EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
امام رضا ع کا خراسان کی طرف سفر کرتے ہوئے قم آنا
۳محوّل سجستانی سے روایت ہے کہ جب مامون نے امام رضاؑ کومدینے سے خراسان طلب کیا تو آپ قبر پیغمبرؐ کو وداع کرنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے اور مسلسل قبر مطہر کو رخصت کرتے رہے۔ کبھی باہر نکل آتے کبھی واپس چلے جاتےاور ہر مرتبہ آ پ کے رونے کی آواز بلند ہو جاتی۔ میں نے قریب جا کر سلام عرض کیا آپ نے جواب سلام دیا۔ میں نے سفر کی مبارکباد دی۔ فرمایا مجھے دیکھ لو کہ اب میں اپنے جد کے جوار سے جدا ہو رہا ہوں اور اسی غربت میں میرا انتقال ہو جائے گااور میں ہارون کے پہلو میں دفن کیا جاؤں گا۔ شیخ یوسف بن حاتم شامی نے الدّارالنظیم میں فرمایا ہے کہ اصحاب امام رضاؑ کی ایک جماعت نے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جب میں مدینہ سے خراسان آنے لگا تو میں نے اپنے عیال کو جمع کر کے ی حکم دیا کہ مجھ پر گریہ کریں تا کہ میں ان کی آوازِ گریہ سُن لوں اور اس کے بعد میں نے اپنے عیال کو جمع کر کے یہ حکم دیا کہ مجھ پر گریہ کریں تا کہ میں ان کی آوازِگریہ سُن لوں اور اس کے بعد میں نےان کے درمیان بارہ ہزار دینار تقسیم کئے اور میں نے کہا کہ میں سفر سے واپس نہیں آؤں گا۔ اس کے بعد میں ابو جعفر جوادؑ کو لے کر مسجد پیغمبرؐ میں گیا اور ان کے ہاتھ کو قبر اطہر پر رکھ کر اور قبر سے لپٹا کر چاہا کہ انھیں پیغمبرؐ کی حفاظت میں دے دوں۔ اور میں نے اپنے تمام وکیلوں اور خادموں کو حکم دے دیاکہ ان کی بات کو سنیں اور ان کی اطاعت کریں اور خبردار مخالفت نہ کریں کہ یہ میرے قائم مقام ہیں ۔ سید عبدالکریم بن طاؤسؒ نے روایت کی ہے کہ جس زمانہ میں مامون نے حضرت کو مدینہ سے خراسان طلب کیا حضرت مدینہ سے بصرہ کی طرف چلے اور کوفہ نہیں گئے اور بصرہ سے کوفہ کے راستہ بغداد کی طرف گئے اور وہاں سے قم پہنچ گئے۔ اہلِ قم نے آپ کا استقبال کیا اور آپس میں اختلاف کیا کہ آپ کو مہمان بنائے گا۔ سب کی خواہش تھی کہ حضرت اسی کے گھر پر وارد ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ میرا اونٹ مامور ہے جہاں بیٹھ جائے گا میں وہیں ٹھہر جاؤں گا۔ چنانچہ آپ کا اونٹ ایک دروازہ پر آکر بیٹھ گیا جس کے صاحب خانہ نے رات کوخواب میں دیکھا تھا کہ امام رضاؑ کل مہمان ہونے والے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جگہ عظمت کی مالک ہو گئی اور آج کل وہاں مدرسہ بنا ہوا ہے۔ شیخ صدوقؒ نے اپنی سند سے اسحاق بن راہویہ سے نقل کیا ہے کہ امام رضاؑ نیشاپور آئے اور چاہا کہ وہاں سے حرکت کریں تو آپ کی خدمت میں اصحابِ حدیث جمع ہوئے اور انھوں نے گذارش کی کہ فرزند رسولؐ آپ یہاں سے جارہے ہیں لہٰذا ہمارے لئے ایک حدیث ارشاد فرمائیں جس سے ہم استفادہ کریں۔ حضرت عماری میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے سر باہر نکالا اور فرمایا کہ میں نے اپنے پدربزرگوار موسیٰؑ بن جعفرؑ سے اور انھوں نے پدربزرگوار جعفرؑ بن محمدؑ سے اور انھوں نے اپنے پدربزرگوار محمدؑ بن علیؑ سے اور انھوں نے اپنے پدربزرگوار علیؑ بن حسینؑ سے انھوں نے اپنے والد حسینؑ بن علیؑ سے اور انھوں نے اپنے والد امیرالمومنینؑ علیؑ بن ابی طالبؑ سے اور انھوں نے رسولؐ اکرم سے اور آپ نے جبرئیل امین سے سنا ہے خداوند عالم نے فرمایا ہے۔
امام رضاؑ کے قبہ مطہرہ کی تحریر
اس جدید عمارت میں مرزا محمد رضا صدالکتاب، علی رضا عباسی اور محمد رضا امامی کے ہاتھوں سے کتبے لکھے گئے اور شاہ عباس ہی نے قطبہ مطہرہ پر سونا چڑھایا جیسا کہ قبہ مطہرہ کی تحریر میں ظاہر کیا گیا ہے۔
‘‘بنام خدائے رحمان و رحیم عظیم توفیقات پروردگار میں یہ ہے کہ اس نے سلطان اعظم، مولائے ملوک عرب و عجم، صاحبِ نسب طاہر نبوی حسب علوی، خاکِ قدمِ خدام عتبۂ مطہرۂ لاہوتی او رغبار نعل زوار روضۂ منور ملکوتی روح آثار اجدادِ معصومین سلطان بن سلطان ابولمظفر شاہ عباسی حسینی موسوی صفوی بہادر خان کو یہ سعادت عطا کی کہ وہ پیدل دارالسلطنت اصفہان سے حرم مبارک کی زیارت کے لئے حاضر ہوا اور یہ شرف حاصل کیا کہ قبۂ مطہرہ کو اپنے خالص مال سے ۱۰۱۰؁ میں مزین بنائے جس کا سلسلہ ۱۰۱۶؁ میں تمام ہوا۔’’
حدیث سلسلۃ الذھب
لا الہٰ الا اللہ میرا قلعہ ہے۔ جو اس میں داخل ہو گیا میرے عذاب سے محفوظ ہو گیا۔
لا الہٰ الا اللہ میرا قلعہ ہے۔ جو اس میں داخل ہو گیا میرے عذاب سے محفوظ ہو گیا۔
مگر اس کی شرطیں ہیں اور میں ان شرطوں میں سے ایک ہوں۔
ابو الصلت کہتے ہیں کہ امام رضاؑ‘‘دہ سرخ’’میں پہنچے تو جس وقت مامون کے یہاں جارہے تھےلوگوں نے عرض کی کہ فرزند رسولؐ! ظہر کا وقت ہو گیا ہے کیا نماز نہیں پڑھیں گے؟ آپ ٹھہر گئے اور آپ نے پانی طلب کیا۔ لوگوں نے کہا کپ پانی تو نہیں ہے۔ آپ نے دسستِ مبارک سے زمین کوکھودا اور وہاں سے ایک چشمہ جاری ہو گیا جس سے سب نے وضو کیا اور اس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔ اس کے بعد جب سنا باد میں داخل ہوئے تو ایک پہاڑ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے جسے لوگ تراش کر دیگ وغیرہ بناتے تھے۔ فرمایا خداوند عالم اس پہاڑ کو منعفت بخش بنا دے اور جو کچھ اس کے برتن میں رکھا جائے اسے بابرکت بنا دے۔ پھر حکم دیا کہ اسی پہاڑ سے آپ کے لئے دیگیں تیار کی جائیں اور آپ کا کھانا اسی دیگ میں پکایا جائے۔ جس کے بعد لوگ دیگ تراشتے رہے اور برکت حاصل کرتے رہے۔