EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
فضیلت زیارت ابو عبداللہ الحسینؑ اور ان کے آداب
جن کا لحاظ رکھنا حضرت کے ہر زائر کے لئے ضروری ہے۔ راہِ زیارت میں اور حرم مطہر میں۔ آپ کی کیفیتِ زیارت کے بارے میں تین مقاصد ہیں؛۔
پہلا مقصد: فضیلت زیارت امام حسین علیہ السلام۔
واضح رہے کہ امام حسینؑ کی زیارت کے فضائل احاطۂ بیان سے باہر ہیں اور اکثر روایات میں یہ وارد ہوا ہے کہ یہ زیارت حج و عمرہ اورجہاد کے برابر ہے بلکہ اس سے بدرجہا بہتر و افضل ہے۔ یہ زیارت باعثِ مغفرت اور موجبِ بلندیِ درجات و جابتِ دعا و سببِ طولِ عمر و حفظِ جان ومال و آبرو ہے۔ اس سے رزق میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔ ہم و غم دورہوتا ہے اور زیارت کو ترک کر دینا دین و ایمان میں نقص اور پیغمبرؐ کے حقوق میں کوتاہی کے مترادف ہے۔ اس زیارت کا کم سے کم ثواب یہ ہے کہ زائر کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں پروردگار اس کے جان و مال کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اپنے گھر واپس آجائے۔ اکثر روایات میں یہ بھی ہے کہ زیارت ہم و غم کو زائل کرتی ہے۔ جاں کنی کو آسان بناتی ہے اور ہول قبر کو برطرف کر دیتی ہے۔ اس راہ میں خرچ ہونے والا ہر درہم، ہزار بلکہ دس ہزار درہم کے برابر شمار ہوتا ہے۔ جب کوئی انسان قبر امام حسینؑ کا ارادہ کرتا ہے تو چار ہزار فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اور جب واپس ہوتا ہے تو اسے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ آپ کی زیارت کے لئے پیغمبرؐ، اولیاء اور ائمہ معصومینؑ اور ملائکہ سب حاضر ہوتے ہیں اور زائرین کے حق میں دعا کرتے ہیں اور انھیں بشارت دیتے ہیں کہ پروردگار ان زائرین امام حسینؑ پر میدانِ عرفات میں حاضر ہونے والوں سے زیادہ نگاہِ رحمت رکھتا ہے اور ہر شخص روزِ قیامت اس بات کی آرزو کرے گا کہ کاش وہ بھی زائرین حسینؑ میں ہوتا کہ اس نے ان زائرین کی کرامت و بزرگی کا مشاہدہ کر لیا ہو گا۔
اس ذیل میں روایات بے شمار ہیں۔ ہم زیارات مخصوص کے ذیل میں کچھ زیارات کے فضائل کا ذکر کریں گےاور اس مقام پر فقط جناب ابن قولویہؒ، کلینیؒ، ابن طاؤسؒ اور دوسروں کی نقل کی ہوئی اس روایت پر اکتفا کرتے ہیں جس کو معتبر اسناد کے ساتھ جلیل القدرثقہ معاویہ بن وہب بجلی کوفی سے نقل کیا گیا ہے کہ میں امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر تھا۔ دیکھا کہ آپ مصلے پر مشغول نماز ہیں تو میں بیٹھ گیا۔جب آپ نے نماز تمام کی تو میں نے دیکھا کہ آپ پروردگار سے مناجات کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ‘‘اے وہ پروردگار جس نے ہمیں کرامت عطا کی ہے اور ہم سے شفاعت کا وعدہ کیا ہے اور ہمیں علوم رسالت دے کر پیغمبروں کا وارث بنا دیا ہے اور ہمیں آخری امت میں قرار دے کر ہم کو وصیتِ پیغمبرؐ سے مخصوص کیا ہے اور ہمیں ماضی اور مستقبل کا علم دیا ہے اور لوگوں کے دلوں کو ہماری طرف مائل کر دیا ہے۔
‘‘اغفرلی ولاخوٰنی وزوّار قبرِ ابیٖ الحسینِ بن علیٍ صلواتُ اللہِ علیھما’’
مجھے اور میرے برادرانِ ایمانی اور زائرینِ قبرِ حسینؑ کو بخش دے۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنے مال کو خرچ کیا ہے، اپنے شہروں سے نکل پڑے ہیں، ہمارے ساتھ نیکی کی ہے اور اس صلۂ رحم میں تیرے ثواب کی امید رکھی ہے۔ تیرے پیغمبرؐ کو خوش کرنا چاہا ہے۔ تیری خوشنودی کے لئے تیرے دشمنوں کو ناراض کیا ہے۔ پروردگار میری طرف سے انھیں یہ بدلہ دے کہ ان سے خوش ہو جا اور شب و روز ہر وقت ان کی حفاظت فرما اور اہل و عیال و اولاد جنھیں وطن میں چھوڑ کر آئے ہیں، سب کی حفاظت فرما اور ان کا رفیق ہو جا۔ ان سے ہر طرح کے ظالم و جابر کے شر کو دور فرما اور جن و انس کے شیاطین سے انھیں محفوظ فرما، جو ان کی امیدیں ہیں ان سے زیادہ عطا فرما اور جو انھوں نے وطن سے دوری اختیار کی ہے اور ہمیں اپنے مال و اولاد پر مقدم رکھا ہے۔ خداوند اہمارے دشمنوں نے ان کو اس راہ پر نکلنے پر طعنے دیئے ہیں مگر اس کے بعد بھی انھوں نے اپنے ارادوں کو تبدیل نہیں کیا اور نکل پڑے ہیں لہٰذا ان کے ان چہروں پر رحمت نازل کرنا جنھیں آفتاب کی گرمی نے جھلسا دیا ہےاور ان رخساروں پر رحمت نازل فرما جو قبر حسینؑ پر رکھے جا رہے ہیں۔ خدایا رحم کرنا ان آنکھوں پر جو ہمارے حال پر گریہ کر رہی ہیں اور رحم کرنا ان دلوں پر جو ہمارے غم میں بے قرار ہیں۔رحم کرنا ان نالۂ و شیون پر جو ہماری مصیبت میں بلند ہو جائے۔ خدایا میں ان تمام ارواح و اجسام کو تیرے حوالہ کرتا ہوں تا کہ تو انھیں روز تشنگی محشر حوض کوثر سے سیراب کر دے۔
اور اسی طرح حضرت مسلسل سجدہ میں دعا کرتے رہے۔ جب فارغ ہوئے تو میں نےعرض کیا کہ یہ دعا جو میں نے آپ سے سنی ہے یہ تو اگر کسی ایسے شخص کے حق میں بھی کر دئ جائے جو خدا کو پہچانتا ہوتو میرا خیال ہے کہ وہ آتشِ جہنم سے بچ جائے گا۔ خدا کی قسم یہ دعا سن کر مجھے یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں نے حج مستحب کے بجائے حضرت کی زیارت کر لی ہوتی تو آنحضرت نے فرمایا کہ تم تو بہت قریب ہو۔ تمہیں زیارت سے کس چیز نے روک رکھاہے۔ اے معاویہ دیکھو اس زیارت کو ترک نہ کرنا۔ میں نے عرض کی۔ میں آپ پر قربان مجھے نہیں معلوم تھا کہ زیارت میں اس قدر فضیلت ہے۔ فرمایا کہ معاویہ وہ لوگ کہ جو حضرت کی زیارت کرنے والوں کے حق میں دعا کرتے ہیں وہ آسمان میں ان سے کہیں زیادہ ہیں جس قدر زمین میں ہیں۔ خبردار میری زیارت کو کسی کے خوف سے بھی ترک نہ کرنا جو شخص کسی کے خوف سے ترک کر دے گا روز قیامت حسرت کا شکار ہو گا اور آرزو کرے گا کاش حضرت کی قبر کے پاس اس قدر رہتا کہ وہیں ختم ہو جاتا۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ پروردگار تمہیں ان کے درمیان قرار دے جن کے حق میں رسولِ اکرمؐ، حضرت علیؑ و فاطمہؐ اور ائمہ معصومینؑ دعا کرتے ہیں۔کیا نہیں چاہتے ہو کہ ان کے درمیان رہو جن سے ملائکہ روزِ قیامت مصافحہ کریں گے۔ کیا نہیں چاہتے ہو کہ ان میں شامل ہو جاؤ جو قیامت کے دن رسول اکرمؐ سے مصافحہ کرنے والے ہیں۔