EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
امام حسین ع کے حرم میں پڑھے جانے والی دعا
۱۵روضۂ مقدسہ کے اعمال میں سے ایک مظلوم کی بددعا ہے ظالموں کے خلاف۔ لہٰذا مناسب ہے کہ اگر کوئی شخص ظلم ظالم سے پریشان ہے تو اس حرم میں دعا کرے اور وہ دعا وہ ہے جس کا طریقہ شیخ الطائفہ نے مصباح المتہجد میں اعمال جمعہ کے ذیل میں ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ دعائے مظلوم قبر امام حسینؑ کے پاس بہترین ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اَعْتَزُّ بِدِيْنِكَ
وَ اَكْرَمُ بِهِدَايَتِكَ
وَ فُلَانٌ يُذِلُّنِيْ بِشَرِّهِ
وَ يُهِيْنُنِيْ بِاَذِيَّتِهِ
وَ يُعِيْبُنِيْ بِوِلَاۤءِ اَوْلِيَاۤئِكَ
وَ يَبْهَتُنِيْ بِدَعْوَاهُ
وَ قَدْ جِئْتُ اِلٰى مَوْضِعِ الدُّعَاۤءِ
وَ ضَمَانِكَ الْاِجَابَةَ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَ اَعْدِنِيْ عَلَيْهِ السَّاعَةَ السَّاعَةَ
پھر خود کوقبر پر ڈال دے اور کہے
مَوْلَايَ اِمَامِيْ
مَظْلُوْمٌ ۟اِسْتَعْدٰى عَلٰى ظَالِمِهِ
النَّصْرَ النَّصْرَ
اور پھر اس لفظ
کی تکرار کرتا رہے یہاں تک کہ سانس ٹوٹ جائے۔
۱۶اس حرم کے اعمال میں وہ دعا بھی ہے جس کو ابن فہدؒ نے عدۃ الداعی میں امام صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ جب کوئی حاجت پیش آجائے تو بالائے سر امام حسینؑ علیہ السلام کھڑے ہو کر کہے۔
يَاۤ اَبَا عَبْدِ اللّٰهِ
اَشْهَدُ اَنَّكَ تَشْهَدُ مَقَامِيْ
وَ تَسْمَعُ كَلَامِيْ
وَ اَنَّكَ حَيٌّ عِنْدَ رَبِّكَ تُرْزَقُ
فَاسْاَلْ رَبَّكَ وَ رَبِّيْ فِيْ قَضَاۤءِ حَوَاۤئِجِيْ۔
انشاء اللہ حاجت پوری ہو گی۔
۱۷اعمال حرم میں دو رکعت نماز ہے جو بالائے سر سورۂ رحمٰن اور سورۂ تبارک کے ساتھ پڑھی جاتی ہے جس کے بارے میں سید بن طاؤسؒ نے روایت کی ہے کہ جو شخص اس نماز کو پڑھے گا پروردگار اس کے لئے پچیس حج مقبول لکھ دے گا جو رسولؐ اکرم کے ساتھ انجام دیئے ہوں۔
۱۸زیرقبہ کے اعمال میں سے ایک استخارہ بھی ہے جس کی کیفیت علامہ مجلسیؒ نے نقل کی ہے اور اصل روایت قرب الاسناد حمیری سے ہے جو وہاں سند صحیح کے ساتھ امام صادقؑ سے نقل کی گئی ہے کہ جو شخص بھی کسی معاملہ میں پروردگا رسے سو مرتبہ طلب خیرکرے۔ اس طرح کہ بالائے سر امام حسینؑ کھڑے ہو کر کہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ
سُبْحَانَ اللهِ
اور اس کے بعد خدا کی بزرگی کو یاد کر کے اس کی حمد و ثنا کرے اور سو مرتبہ پروردگار سے طلب خیر کرے یقیناً پروردگار اس خیر کو عطا فرمائے گا اور دوسری روایت کے مطابق طلب خیر کے لئے سو مرتبہ پڑھے۔
اَسْتَخِيْرُ اللهَ بِرَحْمَتِهِ خِيَرَةً فِىْ عَافِيَةٍ
۱۹شیخ اجل کامل ابوالقاسم جعفر بن قولویہ قمیؒ نے روایت کی ہے امام جعفر صادقؑ سے کہ آپ نے فرمایا کہ امام حسینؑ کی زیارت کے لئے جاتے وقت خاموشی کا خیال رکھو اور صرف کارِ خیر کے لئے زبان کھولو اور رات دن آسمان سے ملائکہ نازل ہو کرحرم میں موجود ملائکہ سے مصافحہ کرتے ہیں لیکن حرم میں موجود ملائکہ شدّتِ گریہ کی بنا پر ان کا جواب نہیں دیتے اور مسلسل روتے رہتے ہیں اور صرف زوال اور طلوع فجر کے وقت خاموش ہوتے ہیں۔ چنانچہ آنے والے ملائکہ فجر یا ظہر کا انتظار کرتے رہتے ہیں تا کہ ان سے کچھ گفتگو کر سکیں تو وہ ان سے آسمان کے بارے میں کچھ سوال کرتے ہیں ورنہ اس کے علاوہ پورے وقت وہ خاموش نہیں ہوتے یا دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں یا گریہ کرتے ہیں۔ نیز آنحضرت سے ہی روایت ہے کہ خداوند عالم نے حرم امام حسینؑ پر چار ہزار فرشتے معین کئے ہیں جن کے بال الجھے ہوئے اور گرد آلود مصیبت زدہ افراد کی طرح ظہر تک گریہ کرتے رہتے ہیں اور ظہر کے وقت چار ہزار فرشتے اور آجاتے ہیں تویہ واپس چلے جاتے ہیں اور وہ طلوعِ صبح تک مسلسل روتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی اور بھی احادیث کثرت کے ساتھ موجود ہیں جن سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حرم میں جا کر آپ پر گریہ کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ ایک محبوب اور پسندیدہ عمل ہے اور اسے اس مبارک حرم کے اعمال میں شمار کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ شیعوں کے لئے حضرت پر گریہ کرنے اور مرثیہ پڑھنے یا نوحہ و ماتم کے لئے بیت الاحزان ہے۔ اور صفوان نے امام صادقؑ سے ہی روایت کی ہے کہ ملائکہ خداوند عالم کی بارگاہ میں گریہ و زاری کے ساتھ قاتلین امیرالمومنینؑ اور امام حسینؑ پر مسلسل لعنت کرتے رہتے ہیں اور آپ پر جنات کو نوحہ یا حرم کے گرد موجود ملائکہ کے غم و اندوہ اور گریہ کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی اسے سن لے تو کھانا پینا اور سوناچھوڑ دے گا۔ حدیث عبداللہ حماد بصری کے مطابق امام جعفر صادقؑ نے ان سے فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ کوفہ اور اس کے اطراف یا دوسری جگہوں سے مرد اور عورتیں امام حسینؑ کی قبر پر نیمۂ شعبان میں آکر گریہ و زاری کرتے ہیں۔ بعض تلاوت اور بعض مصائبِ کربلا پڑھتے ہیں اور بعض مرثیہ اور نوحہ پڑھتے ہیں۔ میں نے عرض کی میری جان آپ پر قربان یہ منظر میں نے بھی دیکھا ہے تو آپ نے فرمایا خداوندعالم کا شکر ہے جس نے ایسے لوگ پیدا کئے ہیں جو ہمارے پاس آکر ہماری مدح کرتے ہیں اور ہمارے لئے مرثیہ پڑھتے ہیں جب کہ ہمارے دشمن ان کو طعنہ دیتے ہیں اور انھیں ڈراتے یا دھمکاتے ہیں اور ان کے کاموں کو برا سمجھتے ہیں۔ اسی روایت کی ابتدا میں یہ بھی ہے کہ لوگ امام حسینؑ کی زیارت کو جاتے ہیں اور گریہ کرتے ہیں اور جو نہیں جا سکتے ان کی مصیبت میں غمگین رہتے ہیں اور جو انھیں یاد کرتے ہیں اور دعائے رحمت کرتے ہیں، جو ان کے پائین پاا ن کے فرزند کی قبر کا تصور کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس بیابان مین تھے جہاں ان کا کوئی دوست اور قریب نہیں تھا۔ لوگوں نے ان کے حق کو غصب کر لیا ہے اور کچھ کا فرو مرتَد افراد نے جمع ہو کر اور ایک دوسرے کی مدد کر کے انھیں شہید کر دیا اور لاش کو بے گورو کفن چھوڑ دیا اور ان پر فرات کا وہ پانی بھی بند کر دیا جس کو جانور تک پی رہے تھے۔ اور رسولؐ خدا کے حق اور ان کی اہلبیتؑ کے بارے میں وصیت کو بھی ضائع کر دیا۔ نیز ابن قولویہ نے حارث اعور سے روایت کی ہے کہ امیرالمومنینؑ نے فرمایا کہ میرے ماں باپ قربان ہو جائیں حسینؑ شہید پر جسے پشت کوفہ پر شہید کر دیا گیا۔ خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ صحرائی جانور اپنا سر اٹھائے ہوئے ان کی قبر کے گرد جمع ہو رہے ہیں اور اوّل شب سے صبح تک گریہ کر رہے ہیں
‘‘اور جب ایسا تو خبردار تم ان پر ظلم نہ کرنا۔’’
غرض کہ اس باب میں روایات بہت ہیں۔