EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
زیارت قبور مومنین
زیارت قبور مومنین رضی اللہ عنہم الاجمعین شیخ ثقہ جلیل جعفر بن قولویہؒ قمی نے عمرو بن عثمان رازی سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت امام موسیٰؑ بن جعفرؑ سے سنا کہ اگر کوئی شخص ہماری زیارت نہ کر سکے تو ہمارے دوستوں میں نیک کردار لوگوں کی زیارت کرے تا کہ اس کو ہماری زیارت کا ثواب مل جائے اور اگر کوئی ہمارے ساتھ نیکی نہ کر سکے تو ہمارے نیک کردار دوستوں کے ساتھ نیکی کرے تا کہ اس کے لئے ہمارے ساتھ نیکی کرنے کا ثواب لکھا جاسکے۔ علاوہ اس کے بسند صحیح روایت کی گئی ہے کہ حضرت محمد بن احمد بن یحییٰ اشعری سے کہ میں منزل فید جو مکہ کے راستہ میں ہے علی بن بلال کے ساتھ روانہ ہوا اورحضرت محمد بن اسماعیل بن یزیع کی قبر کی طرف سے گذرا تو علی بن بلال نے مجھ سے کہا کہ اس صاحب قبر نے مجھ سے روایت کی ہے کہ امام رضاؑ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی برادر مومن کی قبر کے پاس آکر قبر پر ہاتھ رکھے اور سات مرتبہ سورۂ انا انزلناہ پڑھے تو وہ روز قیامت کے ہول سے محفوظ رہے گا اور ایک دوسری روایت کا بھی تقریباً یہی مضمون ہے بس یہ کہ اس میں رو بقبلہ ہونے کا بھی ذکر ہے۔ مؤلّف۔ روز قیامت کےہول سے محفوظ رہنے کاذکر جو روایت میں ہے ممکن ہے یہ زیارت پڑھنے والے کے لئے ہو اور احتمال ہے کہ صاحب قبر کے لئے ہو جیسا کہ اس روایت سے تائید ہوتی ہے جو اس کے بعد سید ب طاؤسؒ سے نقل کی گئی ہے اور کامل الزیارات میں سند معتبر سے منقول ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ نے امام صادقؑ سے عرض کیاکہ میں کس طرح اپنے ہاتھوں کو قبورمسلمین پر رکھوں تو حضرت نے اپنے ہاتھوں سے زمین کی طرف اشارہ کیااور زمین پر ہاتھ رکھا جب کہ آپ رو بقبلہ تھے۔ علاوہ اس کے سند صحیح کے ساتھ مروی ہےکہ عبداللہ بن سنان نے امام صادقؑ سےعرض کیا کہ اہل قبور کو کس طرح سلام کیا جائے تو آپ نےفرمایا کہ
اَلسَّلَامُ عَلٰىۤ اَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُسْلِمِيْنَ
اَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ
وَ نَحْنُ اِنْ شَاۤءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُوْنَ۔
امام حسینؑ سے روایت ہے کہ جو شخص قبرستان میں داخل ہو یوں کہے۔پروردگاراسے آدمؑ سے لے کر قیامت تک کے تمام مخلوقات کے برابر ثواب عنایت فرمائے گا۔
اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الْاَرْوَاحِ الْفَانِيَةِ
وَ الْاَجْسَادِ الْبَالِيَةِ
وَ الْعِظَامِ النَّخِرَةِ
الَّتِيْ خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْيَا وَ هِيَ بِكَ مُؤْمِنَةٌ
اَدْخِلْ عَلَيْهِمْ رُوْحًا مِنْكَ وَ سَلَامًا مِنِّيْ
امیرالمومنینؑ سے نقل کیا گیا ہےکہ جو شخص قبرستان میں داخل ہو یوں کہے
اَلسَّلَامُ عَلٰىۤ اَهْلِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
مِنْ اَهْلِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
يَا اَهْلَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
بِحَقِّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
كَيْفَ وَجَدْتُمْ قَوْلَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
مِنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
يَا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
بِحَقِّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اِغْفِرْ لِمَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
وَ احْشُرْنَا فِيْ زُمْرَةِ مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ
عَلِيٌّ وَلِيُّ اللّٰهِ۔
پروردگار عالم ان کلمات کے عوض پچاس سال کی عبادت کا ثواب لکھ دے گا اور پچاس سال کے اس کے اور اس کے والدین کے گناہوں کو محو کر دے گا۔ دوسری روایت میں واردہوا ہے کہ قبرستان میں کہی جانے والی سب سے بہترین بات یہ ہےکہ انسان وہاں سے گذرتے ہوئے ٹھہرے اور یہ کہے
اَللّٰهُمَّ وَلِّهِمْ مَا تَوَلَّوْا
وَ احْشُرْهُمْ مَعَ مَنْ اَحَبُّوْا۔
سید بن طاؤسؒ نے مصباح الزائر میں فرمایا ہے کہ جب زیارت مومنین کا قصد کرے تو مناسب ہے کہ پنجشنبہ کے دن جائے رونہ جس وقت بھی جائے زیارت کی کیفیت یوں ہو گی کہ رو بقبلہ ہوکر اپنے ہاتھ کو قبر پررکھے اوریوں کہے۔
اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ غُرْبَتَهُ
وَ صِلْ وَحْدَتَهُ
وَ اٰنِسْ وَحْشَتَهُ
وَ اٰمِنْ رَوْعَتَهُ
وَ اَسْكِنْ اِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِكَ
رَحْمَةً يَسْتَغْنِيْ بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ
وَ اَلْحِقْهُ بِمَنْ كَانَ يَتَوَلَّاهُ
اس کے بعد سات مرتبہ سورۂ انا انزلناہ پڑھے۔ اس کے علاوہ زیارت اموات اور اس کے ثواب کے بارے میں دوسری حدیث فضیل سے نقل کی گئی ہے کہ جو شخص بھی سورۂ انا انزلناہ سات مرتبہ قبر مومن کے نزدیک پڑھے گا پروردگار اس کی قبر کی طرف سورۂ انا انزلناہ سات مرتبہ قبر مومن کے نزدیک پڑھے گا پروردگار اس کی قبر کی طرف ایک فرشتہ کو بھیجے گا جو مالک کی عبادت کرتا رہے اور اس کا ثواب اس مرنے والے کے لئے لکھتا رہے اور جب قبر سے برآمد ہو تو قیامت کے ہولناک منازل میں سے کسی منزل سے نہ گذرے مگر یہ کہ پروردگار اس ہول کو برطرف کر دے اور جنت میں داخل کر دے۔ اور سات مرتبہ انا انزلناہ کے ساتھ سورۂ حمد، سورۂ قل اعوذ برب الناس، قل اعوذ برب الفلق، قل ہو اللہ احد اور آیۃ الکرسی کو تین تین مرتبہ پڑھے اس کے علاوہ زیارت اموات کے بارےمیں ایک روایت محمد بن مسلم سے ہے کہ میں نے امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا مردوں کی زیارت کی جائے تو فرمایاکہ بےشک میں نے کہا کیا وہ ہماری اس زیارات سے باخبر ہوں گے؟ فرمایا یقیناً۔ قسم بخدا وہ لوگ جانتے بھی ہیں اور خوش بھی ہوتے ہیں اور مانوس بھی ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ان کی زیارت کے وقت کیا کہا جائے؟ فرمایایوں کہو۔
اَللّٰهُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جُنُوْبِهِمْ
وَ صَاعِدْ اِلَيْكَ اَرْوَاحَهُمْ
وَ لَقِّهِمْ مِنْكَ رِضْوَانًا
وَ اَسْكِنْ اِلَيْهِمْ مِنْ رَحْمَتِكَ
مَا تَصِلُ بِهِ وَحْدَتَهُمْ
وَ تُوْنِسُ بِهِ وَحْشَتَهُمْ
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيْرٌ۔