EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
احمی من مجیر الجراد کا قصہ
حقیر مؤلّف کا کہنا ہے کہ عرب میں یہ مثل رائج ہے کہ‘‘ احمیٰ من مجیر الجراد’’ یعنی فلاں شخص اس سے زیادہ حفاظت کرنے والا ہے جتنی پناہ اس شخص نے دی تھی جو ٹڈیوں کی حفاظت کرنے والا تھا اور اس کا قصہ یہ ہے کہ قبیلۂ بنی طے کا ایک صحرا نشین جس کانام مدلج بن سوید تھا ایک دن اپنے خیمہ میں بیٹھا ہوا تھاکہ اس نے دیکھا کہ بنی طے کی ایک جماعت آئی جو اپنے ساتھ مخلتف ظرف لئے ہوئے تھے تو اس نے پوچھا کہ خیریت ہے۔ کہا کہ یہاں ٹڈیاں آپ کے خیمہ کے اطراف میں بہت آ گئی ہیں ہم انھیں پکڑنے کے لئے آئے ہیں۔ اس نے یہ سنا تو فوراً گھوڑے پر سوار ہو گیا اور اپنا نیزہ اٹھا کر سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور کہا کہ خدا کی قسم اگر کسی نے ان ٹڈیوں کو ہاتھ بھی لگایا تو میں اس کا ذبح کر دوں گا یہ ٹڈیاں جو میرے خیمہ کی پناہ میں آئی ہیں تم انھیں پکڑنا چاہتے ہو؟ یہ نہیں ہو سکتا ہے اور پھر مسلسل ان کی حمایت میں مصروف رہا یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو گیا اور ٹڈیاں اڑ گئیں۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ اب یہ میرے جوار سے چلی گئی ہیں لہٰذا تم لوگ انھیں پکڑ سکتے ہو۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎
لُذْ اِلٰى جُوْدِهِ تَجِدْهُ زَعِيْمًا
بِنَجَاةِ الْعُصَاةِ يَوْمَ لِقَاهَا
عَاۤئِدٌ لِلْمُؤَمِّلِيْنَ مُجِيْبٌ
سَامِعٌ مَا تُسِرُّ مِنْ نَجْوَاهَا
دارالسلام میں شیخ دیلمی سے نقل کیا گیا ہے کہ نجف کے بزرگوں کی ایک جماعت نے روایت کی ہے کہ کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس شہر مقدس میں جتنی قبریں ہیں سب سے ایک رسی کا سرا نکلا ہوا ہے جو قبلۂ امیرالمومنینؑ سے ملا ہوا ہے تو اس نے برجستہ یہ شعر کہا؎
اِذَا مُتُّ فَادْفِنِّيْ اِلٰى جَنْبِ حَيْدَرٍ
اَبِيْ شَبَّرٍ اَكْرِمْ بِهِ وَ شُبَيْرٍ
فَلَسْتُ اَخَافُ النَّارَ عِنْدَ جِوَارِهِ
وَ لَا اَتَّقِيْ مِنْ مُنْكَرٍ وَ نَكِيْرٍ
فَعَارٌ عَلٰى حَامِي الْحِمٰى وَ هُوَ فِي الْحِمٰى
اِذَا ضَلَّ فِي الْبَيْدَاۤءِ عِقَالُ بَعِيْرٍ