ہارون کے زمانے میں قبر امام علی ع کی قبر کا ظاہر ہونا
مؤلّف: معتبر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروردگار نے قبر امیرالمومنینؑ اور قبور اولادِ امیرالمومنینؑ کو خوفزدہ لوگوں کی پناہ گاہ، مضطر افراد کا سہارا اور روئے زمین کے لئے امان قرار دیا ہے کہ جو غمزدہ وہاں پہنچ جائے اس کا غم زائل ہو جاتا ہے اور جو درد کا مارا اپنے کو اس جگہ مس کر دے اسے شفا حاصل ہو جاتی ہے اور جو وہاں پناہ لے گا اسے امان مل جاتی ہے۔
سید عبدالکریم بن طاؤسؒ نے محمد بن علی شعبانی سے روایت کی ہے کہ میرے والد اور میرے چچا خاموشی سے رات میں زیارت امیرالمومنینؑ کے لئے ۲۶۰ھ میں گئے۔ اس وقت میں بچہ تھا مگر جب ہم لوگ آنحضرتؐ کی قبر کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ قبر کے چاروں طرف سیاہ پتھر لگے ہوئے ہیں اور وہاں کوئی تعمیر نہیں ہے۔ قریب جانے کے بعد ہم میں سے کسی نے قرآن پڑھنا شروع کیا، کوئی مشغول نماز ہو گیا اور کوئی زیارت پڑھنے لگا۔ اس حال میں ہم نے دیکھا کہ ایک شیر ہماری طرف آ رہا ہے۔ جب وہ ایک نیزہ کے فاصلہ تک آگیا تو ہم اس جگہ سے دور ہو گئے تو وہ شیر قبر مطہر کے پاس گیا اور اپنے کو قبر سے مس کرنا شروع کر دیا۔ ہم میں سے ایک شخص قریب گیا اور اس نے اس منظر کو دیکھا مگر شیر اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا اور واپس چلا گیا۔ اس نے آکر ہم کو ان حالات کی خبر دی جس کی بنا پر ہمارا خوف دور ہو گیا اور ہم سب قریب ہو گئے اور ہم نے اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کے ہاتھوں میں زخم ہے اور وہ اس زخمی ہاتھ کو آپ کی قبر سے مس کر رہا ہے۔ ایک ساعت تک یہی صورتِ حال برقرار رہی اس کے بعد وہ چلا گیا اور ہم پھر نماز و زیارت اور قرأتِ قرآن میں مشغول ہو گئے۔ شیخ مفیدؒ نے نقل کیا ہے کہ ایک روز ہارون رشید شکار کے ارادہ سے کوفہ سے باہر گیا اور غرّبین اور ثوید کی طرف رخ کیا تو وہاں کچھ ہرن نظر آئے۔ اس نے حکم دیا کہ باز اور شکاری کتوں کو چھوڑ دیا جائے اور ان ہرنوں کا شکار کیا جائے۔ ان لوگوں نے یہی کیا اور جب ہرنوں نے اس حملہ کو دیکھا تو فرار کیا اور ایک بلندی پر جا کر پناہ لے لی اور وہاں آرام کرنے لگے اور باز بھی ایک جگہ پر جا کر ٹھہر گئے۔ شکاری کتے بھی آگے نہیں بڑھے۔ رشید یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔ دوبارہ جب وہ ہرن بلندی سے نشیب کی طرف آئے تو پھر بازوں نے اور جانوروں نے حملہ کیا اور ہرنوں نے دوبارہ پھر اس بلندی پر پناہ لے لی اور شکاری جانور اپنے ارادہ سے باز آگئے۔ تیسری مرتبہ پھر یہی صورتِ حال پیش آئی اور ہارون کو سخت حیرت ہوئی۔ اس نے غلاموں کو حکم دیا کہ فوراً جائیں اور کسی ایسےشخص کو لائیں جو اس جگہ کے حالات سے باخبر ہو۔ غلام گئے اور قبیلۂ بنی اسد کے اایک ضعیف شخص کو لے کر آئے۔ ہارون نے اس سے سوال کیا کہ یہ بلندی کیا ہے اور یہاں یہ کیا کیفیت پائی جاتی ہے؟ اس نے کہا کہ اگر میرے لئے امان ہو تو میں اس کا قصہ بیان کر سکتا ہوں۔ ہارون نے خدا سے عہد کیا کہ کوئی اذیت نہ دے گا اور وہ شخص امان میں رہے گا۔ تو اس نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے اپنے آباءو اجداد کے حوالہ سے بتایا ہے کہ اس بلندی پر امیر المومنینؑ کی قبر ہے اور پروردگار عالم نےاس کا حرمِ امن وامان بنا دیا ہے۔ جو شخص بھی اس جگہ پناہ لےلے گا وہ امان میں رہے گا۔