امام ہادی علیہ السلام کے غلام صافی کی خبر اور انکا سفرِ مشہد
سید ابن طاؤسؒ نے امان الاخطار میں ابو محمد قاسم بن علا کے حوالہ سے روایت کی ہے امام علی نقیؑ کے خادم صحابی سے کہ میں نے حضرت سے اجازت چاہی کہ میں ان کے جد امام رضاؑ کی زیارت کے لئے جاؤں تو آپ نے فرمایا کہ اپنے ساتھ عقیق زرد کی انگشتری رکھو جس پر ‘‘مَا شَاۤءَ اللهُ لَا قُوَّة َاِلَّا بِاللهِ اَسْتَغْفِرُ اللهَ۔’’اور دوسری طرف محمدؑ و علیؑ لکھا ہو کہ اگر ایسی انگشتری تم اپنے ساتھ رکھو گےتو راستوں میں چوروں ڈاکؤوں کے شر سے محفوظ رہو گے اور تم تمھارا دین دونوں محفوظ رہیں گے۔
خادم کا بیان ہے کہ میں باہر آیااور میں نے انگشتری فراہم کی اور واپس آکر حضرت سے رخصت ہونا چاہا تو آپ نے رخصت کرنے کے بعد پھر واپس پلٹایا اور جب میں پلٹ کر گیا تو فرمایا۔ اے صافی! میں نے عرض کی لبیک یا سیدی! فرمایا کہ فیروزے کی انگوٹھی بھی اپنے ساتھ رکھو کہ طوس اور نیشاپور کے درمیان ایک شیر نظر آئے گا جو تمھیں اور قافلہ کو آگے بڑھنے سے روکے گا تو تم آگے بڑھ کر وہ انگشتری شیر کو دکھلا دینااور کہنا کہ میرے مولا نے حکم دیا ہے کہ تو راستے سے ہٹ جا اور اس فیروزے کی انگوٹھی پر ایک طرف
لکھو اور دوسری طرف
اَلْمُلْكُ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
لکھو اور دوسری طرف
تھا۔ اس کے بعد جب آپ ظاہری خلافت تک پہنچے تو آپ نے لکھا
اس انگوٹھی کا نگینہ فیروزہ کا تھا اور یہ نگینہ انسان کو تمام جانوروں اور درندوں سے محفوظ رکھتا ہے اور باعثِ غلبہ وظفر ہوتا ہے۔ صحابی کا بیان ہے کہ میں سفر میں چلا گیا اور خدا گواہ ہے کہ جس جگہ کے بارے میں حضرت نے فرمایا تھا وہیں شیر سرِ راہ مل گیا اور میں نے آپ کے فرمان کے مطابق عمل کیا اور شیر واپس چلا گیا۔ پھر جب پلٹ کر آیا تو میں نے حضرت سے پوری داستان بیان کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک بات تم نے نہیں بتائی اگر کہو تو میں بتاؤں۔ میں نے عرض کی شاید میں بھول گیا ہوں۔ فرمایا کہ ایک رات طوس میں قبر مبارک کے پاس تم رات کو آرام کر رہے تھے کہ جنات کا ایک گروہ حضرت کی زیارت کے لئے آیا ہوا تھا۔ان لوگوں نےجب نگینہ کو تمھارے ہاتھ میں دیکھا اور اس نقش کو پڑھا تو تمھارے سے لے لیا اور ایک بیمار کے پاس لے گئے اور اس انگوٹھی کو پانی میں دھو کر ایک بیمار کو بلا کر پلا دیا جس کی بنا پر بیمار کو صحت حاصل ہو گئی اور پھر ان لوگوں نے انگشتری کو واپس دے دیا اور تم اسے داہنے ہاتھ میں پہنے ہوئے تھے، ان لوگوں نے تمہارے بائیں ہاتھ میں پہنا دیا۔تمھیں اس بات سے بے حد تعجب ہواا ور تمھیں اس کا رازمعلوم نہ ہو سکا۔صبح تمھیں اپنے سر سے کے پاس ایک یاقوت دکھائی دیا جس کو تم نے اٹھالیا اور ابھی بھی وہ تمہارے پاس ہے۔ جاؤ بازار میں اس کو اسّی اشرفی میں فروخت کر دو۔ یہ یاقوت تمہارے پاس انھیں جنوں کا دیا ہوا ہدیہ ہے۔ خادم کابیان ہے کہ میں یاقوت لے کر بازار گیا اور اسّی اشرفی میں اسے فروخت کر دیا جیسا کہ نے فرمایا تھا۔ اور امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص سفر میں ہر رات آیۃالکرسی پڑھے تو وہ اس کا سارا سامان محفوظ رہے گا۔
اس انگوٹھی کا نگینہ فیروزہ کا تھا اور یہ نگینہ انسان کو تمام جانوروں اور درندوں سے محفوظ رکھتا ہے اور باعثِ غلبہ وظفر ہوتا ہے۔ صحابی کا بیان ہے کہ میں سفر میں چلا گیا اور خدا گواہ ہے کہ جس جگہ کے بارے میں حضرت نے فرمایا تھا وہیں شیر سرِ راہ مل گیا اور میں نے آپ کے فرمان کے مطابق عمل کیا اور شیر واپس چلا گیا۔ پھر جب پلٹ کر آیا تو میں نے حضرت سے پوری داستان بیان کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک بات تم نے نہیں بتائی اگر کہو تو میں بتاؤں۔ میں نے عرض کی شاید میں بھول گیا ہوں۔ فرمایا کہ ایک رات طوس میں قبر مبارک کے پاس تم رات کو آرام کر رہے تھے کہ جنات کا ایک گروہ حضرت کی زیارت کے لئے آیا ہوا تھا۔ان لوگوں نےجب نگینہ کو تمھارے ہاتھ میں دیکھا اور اس نقش کو پڑھا تو تمھارے سے لے لیا اور ایک بیمار کے پاس لے گئے اور اس انگوٹھی کو پانی میں دھو کر ایک بیمار کو بلا کر پلا دیا جس کی بنا پر بیمار کو صحت حاصل ہو گئی اور پھر ان لوگوں نے انگشتری کو واپس دے دیا اور تم اسے داہنے ہاتھ میں پہنے ہوئے تھے، ان لوگوں نے تمہارے بائیں ہاتھ میں پہنا دیا۔تمھیں اس بات سے بے حد تعجب ہواا ور تمھیں اس کا رازمعلوم نہ ہو سکا۔صبح تمھیں اپنے سر سے کے پاس ایک یاقوت دکھائی دیا جس کو تم نے اٹھالیا اور ابھی بھی وہ تمہارے پاس ہے۔ جاؤ بازار میں اس کو اسّی اشرفی میں فروخت کر دو۔ یہ یاقوت تمہارے پاس انھیں جنوں کا دیا ہوا ہدیہ ہے۔ خادم کابیان ہے کہ میں یاقوت لے کر بازار گیا اور اسّی اشرفی میں اسے فروخت کر دیا جیسا کہ نے فرمایا تھا۔ اور امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص سفر میں ہر رات آیۃالکرسی پڑھے تو وہ اس کا سارا سامان محفوظ رہے گا۔
سفر کےموقع پر یہ بھی کہنا چاہیئے :۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَسِيْرِيْ عِبَرًا
وَ صَمْتِيْ تَفَكُّرًا
وَ كَلَامِيْ ذِكْرًا
امام زین العابدینؑ سے روایت ہے کہ میں اگر ان کلمات کو اپنی زبان پر جاری کر لوں تو سارے جن و انس مل کر بھی مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ
وَ مِنَ اللّٰهِ وَ اِلَى اللّٰهِ
وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
اَللّٰهُمَّ اِلَيْكَ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ
وَ اِلَيْكَ وَجَّهْتُ وَجْهِيْ
وَ اِلَيْكَ فَوَّضْتُ اَمْرِيْ
فَاحْفَظْنِيْ بِحِفْظِ الْاِيْمَانِ
مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَ مِنْ خَلْفِيْ
وَ عَنْ يَمِيْنِيْ وَ عَنْ شِمَالِيْ
وَ مِنْ فَوْقِيْ وَ مِنْ تَحْتِيْ
وَ ادْفَعْ عَنِّيْ بِحَوْلِكَ وَ قُوَّتِكَ
فَاِنَّهُ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔