا اس کے لئے یہ سب رہتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا پوچھو۔ میں نے کہا کہ شیخ عبدالرزاق مرحوم جو ایک مرد مدرس تھے۔ ایک دن میں ان کے پاس گیا۔ دیکھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی شخص دنوں میں روزہ رکھے، راتوں کو عبادت کرے، چالیس حج اور چالیس عمرے بجالائے، صفا ومروہ کے درمیان مر جائے اور امیرالمومنینؑ کے دوستوں میں نہ ہو اس کو کوئی فائدہ نہیں۔ فرمایا واللہ سچ کہا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے رشتہ داروں میں ایک شخص کے بارے میں پوچھا۔ کیا وہ امیرالمومنینؑ کے دوستوں میں ہے۔ فرمایا بیشک وہ اور جو بھی تم سے تعلق رکھتا ہے۔ میں نے کہا حضور میرے لئے ایک مسئلہ ہے۔ فرمایا پوچھو۔ کہا کہ مجلس میں پڑھنے والے یہ بیان کرتے ہیں کہ سلیمان اعمش ایک شخص کے پاس گئے اور زیارت امام حسینؑ کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ بدعت ہے۔ اس کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک ہودجمحمل زمین و آسمان کے درمیان ہے۔ پوچھا کہ اس محمل میں کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جناب فاطمہؐ زہرا اور خدیجۃ الکبریٰؑ ۔ کہتے ہیں کہ یہ کہاں جا رہے ہیں؟ بتایا کہ زیارت امام حسینؑ کے لئے آج شبِ جمعہ ہے۔ اس کے بعد دیکھا کہ اس محمل سے کچھ رقعے گر رہے ہیں جن میں لکھا ہے کہ
کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ فرمایا یقیناً ۔ میں نے عرض کیا حضور کیا یہ صحیح ہے کہ جو شبِ جمعہ زیارت امام حسینؑ کرے اس کے واسطہ امان ہے؟ فرمایا بیشک اور یہ کہہ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ میں نے عرض کیا کہ ایک مسئلہ اور ہے فرمایا پوچھو۔ میں نے کہا ۱۲۶۹؁ھ میں امام رضاؑ کی زیارت کی اور وہاں عربوں میں سے ایک صحرائی عرب کو دیکھا اور اس کی ضیافت کی اور اس سے پوچھا کہ امام رضاؑ کی ضیافت کیسی ہے؟ تو اس نے کہا کہ آج پندرہواں دن ہے جب سے میں نےاپنے مولا کا مال کھایاہے منکر نکیر میری قبرمیں میرے پاسٍ آئیں اور میرا گوشت حضرت کے کھانے سے روئیدہ ہو کیا یہ صحیح ہے کہ امام رضاؑ آتے ہیں اور منکر نکیر سے انسان کو بچا لیتے ہیں؟ فرمایا بیشک میرے جد سامنے ہیں۔میں نے عرض کی چھوٹا سا مسئلہ اور ہے۔ فرمایا پوچھو۔ میں نے کہا کہ میری زیارت امام رضاؑ مقبول ہے؟ فرمایا انشاءاللہ قبول ہے۔ میں نے کہا حضور ایک مسئلہ اور ہے فرمایا بتاؤ؟ میں نے کہا کہ میں نے حاجی محمد حسین بزاز باشی بن مرحوم حاجی احمد بزار باشی کیا ان کی زیارت قبول ہے جو میرے ساتھ راہ مشہد میں تھے۔ بندۂ صالح نے فرمایا ہاں ان کی زیارت قبول ہے۔ میں نے عرض کیا ایک مسئلہ اور ہے۔ فرمایا بسم اللہ۔ میں نے کہا فلاں شخص جو بغداد کا رہنے والا ہے اور وہ ہمارے ساتھ تھا کیا اس کی زیارت بھی قبول ہے؟ حضرت خاموش ہو گئے۔ میں نے عرض کیا مسئلہ ہے۔ فرمایا بسم اللہ۔ میں نے کہا کہ آپ نے کچھ سنایا نہیں سنا، اس کی زیارت قبول ہے یا نہیں؟ آپ نے پھر جواب نہیں دیا۔ حاجی مذکور نے نقل کیا ہے، یہ چند افراد بغداد کے سرمایہ دار تھے جو سفر میں مسلسل لہوو لعب میں مشغول تھے اور وہ شخس بھی انھیں میں شامل ہو گیا تھا۔ پھر ہم چلتے ہوئے ایک جگہ پرپہنچے جہاں تمام طرف باغات تھے اور کاظمین سامنے تھا اور وہ جگہ جو سڑک سے متصل ہے باغات سے داہنی طرف، بغداد سے راستہ آتا ہے اور وہ باغ بعض سادات کا تھا جس کو حکومت نے شہر میں داخل کر لیا اور اس شہر کے اہلِ تقویٰ اس راستہ سے گذرنے سے پرہیز کرتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ جناب اسی راستہ سے جا رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا سید یہ مال بعض یتیم سادات کا تھا، اس میں تصرف جائز نہیں ہے۔ فرمایا یہ جگہ ہمارے جد امیرالمومنینؑ اور ان کی اولاد کے لئے ہے جو ان کے دوستوں کے لئے حلال ہے۔ اس جگہ داہنی طرف ایک باغ تھا جو اس شخص کی ملکیت تھا جس کو مرزا حاجی کہتے تھے اور وہ عجم کے مشہور دولت مندوں میں تھا جو بغداد میں ساکن تھا۔ میں نے کہا حضور کیا صحیح ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ مرزا حاجی کے باغ کی زمین ملکیت حضرت موسیٰؑ بن جعفرؑ ہے۔ فرمایا تمہیں اس سے کیا تعلق ہے اور آپ نے جواب نہیں دیا۔ جب ہم نہر دجلہ کے پاس پہنچےجو اس علاقہ کی سینچائی کے واسطہ بنی تھی اور راستے سے گذرتی ہے یہاں سے دو راستے ہو جاتے تھے، ایک راہِ سلطان، ایک راہِ سادات۔ حضرت نے چاہا راہِ سادات سے جائیں۔ میں نے کہا کہ آیئے اس راہِ سلطان سے چلیں۔ فرمایا نہیں ہم اپنے راستہ سے جائیں گے۔ چند قدم نہیں بڑھے تھے کہ ہم نے اپنے کو صحن مقدس میں کفشداری کے پاس دیکھا اور کوئی کوچہ وبازار نظر نہیں آیا۔ ہم داخل ہوئے باب المراد کی طرف سے جو پائینِ پا ہے اور رواق مطہر میں نہیں ٹھہرے اور اذن دخول بھی نہیں پڑھا بلکہ اندر داخل ہو گئے اور حرم کے درازہ پر کھڑے ہو کر فرمایا۔ یہ زیارت پڑھو۔ میں نے کہا۔ میں پڑھنا نہیں جانتا۔ میں تمہارے لئے پڑھ رہا ہوں اور یہ کہہ کر شروع کیا
اور اسی طرح ہر اماؑم کو سلام کرتے رہے۔ امام عسکرؑی کے سلام کے بعد فرمایا۔ حاجی علی اپنےامامِ زمانہ کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہابالکل۔ کہا پھر سلام کرو۔ میں نے کہا
آپ مسکرائے فرمایا
پھر ہم حرم میں داخل ہوئے۔ ضریح کو بوسہ دیا۔ فرمایا کہ زیارت پڑھو۔ میں نے کہا پڑھنا نہیں جانتا۔ فرمایا میں تمہارے لئے پڑھوں۔ فرمایا بیشک۔ فرمایا کون سی زیارت پڑھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کی جو زیارت بہتر ہو۔ فرمایا زیارت امین اللہ افضل ہے۔ پھر اس کے بعد آپ نے زیارت پڑھی۔
اسی درمیان حرم کے چراغ روشن ہوئے۔ میں نے دیکھا شمعیں جل رہی ہیں لیکن حرم میں دوسرا نور مثل نورِ آفتاب دکھائی دیتا ہے جس کے آگے ساری شمعیں ماند پڑ گئیں لیکن مجھ پر اس وقت ایسی غفلت طاری تھی کہ میں ان اہم باتوں کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوا۔ زیارت سے فارغ ہونے کے بعد پائینِ پا سے پشتِ سر آئے اور مشرق کی طرف کھڑے ہو گئے۔ فرمایا کہ زیارتِ امام حسینؑ پڑھوں۔ میں نے کہا بیشک شب جمعہ ہے۔ آپ نے زیارت وارثہ پڑھی۔ اتنے میں مؤذن نے اذان مغرب ختم کی فرمایا کہ نماز جماعت پڑھو۔ مسجد میں پشت سرِ حرم مطہر جہاں جماعت ہو رہی تھی فوراً گئے اور کھڑے ہو گئے امام جماعت کے داہنی طرف اس کے برابر میں اور صفوں میں داخل ہو گیا۔ جب نماز ختم ہوئی تو میں نےپھر ان کو نہ دیکھا۔ اس کے بعد میں باہر آیا۔ حرم میں بہت تلاش کیا اور چاہا کہ ملاقات کروں اور کچھ پیسے دے د وں اور رات کو اپنے پاس مہمان رکھوں۔ اس کے بعد سمجھ میں آیا کہ وہ سید کون تھے اور پھر گذشتہ آیات و معجزات کے بارے میں سوچنے لگا کہ انھوں نے مجھے میرے نام سے پکارا تھا حالانکہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا اور انھوں نے کہاتھا کہ میرے دوستوں میں ہیں۔ میں نے کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں۔ پھر نہر دیکھی ، درخت دیکھے غیر موسم کےمیوے دیکھے جس سے مجھے یقین ہو گیاکہ وہ حضرت مہدی علیہ السلام تھے۔ خاص طور سے جب اذنِ دخول میں انھوں نے امام عسکریؑ کے بعد امام زمانؑہ کے امام کی معرفت کے بارے میں سوال کیا اور مجھ سے فرمایاکہ تم سوال کرو اور میرے سلام پر تبسم فرما کر جواب بھی دیا تو میں دوڑ کرکفشداری میں آیا اور ان کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ باہر گئے۔ کیا یہ سید ےتمہارے دوست تھے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پس ہم مہمان دار کے گھر آئے اوررات وہاں گذاری۔ جب صبح ہوئی توجناب شیخ محمد حسن کے پاس گئے اور اس واقعہ کو بیان کیا تو انھوں نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ خبردار اس راز کو ظاہر نہ کرنا اور اس قصہ کو بیان نہ کرنا۔ پروردگار عالم نےتمہیں توفیق دی ہے۔ چنانچہ میں نے کسی سے اظہارنہیں کیا یہاں تک کہ ایک مہینہ گذر گیا۔ ایک دن میں حرم مطہرمیں تھا کہ میں نے ایک سید شریف کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور فرمایا تم نے کیا دیکھا اور اس قصہ کی طرف اشارہ کیا۔میں نے کہا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ پھر انھوں نے اس لفظ کی تکرار کی۔ میں نے انکار کیا تو وہ میری نظروں سے غائب ہو گئے۔ میں نے پھر ان کو نہیں دیکھا۔