دو۲ ؍اماموں کی قبرِ مبارک
واضح رہے کہ یہ دونوں بزرگ اپنے ہی گھر میں دفن ہوئے ہیں اور اس میں ایک دروازہ تھا جس کو اپنے چاہنے والوں کے لئے کھول دیا کرتے تھے اور وہ لوگ قبر کے پاس جا کر زیارت کرتے تھے اور کبھی بند کر دیتے تھے تو جالی کے پاس قبر کے سامنے کھڑے ہوکر زیارت کرتے تھے۔ اس ورایت کے آغاز میں یہ ہے کہ غسل کرے اور قبر کے پاس پہنچ جائے اگر ممکن ہو اور اگر نہیں تو قبر کے سامنے جالی کے پاس کھڑے ہو کر اشارہ کرکے سلام کرے اور اسی طرح زائر نماز زیارت کو بھی مسجد میں پڑھے۔ اس کے بعد جب چاہنے والوں کی ہمت سے وہ گھر ختم کردیا گیا اور اس جگہ پر قبۂ و حرم اور رواق وایوان بن گیا تو وہ مسجد حرم میں داخل ہوگئی اور آج معرو ف یہ ہےکہ ایوانِ مستطیل جو صحنِ پشت سرِ امامؑ ہے وہ متصل ہے اسی مسجد کے رواق سے۔ بہرحال زوار اس اعتبار سے مطمئن ہو گئے۔