EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
زیارتِ جناب حذیفہ یمانیؒ
۲زیارت جناب حذیفہؑ یمانی جو بزرگانِ اصحابِ رسولؐ اور خواص امیرالمومنینؑ میں تھے اور ان کی خصوصیت یہ تھی کہ منافقین کے نام جانتے تھے اور اگر کسی کی نماز جنازہ میں حاضر نہیں ہوتے تھے تو خلیفہ دوم اس کی نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ کئی سال تک مدائن میں والی رہے۔ اس کے بعد انھیں معزول کر دیا گیا اور سلمانؑ کو وہاں کا والی بنا دیا گیا۔ جب سلمان کا انتقال ہو گیا تو حذیفہؑ دوبارہ والی بنائے گئے اور امیرالمومنینؑ کے دور خلافت تک وہیں رہے۔ اس کے بعد حضرت نے مدینہ سے اہلِ مدائن کے لئے فرمان بھیجا جس میں اپنی خلافت اور حذیفہ ؑکے وہاں والی رہنے کی اطلاع دی۔ لیکن جب حضرت مدینہ سے اصحابِ جمل کے شر کو رفع کرنے کے لئے بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو ابھی کوفہ تک نہ پہنچے تھے کہ حذیفہؑ کا انتقال ہو گیا اور وہ وہیں مدائن میں دفن ہو گئے۔ ابو حمزہ ثمالیؒ سے روایت ہے کہ جب حذیفہ کا وقتِ موت آیا تو اپنے فرزند کو بلا کر چند نصیحتیں فرمائیں کہ ان پر عمل کرنا۔ فرمایا دیکھو جو کچھ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس سے مایوس ہو جاؤ کہ اس میں مالداری اور بے نیازی ہے اور خبردار لوگوں سے حاجت طلب نہ کرنا کہ یہ کھُلی ہوئی فقیری ہے اور ہمیشہ ایسی زندگی گذارو کہ آج کا دن کل سے بہتر ہو اورجب بھی نماز پڑھو اسے آخری نماز سمجھ کر ادا کرو اور کبھی ایسا کام نہ کرو جس کی معافی مانگنا پڑے۔
واضح رہے کہ جناب سلماؑن کے حرم کے پہلو میں ایک مسجد جامع ہے جو امام حسن عسکریؑ کی طرف منسوب ہے۔ یا حضرت نے اسے تعمیر کرایا ہے یا اس میں نماز ادا کی ہے لہٰذا کسی کو اس مسجد میں نماز تحیت سے محروم نہیں رہنا چاہیئے۔