اَلسَّلَامُ عَلٰىۤ اُمَنَاۤءِ اللّٰهِ وَ اَحِبَّاۤئِهِ
اَلسَّلَامُ عَلٰىۤ اَنْصَارِ اللّٰهِ وَ خُلَفَاۤئِهِ
اَلسَّلَامُ عَلٰى مَحَآلِّ مَعْرِفَةِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلٰى مَسَاكِنِ ذِكْرِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلٰى مُظْهِرِيۤ اَمْرِ اللّٰهِ وَ نَهْيِهِ
اَلسَّلَامُ عَلَى الدُّعَاةِ اِلَى اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُسْتَقِرِّيْنَ فِيْ مَرْضَاةِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَى الْمُخْلِصِيْنَ فِي طَاعَةِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَدِلَاۤءِ عَلَى اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَى الَّذِيْنَ مَنْ وَالَاهُمْ فَقَدْ وَالَى اللّٰهَ
وَ مَنْ عَادَاهُمْ فَقَدْ عَادَى اللّٰهَ،
وَ مَنْ عَرَفَهُمْ فَقَدْ عَرَفَ اللّٰهَ
وَ مَنْ جَهِلَهُمْ فَقَدْ جَهِلَ اللّٰهَ
وَ مَنِ اعْتَصَمَ بِهِمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاللّٰهِ
وَ مَنْ تَخَلَّى مِنْهُمْ فَقَدْ تَخَلَّى مِنَ اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ
وَ اُشْهِدُ اللّٰهَ اَنِّيْ سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ
وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ
مُؤْمِنٌ بِسِرِّكُمْ وَ عَلَانِيَتِكُمْ
مُفَوِّضٌ فِيْ ذٰلِكَ كُلِّهِ اِلَيْكُمْ
لَعَنَ اللّٰهُ عَدُوَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ
وَ اَبْرَاُ اِلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ۔
یہ زیارت الکافی‘ تہذیب اور کامل الزیارات میںبھی نقل ہوئی ہے۔ ان کتابوں میں یہ بھی تحریر ہے کہ یہ زیارت ہر امام عکے روضہ پاک کی زیارت کے وقت پڑھی جا سکتی ہے یہ زیارت پڑھنے کے بعد محمدص و آل محمدص پر بہت زیادہ درود و سلام بھیجے اور معصومینع میں سے ہر ایک کا نام بھی لے اور انکے دشمنوں سے اظہار بیزاری کرے اور اپنے لیے اور دیگر مومنین و مومنات کیلئے دعائیں مانگے۔
مؤلف کہتے ہیں اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے آخری جملے بھی روایت ہی کا جز ہیں اور اگر یہ محدثین کااپنا قول ہو تو بھی بات یہی رہے گی کہ جب ان مشائخ عظام نے اسے ہر امامع کی زیارت کیلئے کافی شمار کیا ہے ہمارے لیے ان بزرگان کا فرمان بھی لائق اعتماد ہے۔ علاوہ ازیں ان علما کرام نے اس زیارت کو زیارت جامعہ کے باب میں شامل کیا ہے اور پھر زیارت میں ایسے اوصاف کا ذکرکیا ہے جو کسی ایک معصوم عکے ساتھ مختص نہیں لہذا اس زیارت کو زیارت جامعہ تصور کرنا اور اسے تمام انبیا و اوصیا کے مشاہد مقدسہ میں پڑھنا بہت ہی مناسب و موزوں ہے ۔ جیسا کہ بعض علمائ نے اسے حضرت یونسع کے روضہ پر پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے۔ نیز اس زیارت کے آخر میں ہر معصوم پر صلوٰۃ کا خاص حکم وارد ہوا ہے اگر وہ صلوٰت پڑھی جائے جو ابوالحسن ضراب اصفہانی کی طرف منسوب ہے جو روز جمعہ کے اعمال کے آخر میں نقل ہوچکی ہے تو بہت بہتر ہے۔