امام رضا ع کی مدح میں جامی کے اشعار
مؤلّف کا کہنا ہے کہ ہر زمانے میں اس روضۂ مقدسہ سے کرامات کا ظہور ہوا ہے کہ اب اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہم نے باب دوم میں اعمالِ شب ۲۷؍ رجب میں بعض چیزوں کی طرف اشارہ بھی کر دیا ہے جو اس جگہ کے لئے مناسب ہیں لیکن اب طول کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا اس مقام پر بیان کو ختم کر رہا ہوں اور جامی کے چند اشعار کو حضرت کی شان میں نقل کر رہاہوں۔
‘‘سلام ہو آل طٰہٰ و یٰسٓ پر٭٭٭سلام ہو آل خیبر النبیین پر
سلام ہو اس روضہ پر جہاں وہ امام نازل ہوا ہے٭٭جس پر سلطنت اور دین دونوں ناز کرتے ہیں’’
وہ امام برحق شاہِ مطلق٭٭٭جس کی بارگاہ قبلہ گاہ سلاطین ہے
وہ کاخ عرفان کا بادشاہ اور شاخ احسان کو پھول٭اور صندوق امکان کا گوہر اور برج تمکین کا چاند ہے
علی بن موسیٰ رضاؑ کہ جن کا لقب رضا ہوا٭٭٭اس لئے کہ رضا ہی ان کا آئین تھا-------------فضل و شرف میں وہ ایک عالم ہیں ٭٭٭اگر تمہاری آنکھیں اندھی نہ ہوں-------حوارانِ جنت اپنے کو معطر کرنے کے لئے ان کے غبارِ در٭کو اپنے گیسوئے مشکین میں لگاتی ہیں--------اگر چاہتے ہو کہ ان کا دامن ہاتھ میں آ جائے٭٭٭تو جا کر ہر چیز سے اپنا دامن چھڑا لو’’-----اسی زمانہ میں حرم امام رضاؑ میں کافی وسعت ہو چکی ہے اور مسلسل تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سال لاکھوں زائرین زیارت کا شرف حاصل کر کے آج بھی کرامات رضویہ کا یہ مشاہدہ کرتے ہیں۔مترجم