EN اردو RO AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
پہلی زیارت مطلقہ
یہ زیارتیں بہت ہیں لیکن ہم اس مقام پر صرف چند زیارتوں کو بیان کر رہے ہیں۔
زیارت اوّل: شیخ کلینیؒ نے کافی میں اپنی سند کے ساتھ حسین بن سوید سے روایت کی ہے کہ میں اور یونس بن ظبیان اور مفصل بن عمر اور ابوسلمہ سراج امام جعفر صادقؑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھےاور ہمارے درمیان یونس ترجمانی کر رہے تھے کہ وہ سن و سال میں ہم سب سے بزرگ تھے انھوں نے حضرت سے عرض کی کہ میں آپ پر قربان! میں اس قوم یعنی اولاد عباّس کی محفل میں حاضر ہوتا ہوں تو کیا کہا کروں؟
فرمایا کہ جب وہاں حاضر ہو اور مجھے یاد کرو تو کہو کہ خدایا ہمیں آسانی اور سرور عطا فرما۔
اَللّٰهُمَّ اَرِنَا الرَّخَاۤءَ وَ السُّرُوْرَ
کہ جوکچھ بھی ہم سے چاہتے ہو وہ رجعت میں بہرحال مل جائے یاد کرتے ہیں تو ایسے وقت میں کیا کہیں؟فرمایا کہ تین مرتبہ کہو ۔
صَلَى اللهُ عَلَيْكَ يَاۤ اَبَا عَبْدِ اللهِ
یہ سلام نزدیک یا دور جہاں سے بھی ہو حضرت تک پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ جب امام حسینؑ شہید ہو گئے تو آپ کے اوپرساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں نے اور ان کے درمیان جو کچھ تھا سب نے گریہ کیا۔ اہلِ بہشت و دوزخ اور جو مخلوقات نظر آتی ہیں یا نظر نہیں آتی ہیں سب نے آپ پر گریہ کیا۔ صرف تین چیزوں نے گریہ نہیں کیا۔ میں نے عرض کیا، میں آپ پر قربان وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ فرمایا۔بصرہ، دمشق اور آل عثمان۔ میں نے عرض کی میں چاہتاہوں کہ آنحضرت کی زیارت کے لئے جاؤں تو کیا کہوں اور کیا کروں؟ فرمایا کہ جب آپ کی زیارت کے لئے جاؤ تو پہلے فرات میں غسل کرو۔ اس کے بعد پاکیزہ لباس پہن کر پا برہنہ حرم کی طرف جاؤ جب کہ وہ حرم خدا و رسولؐ ہے۔راستہ میں مسلسل کہتے رہو۔
یا ہر وہ ذکر جس میں عظمتِ پرودگار پائی جاتی ہو اور محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات پڑھو یہاں تک کہ حرم کے دروازہ پر پہنچ جاؤ تو کہو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ وَ ابْنَ حُجَّتِهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا مَلَاۤئِكَةَ اللّٰهِ
وَ زُوَّارَ قَبْرِ ابْنِ نَبِيِّ اللّٰهِ
اس کے بعد دس قدم آگے بڑھ کر ٹھہر جاؤاور بیس مرتبہ کہو ۔
اَللهُ اَكْبَرُ
اس کے بعد قبر کی جانب آگے بڑھواور امام کا چہرہ کے مقابل پشت بقبلہ کھڑ ےہو کر کہو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ وَ ابْنَ حُجَّتِهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا قَتِيْلَ اللّٰهِ وَ ابْنَ قَتِيْلِهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ثَارَ اللّٰهِ وَ ابْنَ ثَارِهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وِتْرَ اللّٰهِ الْمَوْتُوْرَ فِيْ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
اَشْهَدُ اَنَّ دَمَكَ سَكَنَ فِي الْخُلْدِ
وَ اقْشَعَرَّتْ لَهُ اَظِلَّةُ الْعَرْشِ
وَ بَكٰى لَهُ جَمِيْعُ الْخَلَاۤئِقِ
وَ بَكَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَ الْاَرَضُوْنَ السَّبْعُ
وَ مَا فِيْهِنَّ وَ مَا بَيْنَهُنَّ
وَ مَنْ يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ وَ النَّارِ مِنْ خَلْقِ رَبِّنَا
وَ مَا يُرٰى وَ مَا لَا يُرٰى
اَشْهَدُ اَنَّكَ حُجَّةُ اللّٰهِ وَ ابْنُ حُجَّتِهِ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ قَتِيْلُ اللّٰهِ وَ ابْنُ قَتِيْلِهِ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ ثَارُ اللّٰهِ وَ ابْنُ ثَارِهِ [ثَاۤئِرُ اللّٰهِ فِي الْاَرْضِ وَ ابْنُ ثَاۤئِرِهِ‏]
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ وِتْرُ الْمَوْتُوْرُ فِيْ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَ نَصَحْتَ
وَ وَفَيْتَ وَ اَوْفَيْتَ
وَ جَاهَدْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
وَ مَضَيْتَ لِلَّذِيْ كُنْتَ عَلَيْهِ شَهِيْدًا وَ مُسْتَشْهِدًا
وَ شَاهِدًا وَ مَشْهُوْدًا
اَنَا عَبْدُ اللّٰهِ وَ مَوْلَاكَ
وَ فِيْ طَاعَتِكَ وَ الْوَافِدُ اِلَيْكَ
اَلْتَمِسُ كَمَالَ الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ اللّٰهِ
وَ ثَبَاتَ الْقَدَمِ فِي الْهِجْرَةِ اِلَيْكَ
وَ السَّبِيْلَ الَّذِيْ لَا يَخْتَلِجُ دُوْنَكَ
مِنَ الدُّخُوْلِ فِيْ كِفَالَتِكَ الَّتِيۤ اُمِرْتَ [اَمَرْتَ‏] بِهَا
مَنْ اَرَادَ اللّٰهَ بَدَاَ بِكُمْ
بِكُمْ يُبَيِّنُ اللّٰهُ الْكَذِبَ
وَ بِكُمْ يُبَاعِدُ اللّٰهُ الزَّمَانَ الْكَلِبَ
وَ بِكُمْ فَتَحَ اللّٰهُ
وَ بِكُمْ يَخْتِمُ اللّٰهُ
وَ بِكُمْ يَمْحُوْ مَا يَشَاۤءُ وَ [بِكُمْ‏] يُثْبِتُ
وَ بِكُمْ يَفُكُّ الذُّلَّ مِنْ رِقَابِنَا
وَ بِكُمْ يُدْرِكُ اللّٰهُ تِرَةَ كُلِّ مُؤْمِنٍ يُطْلَبُ بِهَا
وَ بِكُمْ تُنْبِتُ الْاَرْضُ اَشْجَارَهَا
وَ بِكُمْ تُخْرِجُ الْاَرْضُ ثِمَارَهَا
وَ بِكُمْ تُنْزِلُ السَّمَاۤءُ قَطْرَهَا وَ رِزْقَهَا
وَ بِكُمْ يَكْشِفُ اللّٰهُ الْكَرْبَ
وَ بِكُمْ يُنَزِّلُ اللّٰهُ الْغَيْثَ
وَ بِكُمْ تُسَبِّحُ [تَسِيْخُ‏] الْاَرْضُ الَّتِيْ تَحْمِلُ اَبْدَانَكُمْ
وَ تَسْتَقِرُّ جِبَالُهَا عَنْ [عَلٰى‏] مَرَاسِيْهَا
اِرَادَةُ الرَّبِّ فِيْ مَقَادِيْرِ اُمُوْرِهِ تَهْبِطُ اِلَيْكُمْ
وَ تَصْدُرُ مِنْ بُيُوْتِكُمْ
وَ الصَّادِرُ عَمَّا فُصِّلَ مِنْ اَحْكَامِ الْعِبَادِ
لُعِنَتْ اُمَّةٌ قَتَلَتْكُمْ
وَ اُمَّةٌ خَالَفَتْكُمْ
وَ اُمَّةٌ جَحَدَتْ وِلَايَتَكُمْ
وَ اُمَّةٌ ظَاهَرَتْ عَلَيْكُمْ
وَ اُمَّةٌ شَهِدَتْ وَ لَمْ تُسْتَشْهَدْ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ النَّارَ مَأْوَاهُمْ
وَ بِئْسَ وِرْدُ الْوَارِدِيْنَ
وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ
وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
اس کے بعد تین مرتبہ کہے
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكَ يَا اَبَا عَبْدِ اللّٰهِ۔
پھر تین مرتبہ کہے
اَنَا اِلَى اللّٰهِ مِمَّنْ خَالَفَكَ بَرِيۤ‏ءٌ۔
اس کے بعد اٹھ کر قبر فرزند حسینؑ علی اکبرؑ کے پاس جائے اور یہ کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ خَدِيْجَةَ وَ فَاطِمَةَ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكَ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكَ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكَ
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ قَتَلَكَ۔
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ قَتَلَكَ۔
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ قَتَلَكَ۔
اَنَا اِلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ بَرِيۤ‏ءٌ
پھر تین مرتبہ کہے
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ
فُزْتُمْ وَ اللّٰهِ
فُزْتُمْ وَ اللّٰهِ
فُزْتُمْ وَ اللّٰهِ
فَلَيْتَ اَنِّيْ مَعَكُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِيْمًا۔
اس کے بعد اٹھے اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے شہداء کی طرف اور یوں کہے۔
اس کے بعد پلٹ کر قبر حسینؑ کی طرف واپس لوٹے اور قبر مطہر کو اپنے سامنے قرار دے کر پشت قبر پر کھڑا ہو اور ۶ رکعت نماز ادا کرے اور زیارت تمام کر دے پھر اگر واپس جانا چاہتا ہے تو جا سکتا ہے۔
مؤلّف : شیخ طوسیؒ نے تہذیب میں اور صدوقؒ نے من لا یحضر الفقیہ میں اس زیارت کو نقل کیا ہے اور شیخ صدوقؒ نے فرمایا ہے کہ میں نے کتاب مزار و مقتل میں مختلف زیارتیں نقل کی ہیں لیکن اس کتاب کے لئے اس زیارت کا اختیار کیا ہے اس لئے کہ یہ با اعتبار روایت سب سے زیادہ صحیح ترین ہے اور یہی زیارت کافی و وافی ہے۔