مسجد براثا بغداد کی تاریخ
کلام حموی در مسجد براثا
واضح رہے کہ براثا بغداد کی تعمیر سے پہلے ایک قریہ تھا جس کے بارے میں لوگوں کاخیال یہ ہے کہ امیرالمومنینؑ وہاں سے اس وقت گذرے تھے جب آپ خوارج سے مقابلہ کے لئے جا رہے تھے اور آپ نے یہاں نماز پڑھی تھی اور اس حمام میں بھی داخل ہوئے تھےجو اس قریہ میں تھا اور اس براثا کی طرف ابوشعیب براثی عابد کی نسبت ہے جوپہلے آدمی تھے جو براثا میں داخل ہوئے اور ایک معمولی سے نَے کے مکان میں مقیم ہوئے اور وہیں عبادت خدا کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے جھونپڑے کے پاس سے بڑے لوگوں کی ایک لڑکی کا گذر ہواجو محلوں میں پلی ہوئی تھی۔ جیسے ہی اس کی نظرابوشعیب پر پڑی اور ان کے حال کو دیکھا اسے یہ حالت پسند آئی اور ابو شعیب کی جذّابیت نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا یہاں تک کہ وہ اس مرد عابد وزاہد کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں چاہتی ہوں کہ میں آپ کی خادم بن کر رہوں۔ انھوں نے کہا کہ مجھےمنظورہے بشرطیکہ اس ہیٔت اور اس لباس کو الگ کر دو۔ اس نے قبول کر لیااور جو کچھ تھا سب کو ترک کر دیا اور عابدوں کالباس پہن کر واپس آئی تو ابوشعیب نے اس سے عقد کر لیا۔ جیسے ہی وہ عورت اس جھونپڑے میں داخل ہوئی اس نے دیکھا کہ ابو شعیب نے زمین کی رطوبت سے بچنے کے لئے ایک چٹائی کا ٹکڑا بچھا لیا ہے۔ اس نے کہا میں یہاں یہیں رہ سکتی ہوں جب تک کہ اس چٹائی کے ٹکڑے کو دور نہ پھینک دیا جائے۔ اس لئے کہ میں نےآپ ہی سے سنا ہے کہ زمین فریاد کرتی ہے کہ فرزندآدمؑ تو نے میرے اور اپنے درمیان آج حجاب پردہقائم کرلیاہے جب کہ کل میرے ہی شکم میں آنا ہے۔ ابو شعیب نے اس چٹائی کو دور پھینک دیا اور وہ لڑکی چند سال تک ان کے پاس رہی اور دونوں نے بہترین انداز سے عبادت کی یہاں تک کہ دونوں کا انتقال ہو گیا
فضیلت مسجد براثا
مؤلّف: ہم نے کتاب ہدایۃ الزائرین میں بہت سی روایتیں اس مسجد شریف کی فضیلت سے متعلق نقل کی ہیں اور یہ بیان کیا ہے کہ ان تمام روایات سے اس مسجد کے چند فضائل کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی کسی مسجد میں پائی جائے تو لوگوں کو وہاں جانا چاہیئے تا کہ وہاں دعا اور نماز کے فیض کو حاصل کر سکیں اور وہ فضائل یہ ہیں:
۱پروردگارِ عالم کا یہ فیصلہ کہ اس سر زمین پر کوئی رئیس اپنے لشکر کے ساتھ سوائے پیغمبر اور وصی پیغمبر کے نہیں آ سکتا۔
۲یہ حضرت مریم کا مکان ہے۔
۳یہ حضرت عیسیٰؑ کی سرزمین ہے۔
۴یہاں جناب مریم کے لئے چشمہ جاری ہوا تھا
۵یہاں حضرت امیرؑ نے باعجاز چشمہ جاری کیا تھا۔
۶یہاں ایک سفید بابرکت پتھر ہے جس پر جناب مریم نے جناب عیسیٰؑ کو رکھا تھا۔
۷آنحضرت نے اس پتھر کو برآمد کر کے قبلہ کی طرف نصب کر دیا تھا اور اسی کی طرف نماز ادا کی تھی۔
۸امیرالمومنینؑ اور آپ کے دونوں فرزند امام حسن مجتبیٰؑ اور امام حسینؑ نے اس جگہ نماز ادا کی تھی۔
۹حضرت نے یہاں چار روز توقف فرمایا تھا کہ یہ زمین مقدس ہے۔
۱۰یہاں بہت سے پیغمبروں نےبالخصوص جناب ابراہیمؑ نے نماز پڑھی ہے۔
۱۱یہاں ایک پیغمبر کی قبر ہے اور شاید وہ حضرت یوشعؑ ہوں کہ ان کے بارے میں ہمارے استاد شیخ نوریؒ نے فرمایا ہے کہ ان کی قنر کاظمین کے باہر مسجد براثا کی طرف ہے۔
۱۲اسی مقام پر امیرالمومنینؑ کے لئے آفتاب پلٹا تھا____مگر افسوس کے ان تمام فضائل ومناقب اور معجزات کے باوجود نہیں معلوم کہ ہزاروں زائرین میں سے کوئی ایک شخص بھی اس طرف جاتا ہو جب کہ وہ راستہ ہی میں ہےاور بار بار ادھر سے گزرتے ہیں اور اگر کوئی شخص جا کر دیکھتا ہے کہ دروازہ بند ہے اور کو کھلوانے کے لئے پیسہ دینا پڑے گا تو چند پیسے خرچ نہیں کرتا ہے اور ان عظیم فیوض وبرکات سے محروم رہ جاتا ہے۔ حالانکہ کبھی کبھی بغداد کی عمارتوں کو دیکھنے کے لئے یا ظالموں کی عمارتوں کو دیکھنے کے لئے بے شمار پیسے خرچ کر دیتا ہے بلکہ منحوس یہودیوں کی صنعتوں کا خریدنا زیارت کے لوازمات میں تصور کرتا ہے۔