EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
زیارت کرتے وقت نامحرموں سے باتیں کرنے کا ذکر
مؤ لّف: شیخ کے ان کے کلمات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور حاضر میں کس قدر یہ بدترین صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے عورتیں زیارت کے بہانے اپنے کو آراستہ کر کے بہترین لباس پہن کر گھروں سے نکلتی ہیں اور اس کے بعد حرم مطہر میں نا محرموں کے شانہ بہ شانہ داخل ہوتی ہیں کہ ایک کا جسم دوسرے سے ٹکراتا ہے یا ضریح کے پاس چپک کر کھڑی ہو جاتی ہیں یا جہاں لوگ مشغول زیارت ہوتے ہیں وہاں سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں اور وہ لوگ جو اللہ کے عبادت گذار بندے ہیں ان کی توجہات کو اپنی طرف جذب کر لیتی ہیں۔زائرین اور نمازی اور گریہ و زاری کرنے والے افراد اپنے کام سے رہ جاتے ہیں اور اس طرح ان عورتوں کا شمار ان لوگوں کے گروہ میں ہو جاتا ہےجو راہِ خدا سے روکنے والے ہیں۔ حقیقت امر یہ ہے کہ اس طرح کی زیارت کو منکرات میں شمار ہونا چاہیئے نہ کا عبادات میں اور اس کا مہلکات میں داخل ہونا چاہیئے نہ کہ اسباب قرب الٰہی میں۔
امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ امیرالمومنینؑ نے اہل عراق سے فرمایا تھا کہ
‘‘اے اہل عراق مجھے خبر دے دی گئی ہے کہ تمہاری عورتیں راستہ میں مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتی ہیں۔ کیا تمھیں حیا نہیں آتی کہ بازار میں تمہاری عورتوں کا ٹکراؤ دوسروں کے ساتھ ہو۔’’
یہ بھی فرمایا کہ ‘‘خدا اس شخص پر لعنت کرے جس کے پاس حیا اور غیرت نہ ہو۔ من لا یحضر ہ الفقیہ مین اصبغ بن نباتہ نے امیرالمومنینؑ سے نقل کیا ہے کہ میں نے حضرت کی زبان سے یہ ارشاد سنا ہے کہ آخری زمانہ میں اور قرب قیامت کے دور میں جو بدترین زمانہ ہو گا ایسی عورتیں بھی نکل پڑیں گی جو بے حجاب ہوں گی۔ جن کا لباس نہ ہو نے کے برابر ہوگا۔ آرائش کر کے نکلیں گی۔ فتنہ میں داخل ہو جائیں گی اور دین سے خارج ہو جائیں گی۔ ان کا میلان خواہشات کی طرف ہو گا اور ان کی تیز رفتاری لذتوں کی طرف ہو گی۔ وہ حرام کو حلال بنا دیں گی اور نتیجہ میں جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی۔’’۲۸بہتر یہ ہے جس زمانہ میں زائرین زیادہ ہوں، جو افراد ضریح تک پہنچ جائیں وہ اپنی زیارت کو مختصر کر کے فوراً باہر چلے جائیں تاکہ دوسرے لوگ بھی ضریح تک پہنچنے کا شرف حاصل کر سکیں۔ہم اس سلسلے میں زیارت امام حسینؑ کے ذیل میں ان آداب کا بھی ذکر کریں گے جو مزید زیارت امام حسینؑ کے ذیل میں نقل کئے گئے ہیں۔